تازہ ترین

شکایات کی اصل کاپیاں پولیس کو نہ بھیجی جائیں

عدالت عالیہ کی جوڈیشل مجسٹریٹوں کو باضابطہ درخواستوں کے اندراج کی ہدایت

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈی اے رشید
سرینگر//ایک اہم فیصلے میں عدالت عالیہ نے جوڈیشل مجسٹریٹوںسے کہا ہے کہ وہ شکایتوں کواپنے سامنے قلمبندکرائیں اور ان کی اصل کاپی پولیس کو نہ بھیجیں۔ ریاستی ہائی کورٹ کی جموں ونگ کے جسٹس سنجیوکمار نے ایک فیصلے میں کہا  ہے کہ پولیس تھانوں کواصل کاپیاں بھیجنا ریکارڈکوتلف کرنے کے برابر ہے ۔  عدالت نے منصفی ضمانتی عرضیوں،گاڑیوں یاضبط شدہ جائیداد کوچھڑانے کی عرضیوں یادفعہ156(3)کریمنل پینل کوڈ کی شکایات کو منصفی کی طرف سے موصول کرنے کے طریقہ کار کو ناپسند کیا۔عدالت نے کہا کہ درخواستوں کو اصل صورت میں پولیس کو روانہ کیاجاتا ہے جیسے وہ عدالت کا ہی حصہ ہو۔عدالت نے اس حوالے سے روزنامچہ تیار کرنے اورفوجداری یادیوانی درخواستوں کااندراج کرنے کی ہدایت دی۔کوئی بھی منصف یامجسٹریٹ ،جو اس ہدایت کی خلاف ورزی کامرتکب ہو ،کیخلاف عدالتی ریکارڈتلف کرنے پر کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے کہا کہ تمام منصفوں کویہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ وہ جب بھی کوئی ایسی درخواست وصول کریں تو اس کا روزنامچہ بنائیں اور متعلقہ رجسٹر میں اس کو درج کریں ۔پولیس یادیگر متعلقین کو صرف حکم  کے ساتھ درخواست کی نقل ہی پیروی کیلئے بھیجدی جائے ۔اس دوران عدالت نے رجسٹرارجنرل کوہدایت دی کہ اس حکمنامے کی نقل تمام ریاست کے جوڈیشل منصفوں تک اُن کی رہنمائی کیلئے بھیج دی جائے ۔ عدالت نے یہ حکم ایک خاتون کی درخواست پر جاری کیا جس میں اُس نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کو ایک ملزم کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی۔