تازہ ترین

سمبل سانحہ کیخلاف وادی مشتعل

سرینگر سمیت متعدد علاقوں میں ہڑتال،پرتشدد مظاہرے،متعددمظاہرین اور اہلکار مضروب

14 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

 کمسن بچی کی آبروریزی کرنے والے مجرم کو پھانسی پر لٹکائیے جانے کا مطالبہ 

 
سرینگر//بانڈی پورہ کے سمبل علاقے میں معصوم بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف وادی میں ہڑتال کے بیچ دوسرے روز بھی احتجاجی لہر جاری رہی،جبکہ جنوب و شمال میں اس شیطانی فعل کے خلاف ابال دیکھنے کو ملا۔ سرینگر کے علاوہ بانڈی پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی پر تشدد احتجاجی مظاہرے،ٹیر گیس شیلنگ،پیلٹ کی بارش اور سنگباری دیکھنے کو ملی،جس کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے،جن میں ایک نوجوان شدید طور زخمی ہوا جبکہ پولیس نے بھی دعویٰ کیا کہ مظاہرین سے نپٹنے کے دوران ایک افسر سمیت47اہلکار زخمی ہوئے۔ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں معمول کی زندگی متاثر ہوئی،جبکہ حساس اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ بند رہا،جبکہ شمالی کشمیر کیلئے ریل سروس بھی معطل رہی۔

ہڑتال

سمبل آبروریزی واقعہ کے خلاف حریت(ع) کی اکائی اتحاد المسلمین کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے نتیجے میں شمال و جنوب میں جزوی طور پر ہڑتال کی گئی۔وسطی کشمیر کے علاوہ جنوبی اور شمالی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند تھے،تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت جاری تھی۔اندرون علاقوں میں بھی دکانیں کھلی تھی۔ شہر خاص کے جڈی بل علاقے اور بمنہ علاقے میں مکمل ہڑتال دیکھنے کو ملی،جس کے دوران تمام طرح کی کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی تھی۔ ادھر ہڑتال کے نتیجے میں تعلیمی ادارے بھی مقفل رہیں،اور بیشتر طلاب سرینگر میں اپنے گھروں میں موجود تھے۔ہڑتال کے پیش نظر انتظامیہ نے حساس علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،جبکہ انہیں امن و قانون سے نپٹنے کیلئے چاک و چوبند رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔حساس علاقوں میں اہلکاروں کو سنگبازی سے نپٹنے والے اوزاروں سے لیس کیا گیاتھا،اورا نہیں متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے سوموار کو سرینگر بارہمولہ کو جانے والی ریل سروس روک دی۔ ریلوے حکام کے مطابق سمبل سانحہ کے پیش نظر ریلوے جائیداد اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سوموار کو سرینگر سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ بڈگام اور بانڈی پورہ کے کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی مسلسل انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

شمالی کشمیر

 شر مناک واقعے کے خلاف پٹن علاقے میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران یہاں دن بھر افرا تفری کا ماحول بپا رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق پٹن کے ڑین بل نامی علاقے میں سوموار کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی جنہوں نے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہوئی شرمناک زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھڑک اْٹھے احتجاج میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کے بعد یہاں امن و قانون کو نافذ کرنے والے ادارے موقعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے احتجاج کررہے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقعے پر جونہی پولیس اور سی آر پی ایف نے احتجاج کررہے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو احتجاج میں شامل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے احتجاج کررہے لوگوں کو شاہراہ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کیساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے بعد علاقے میں ہر سو سنسنی پھیل گئی۔ ادھر مظاہرین نے بھی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے نعرے بازی کیساتھ ساتھ سنگ باری کا سلسلہ تیز کردیا تاہم فورسز نے احتجاجیوں کو کچلنے کی خاطر شلنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں میں سے ارشد احمد ڈار سر میں ٹیر گیس شل لگنے کے نتیجے میں بری طرح سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اْن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ میں بھی نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے فورسز پر سنگبازی کی،جبکہ پولیس اور فورسز نے انکا تعاقب کر کے منتشر کیا۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسیکنڈی اسکول بانڈی پورہ میںزیر تعلیم طالبات نے بھی واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے سوموار کی صبح پلان بانڈی پورہ سے نوپورہ چوک تک ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی ۔ ناربل، میر گنڈ، لاوے پورہ شامل ہیں میں لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حرکت بری طرح سے مسدود ہوکے رہ گئی۔ نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق سمبل سے ملحقہ علاقوں میں ہزاروں کی تعداد نے احتجاجی جلوس نکال کر شرمناک واقعہ میں ملوث افراد کو پھانسی دینے کی مانگ کی۔ اس دوران ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کیساتھ ساتھ اندرکوٹ، حاجن، گاڑ کھڈ اور تارزو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مشترکہ طور پر اس دلدوز اور شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق سینٹرل یونیورسٹی کے طلاب نے بھی معصوم بچی کو مبینہ جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج کیا۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق کپوارہ اور ہندوارہ کے ڈگری کالج طلبا وطالبات نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے اور ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ادھر ایمز اسکول نے بھی ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی اور یہاں زیر تعلیم طلاب نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر ’’متاثرہ کو انصاف دو‘‘ اور ’’مجرم کو سزائے موت دو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ادھر نامہ نگار فیاض بخاری کے مطابق سرینگر بارہمولہ قومی شاہرا ہ پر کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دو ایمبلنس گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔مظاہرین مطالبہ کررہے تھے کہ ملوث شخص کوفوری طور پھانسی پر لٹکا یا جائے۔ مظاہروں کے بیچ شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت پورے دن متاثر رہی۔

وسطی کشمیر

شہر خاص کے متعدد علاقوں میں سمبل میں بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج کیا۔  شہر کے جڈی بل،حسن آباد،سعدہ کدل اور رنگر اسٹاپ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سیاہ پرچم ہاتھوں میں لئے احتجاج کرتے ہوئے معصوم بچی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا،جس کے دوران شرمناک فعل میں ملوث ملزموں کو عبرتناک سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا۔  عینی شاہدین کے مطابق اس دوران کئی جگہوں پر فورسز اور نوجوانوں کے درمیان سنگبازی کے واقعات بھی پیش آئے،جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے بھی داغے۔ میر گنڈ ، ناربل اور لاوے پورہ علاقوں میں لوگوں جن میں مرد و خواتین اور نوجوان شامل تھے نے سوموار کی دوپہر کو شاہراہ پر نکل کر شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کررہے لوگوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔ اس موقعے پر احتجاج سے شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی جبکہ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹیر جلانے کیساتھ ساتھ شاہراہ پر موٹے موٹے درختوں کیساتھ ساتھ بھاری بھرکم پتھر بھی رکاوٹ کے طور پر نصب کئے تھے۔پریس کالونی سرینگرمیں سوموار کو یکے بعد دیگر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران مظاہرین نے فلک شگاف نعروں کے ساتھ سمبل آبرو ریزی واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔اتحاد المسلمین نے بھی واقعہ کے خلاف پریس کولونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مجرم کو پھانسی پر لٹکانے کی مانگ کی۔اس موقع پر مولوی مسرور عباس نے بتایا ’ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ اس معصوم کو انصاف دیا جائے۔بانڈی پورہ میں ایک معصوم بچی کی مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف کشمیر ٹریدرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے اس واقعہ کو کشمیری معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔سرینگر کی پریس کالونی میں پیر کو قبل از دوپہر بیسوں تاجر کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے پرچم تلے جمع ہوئے اور سمبل میں پیش آئے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔حاجی محمد صادق بقال نے اس موقع پر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن آف حج اینڈ عمرہ کمپنیز کے بینر تلے ایک احتجاج میں کئی لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے واقعہ کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ حکومت فوری طور کیس کی ہر ممکن تحقیقات کر کے مجرم کو سزا موت دے۔جموں وکشمیر سول سوسائٹی نے بھی واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں کئی طالبات نے شرکت کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ سماج میں ایسے شرمناک سانحہ دوبارہ نہ رونما ہوجائے۔شاہ فیصل کی قیادت والی پیپلز مومنٹ نے بھی سمبل آبرریزی واقعہ کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے بتایا کہ اگر حکومت نے ماضی میں ایسے شرمناک واقعات کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تحقیقات کر کے ملزموں کو سزا دی ہوتی تو آج سمبل سانحہ پیش نہیں آتا۔ ادھر اسلامیک یونیورسٹی اونتی پورہ اور کشمیر یونیورسٹی میں بھی طلاب نے سمبل آبروریزی واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ دہرائی۔کشمیر یونیورسٹی میں احتجاجی طلبہ نے ملزم کے حق میں مبینہ طورنابالغ ہونے کی سند جاری کرنے والے سکول پرنسپل کیخلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

جنوبی کشمیر

جنوبی کشمیر میں قائم اسلامک یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور اس واقع کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مجرم کو قرارواقعی سزادینے کامطالبہ کیا گیا ہے ساتھ ہی اس معاملے کی فاسٹ ٹریک بنیاوں پر کارروائی کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(آئی یو ایس ٹی) سے وابستہ اسٹاف ممبران اور طالب علموں نے سوموار کو یونیورسٹی احاطے میں شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے سمبل علاقے میں ایک کمسن بچی کی آبرو ریزی کے سانحہ کیخلاف احتجاج کیا۔ اس پر امن احتجاجی مظاہرے میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔مظاہرہ کرنے والے طالب علموں اور فیکلٹی ممبران نے مجرم کیخلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے مجرم کو شیطانی صفت انسان قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزادی جائے۔ 

پولیس

 بارہمولہ پولیس نے کہا ہے کہ پٹن میں پْر تشدد مظاہروں کے دوران اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت 47اہلکار مضروب ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ میر گنڈ، ڑینہ بل ، ہاری تار ، سنگھ پورہ ، جیل برج ، کرپال پورہ پائین اور ہانجی ویرہ علاقوں میں مظاہروں نے شاہراہ پر تعینات سیکورٹی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں 47اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق سیکورٹی فورسز نے صبر و تحمل کا مظاہر ہ کیا تاہم اس کے باوجود بھی مظاہرین کی جانب سے فورسز پر پتھراو کرنے کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت 47اہلکار زخمی ہوئے۔ جبکہ جوابی کارروائی میں صرف سات مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت اسپتال میں مستحکم بتائی جارہی ہے۔
 
 
 
 

متاثرہ کم عمر بچی ہم سب کی بیٹی:مزاحمتی قیادت

واقع قابل مذمت اور کشمیری ثقافت پر بد نما داغ 

نیوز ڈیسک
 
 سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق، اورمحمد یاسین ملک نے سمبل بانڈی پورہ میں کم عمر بچی کے ساتھ ہوئی زیادتی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اندوہناک، انسانیت سوز اور دل دہلانے والا واقعہ قرار دیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے اس واقع کو کشمیر کے بہترین سماجی و روحانی کلچر کے منہ پر لگے بدنما داغ سے تعبیر کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ملوث شخص کو عبرتناک اور مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔مشترکہ قیادت کے بقول اس واقع نے نہ صرف ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑا ہے بلکہ ہمارے سر شرم سے جھکائے بھی ہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ واقع نے ہمارے دلوں کو چیرتے ہوئے ہمیں دم بخود کر کے رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو چوکنا رہنے کی اپیل کی کیوں کچھ شرپسند عناصر اور طاقتیں اس واقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں فرقوں اور قبیلوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچی ہم سب کی بچی ہے اور اس کے دکھ درد اور اس کے اہل خانہ کے غم میں نہ صرف ہم برابر کے شریک ہیں بلکہ ان کے پیچھے کھڑے بھی ہیں۔انہوں نے کہا ہم سب چاہتے ہیں کہ ملوث شخص کو قرار واقعی سزا ملے اور بچی اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف ہو۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیری عوام سے اتحاد اور بھائی چارے کو برقرار رکھتے ہوئے صبر، برداشت اور نظم و ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے پر زور دیا۔ 
 

گورنرکا اظہار تاسف

قصوروارکیخلاف سخت کاروائی کی ہدایت

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے بانڈی پورہ ضلع میں تین برس عمر کی بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کو بیہمانہ قرار دیتے ہوئے گہرے دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔اس دلدوز واقعہ کی خبر ملنے کے فوراً بعد گورنر نے فوری طور پر آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی کے ساتھ بات کی اور اس معاملے کی جاری تحقیقات کے عمل کا تفصیلی جائیزہ لیا۔انہوں نے آئی جی پی کو ہدایت دی کہ وہ معاملے کے ساتھ تیزی کے ساتھ نمٹیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قصور وار کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔راج بھون کے ترجمان نے کہا ہے کہ گورنر نے مختلف طبقوں کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بھی بات کی اور اُن پر زور دیا کہ وہ اتفاق رائے کے ساتھ اس واقعہ کی مذمت کریں اور لوگوں سے اپیل کریں کہ وہ پُر امن رہیں اور کسی بھی سماج دشمن عنصر کو سماج میں بد امنی پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں۔گورنر نے والدین، اساتذہ اور معزز شہریوں سے بھی تلقین کی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں اخلاقی اقدار پر مبنی تعلیمات کو فروغ دیں تا کہ ہمدردی ،مساوات اور آپسی روا داری کی بنیاد پر ہمارے سماج کی جڑیں مضبوط ہوسکیں۔
 

 تحقیقات تیز تر بنیادوں پر جاری

صوبائی کمشنر کی آپسی بھائی چارہ اور امن و قانون برقرار رکھنے کی اپیل

سری نگر//صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن ، آپسی بھائی چارے اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھیں ۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ سمبل واقعہ کی تحقیقات تیز تر بنیادوں پر کی جاری ہے اور وہ ذاتی طور پر اس کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تحقیقات کے عمل کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔اُنہوں نے اس عزم کو دُہرایا کہ معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا اور قصور وار کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سز ا دی جائے گی۔کسی بھی شخص کو اگر سمبل واقعہ سے متعلق کوئی شکایت ہے تو وہ ذاتی طور پر ڈویژنل کمشنرکشمیر سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔
 
 
 
 
 
 

ڈی آئی جی شمالی کشمیر سمبل پہنچے

امن وامان برقرار رکھنے کی تلقین 

ارشاد احمد
 
سمبل //سمبل سوناواری میں پیش آئے شرمناک واقعہ کے خلاف اٹھی عوامی لہر کے دوران سوموارکو شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی نے علاقے کا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس کے افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا،اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی محمد سلیمان چودھری نے کہا کہ، "8 مئی شام کو یہ معاملہ پیش آیا اور اس میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے.پچھلے دو ایک دن سے ملزم کی عمر کے بارے میں شک و شبہات پیدا کئے جارہئے تھے اس بارے میں ہم بتاتے چلے کہ جس سکول سے ملزم کی تاریخ پیدائش کی سرٹیفکیٹ اجراء کی گئی ہے اس سکول کا پرنسپل سمیت کچھ اور عملہ کو پوچھ گچھ کی لئے لایا گیا ہیْ۔باقی ہماری طرف سے اس حساس معاملہ کی تحقیقات کرنے کے لئے(SIT) سپیشل تحقیقاتی ٹیم ایس ڈی پی او سمبل کی نگرانی میں تشکیل دی گئی ہے جو باریک بینی سے تحقیقات کو سرانجام دی گی۔ابھی تحقیقات کے حوالے سے ہم میڈیکل رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں جو ہم نے فارنسک لیبارٹری کو بھیجی ہوئی ہے جیسے ہی اس کی رپورٹ موصول ہوگئی اس کی بنا پر کارروائی آگے بڑھے گی۔ہماری عوام سے گزارش ہے کہ امن و امان کو بحال رکھے،قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہ لے