تازہ ترین

سمبل سانحہ پر وادی سراپا احتجاج

سرینگر،سمبل اور بڈگام کے کئی علاقوں میں مظاہرے ، انٹرنیٹ کی رفتار مدہم

13 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی+ارشاد احمد
سرینگر+سمبل//سمبل سوناواری مین گذشتہ روز معصوم کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے انتہائی شرمناک واقعے کے خلاف سرینگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔اس دوران انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کیلئے کئی مقامات پر انٹرنیٹ خدمات معطل کردی ہیں ۔سمبل بانڈی سے تعلق رکھے والی ایک3سالہ بچی سے جنسی زیاتی کے خلاف اتوار کو سرینگر میں پے در پے کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے،جس کے دوران اس شیطانی فعل میں ملوث شخص کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ شہر کے صفا کدل علاقے سے متعدد نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جبکہ وہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کتے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔ مظاہرین نے گھنٹہ گھر تک مارچ کیا،اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوئے۔اس دوران ڈلگیٹ سے بھی نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت لالچوک تک احتجاجی جلوس برآمد کرتے ہوئی پہنچی اور گھنٹہ گھر کے نزدیک دھرنا دیا۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جو بعد میں پریس کالونی بھی پہنچنے اور معصوم بچی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث شخص کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جانی چاہے۔ ہیومن رائٹس اینڈ انٹی کورپشن فورم کی طرف سے بھی سرینگر کی پریس کالونی میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا،جنہوں نے معصوم بچی کے ساتھ یکجہتی کے حق اور ملوث افراد کے خلاف مظاہرے کئے۔ احتجاجی مظاہرین میں شامل فورم کے جنرل سیکریٹری آغا محمد ارشد نے بتایا کہ معاشرے کی بے راہ روی اور دین سے دوری کے نتیجے میں اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے مجرم کے حق میں’’جعلی پیدائشی سند‘‘ ایک شرمندہ فعل ہیں،اور ملوث پرنسپل کے خلاف بھی سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔سماجی کارکن اعجاز طالب کی قیادت میں بھی نوجوانوں نے لالچوک میں احتجاج کرتے ہوئے اس شرمناک واقعے میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ علمائے کرام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات کا قلع قمع کرنے کیلئے مہم چلائے۔ شرمناک فعل کے خلاف پائین شہر کے جڈی بل میں جامع احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا۔احتجاجی مظاہرین نے سیاہ پرچم اٹھائے تھے،اور وہ  معصوم بچی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔ مظاہرین نے مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جڈی بل کے اندرون علاقوں کا مارچ کیا،جبکہ فاسٹ ٹریک بنیادوں پر کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بمنہ اور دیگر علاقوں میں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملوث افراد کو عبرتناک سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔اس دوران  سمبل سوناواری میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سینکڑوں افراد نے بڑے پیمانے پر تین سالہ لڑکی کی مبینہ طور پر عصمت دری کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔سمبل سوناواری کے مضافاتی علاقوں شیلوت،ڈانگرپورہ،اندرکوٹ،نوگام،گاڑکھوڈ،شاہتولہ پورہ،شادی پورہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مقامی لوگوں نے سمبل چوک تک احتجاجی جلوس نکال کر تین سالہ لڑکی کی مبینہ عصمت دری میں ملوث افراد کو کڑی سی کڑی سزا دینے کی مانگ کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔اس موقع پر مظاہرین نے سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پرگاڑیوں کی نقل و حرکت بھی بند کردی جس سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ شہباز احمد مرزا اور ایس ایس رہول ملک نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو یقین دہانی کروائی کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے قصور وار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گیا۔ادھر انجمن شرعی شیعیان کے ہزاروں حامیوں نے تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں قصبہ بڈگام میں اس سانحہ کے خلاف احتجاجی جلوس برآمد کیا مظاہرین  نے متاثرہ معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے اور مجرم کو ابرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ ایسے انسانیت سوز سانحات رونما نہ ہو سکے اس موقع پر آغا سید حسن نے مذکورہ سانحہ کو انسانیت سوز اور درندگی کی حد انتہا قرار دیتے ہوئے انصاف و انسانیت پسند حلقوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر اس ظلم عظیم اور وحشیانہ حرکت کے خلاف آواز بلند کریں اور متاثرہ بچی کو انصاف دلانے میں اپنی انسانی ذمہ داریاں ادا کریں آغا حسن نے کہا کہ ماہ مبارک کے دوران اس طرح کا روح فرسا سانحہ رونما ہونا ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والے انصاف پسند لوگوں پر پولیس تشدد اور کچھ مقامات پر رہبر معظم اور حضرت امام خمینی ؒ کے تصاویر کی پولیس کے ہاتھوں بے حرمتی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت متاثرہ بچی کے
معاملے میں کسی گہری مصلحت سے کام لے رہی ہے ۔اور معاملے کو کوئی اور رُخ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
 
 
 
 

ایس ڈی پی اوکی سربراہی میں سیٹ تشکیل ،تحقیقات شروع

ارشاد احمد

سمبل //سمبل سوناواری میں کمسن بچی کی عصمت دری کا واقعہ پیش آنے کے بعد ضلع انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سپیشل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ایس ڈی پی او سمبل کی نگرانی بنائی گئی ہے ۔ٹیم کو معیاد بند وقت میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ان باتوں کی جانکاری ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ شہباز مرزا نے کشمیر عظمی کے ساتھ بات کرتے ہوئے دی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ شرپسند عناصر ماحول کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں جنہوں نے افواہیں پھیلاکر پورے علاقے میں امن وامان کو خلل پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے مجبوراً ہمیں سمبل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں انٹرنیٹ  بند کرنا پرا جبکہ سوموار 13 مئی 2019 کو سمبل کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے ۔اس دورا ن ایس ایس پی بانڈی پورہ رہول ملک نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ، "اس معاملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ہم نے باضابط ایک خصوصی ٹیم ایس ڈی پی او سمبل کی زہر نگرانی تشکیل دی ہے جس میں ایس ایچ او سمبل سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں جو مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرینگئے اور قانون کے مطابق کارروائی انجام دی جائے گی۔