تازہ ترین

بی ایس پی کو راجستھان حکومت سے اپنی حمایت واپس لینی چاہئے : مودی

13 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 کشی نگر/دیوریا//بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی پر راجستھان کے الور میں پیش آئے اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ گھڑیالی آنسو بہانے کے بجائے بی ایس پی کو ریاستی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لینی چاہئے ۔مسٹر مودی نے سوال کیا کہ بہن جی نے الور واقعہ کو مذمت کی ہے لیکن وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کیا کہ بی ایس پی راجستھان میں کانگریس حکومت کو حمایت دے رہی ہے ۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں دلتوں کے لئے فکر مند ہیں تو پھر وہ ریاستی حکومت سے اپنی حمایت واپس کیوں نہیں لے لیتیں۔پہلے کشی نگر اور پھر دیوریا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے پورے اپوزیشن پر اصل مسائل کو نظر انداز کرنے اور ‘ہوا تو ہوا’ جیسا تبصرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مودی نے کہا کہ ان کے پاس صرف ایک جواب ہے اور وہ ہے ‘ہوا تو ہوا’ جو عوام کے تئیں ان کے غرور کو ثابت کرتا ہے ۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی نیت صحیح نہیں ہے ۔وہ کچھ بھی کرنا نہیں چاہتے ہیں۔کسی بھی مسئلہ کے تئیں ان کا رویہ‘ہوا تو ہوا’ ہے ۔میں نے گذشتہ پانچ سالوں میں ان کے اس رویہ کو تبدیل کیا ہے ۔دیوریا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی میں دہشت گردی سے نپٹنے کی طاقت نہیں ہے ۔ ان کے پاس ملک کی ترقی کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ غریب عوام نے کانگریس ایس پی۔اور بیا یس پی اقتدار میں لانے میں اہم کردا ر ادا کیا اور بعد میں انہیں پارٹیوں نے غریبوں کو لوٹا۔ان پارٹیوں کے لیڈروں نے غریبوں کے ساتھ مذاق کیا ہے ۔اور انہیں دھوکہ دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں غریبی غریبوں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ غریبوں کو لوٹنے کی وجہ سے ملک میں غریبی ہے ۔کچھ لوگوں نے غریبوں کی زندگی کو بدتر بنا دیاہے ۔کانگریس، ایس پی۔ بی ایس پی دہشت گردی سے نپٹنے نہ کہ طاقت ہے اور نہ ہی اس کے تئیں وہ سنجیدہ ہیں۔یہ پارٹیاں گلی کے غنڈوں پر تو لگام لگا نہیں سکتیں تو دہشت گردی پر کیا لگام لگائیں گی۔انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آج ایک بار پھر سیکورٹی اہلکار نے دہشت گردوں کو مارگرایا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے جب دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو کچھ لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ جب پولنگ چل رہی ہے تو مودی دہشت گردوں کو کیوں ماررہا ہے ؟کیا جب ایک مسلح دہشت گردہمارے جوانوں پر حملہ کرے تو وہ اس کا منھ توڑ جواب دینے کے بجائے اس ضمن میں الیکشن کمیشن سے اجازت لینے جائے ۔انہوں نے مزید کہاکہ دہشت گردوں کے ختم کرنے کے لئے میرا موٹو ایک دم واضح ہے اور ایسا ہر دوسرے اور تیسرے دن جاری رہے گا۔ اگر ملک کے شرر انگیز افراد سے پچانے کے لئے ضرورت پڑی تو کوئی بھی مجھے ان کے گھر میں گھس کر مارنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ملک کے ساتھ ساتھ یو پی میں ایس پی ۔ بی ایس پی اور کانگریس کوکنبہ پروری و بدعنوانی کے لئے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان تمام کا صرف اور صرف ایک مدعا ہے اور وہ دولت اکٹھا کرنا اور اپنے کنبے کی جیب بھرنا ہے ۔گجرات میں ایک لمبے عرصے تک وزیر اعلی رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں ان بوا۔ بیوا کے میعاد کار سے بھی لمبے عرصے تک گجرات کا وزیر اعلی رہا ہوں۔ لیکن کیا میرے پاس کو بنگلہ یا پراپرٹی ہے ۔ میرا کوئی قریبی سیاست میں نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی دولت ہے ۔ لیکن جب یہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کا واحد مقصدبنگلوں کی تعمیر اور اپنے خاندان کے لئے دولت اکٹھا کرنا ہوتا ہے ۔یہ لوگ شاہی ماحول میں پیدا ہوئے ہیں لیکن اب عوام ان کو سبق سکھائیں گے کیونکہ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل کے لئے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اپنی ذات کے بارے میں ایک بار پھر عوام کو جذباتی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی ذات غریبی ہے اور ان کا واحد مقصد پچھڑی ذات کے لوگوں آگے لانے کا ہے ۔عوام کے ایک ایک ووٹ کو پارٹی اور ملک کے لئے اہمیت کا حامل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ کمل کو دیا گیا ہر ووٹ ان کو جائے گا اور ملک کو مضبوط بنائے گا۔یواین آئی