تازہ ترین

ہیند شوپیان میں مسلح جھڑپ | 2مقامی جنگجو جاںبحق

تجہیز و تکفین میں لوگوں کی بھاری شرکت، ضلع شوپیاں میں انٹرنیٹ سروس معطل

13 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: میر وسیم    )

شاہد ٹاک
شوپیان//جنوبی کشمیر کے سیتا پور شوپیان علاقے میں اتوار کی صبح پیش آئے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو جان بحق ہوئے جن میں سے ایک نے محض 9روز قبل ہی عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ اس دوران شوپیان اور کولگام میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی جبکہ جنگجوئوں کی یاد میں علاقے میں مکمل ہڑتال رہی ۔تفصیلات کے مطابق سنیچر اور اتورا کی درمیانی شاب اڑھائی بھے 34آر آر ،ایس او جی اور پولیس نے ہیند سیتا پور شوپیان کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی شروع کی۔ اس دوران گائو ں میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ کرکے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم ابتدائی لمحوں میں ہی فورسز نے ایک جنگجو کو گولی مار کر جان بحق کیا جبکہ دوسرے جنگجو کے ساتھ کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور صبح تڑکے ہی دوسرے جنگجو کو بھی جان بحق کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں جنگجوئوں کی نعشوں اور اسلحہ و گولہ بارود کو بر آمد کرکے شوپیاں پہنچایا گیا جہاں مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت عادل بشیر وانی ساکنہ واری پورہ دمحال ہانجی پورہ کولگام اور جاوید احمد بٹ ساکنہ ریڈونی قیموہ کولگام کے طور ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ شناخت کا عمل اور دیگر لوازمات مکمل کرنے کے بعد دونوں مقامی جنگجوئوں کی نعشوں کو لواحقین کے سپرد کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ عادل بشیر وانی نے صرف9روز قبل ہی عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ جاوید احمد بٹ 2017سے ہی عسکریت کے ساتھ وابستہ رہا ۔اس دوران مسلح جھڑپ کے مقام پر نوجوانوں اور فورسز کے درمیان صبح سے ہی پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں جو دیگر گئے تک جاری رہیں ۔اس دوران فورسز نے پیلٹ اور ٹیئرگیس شیلنگ کی جس کی زد میں آکر7نوجوان زخمی ہوگئے ۔زخمیوں میں 3 شدید زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔ان میں سمیر احمد شاہ ساکن اقبال پورہ شوپیان ،وسیم احمد ملہ ساکن ریشی پورہ شوپیان اور شبیر احمد بٹ ساکن چک ژولان شوپیان شامل ہیں جن کی آنکھوں میں پیلٹ لگے ہیں۔ ادھر جنگجو مخالف آپریشن کے دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور افواہوں کی روک تھام کیلئے اتوار کی علی الصبح سے ہی ضلع شوپیاں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو منقطع کر دیا گیا اور شام دیر گئے تک اس پہاڑی ضلع میں یہ خدمات معطل تھیں ۔ اس دوران معلوم ہوا کہ معرکہ آرائی کے دوران جاںبحق ہونے والی لشکر طیبہ سے وابستہ مقامی جنگجو نوجوانوں عادل بشیر وانی اور جاوید احمد بٹ کی نعشوں کو جب آبائی علاقوں واری پورہ دمحال ہانجی پورہ اور ریڈونی قیموہ پہنچایا گیا تو یہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ، جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔ دونوں مقامی جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ، جس کے بعد عادل بشیر اور جاوید احمد کی نعشوں کو مقامی مقبروں میں سپرد لحد کیا گیا۔اس معاملے میں پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے  عوام سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اُسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اُس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔