تازہ ترین

صدر ہند کے نام بھیم سنگھ کا میمورنڈم | پارلیمانی انتخابی عمل کو غیرآئینی قراردینے کی مانگ

14 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
جموں// نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور ماہر آئین سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر رامناتھ کووند سے ہندستانی الیکشن کمیشن کے ذریعہ اختیار کردہ انتخابی عمل کو انتخابی قوانین اور رائے دہندگان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور ہندستان کے انتخابی نظام پر منفی اثر ڈالنے والاقرار دینے کی مانگ کی ہے ۔ پروفیسربھیم سنگھ نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ اختیار کردہ انتخابی عمل پر ایک پورا قانونی ا نوٹ تیار کیا ہے اور سات مرحلوں اور تقریباََ دو مہینہ میں انتخابی عمل مکمل کرانے کو انتخابی قوانین کی روح اور رائے دہندگان کے بنیادی حقوق کے بالکل منافی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک میں لوک سبھا انتخابات سات مراحل اور دو مہینوں میں ہوئے ہوں۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں کہیں بھی جہاں جمہوری نظام یا آمریت ہے ایسا نہیں ہوا کہ نئے انتخابات کرانے کے لئے مختلف وقت میں سات نوٹفکیشن جاری کئے گئے ہوں۔یہ ہندستانی جمہوریت کا مذاق ہے جہاں انتخابی ضابطہ اخلاق دو مہینہ تک نافذ رہا  اورتمام ترقیاتی کام رکے رہے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے۔پنتھرس سپریمو نے نام نہاد دانشوران، مفکرین اور سیاسی پنڈتوں کی اس معاملہ میں خاموشی پر حیرت ظاہر کی جن میں سے کوئی بھی اس معاملہ کو لیکر سامنے نہیں آیا۔اس انتخابی طریقہ سے ملک کو بڑے پیمانہ پر خرچ برداشت کرنا پڑااور ریاستی اخراجات کا سو گنا ضائع ہوا۔ایک ریاست میں سات مراحل میں الیکشن کرانا نہ صرف غیرقانونی اور غیرآئینی ہے بلکہ اس طرح سے رائے دہندگان پر بھی باو پڑتا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر جمہوریہ سے تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی میٹنگ بلانے کی مانگ کی جس سے ان کی اس معاملہ میں رائے لی جاسکے۔یہ ہندستانی جمہوریت کے مفاد میں ہوگا جو اس وقت خطرناک دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے صدر سے تمام انتخابی نوٹفکیشنوں کو غیرآئینی اعلان کرنے اور ہندستانی پارلیمنٹ کے انتخابات ایک دن /ایک وقت میں کرانے کا حکم دینے کی مانگ کی۔