تازہ ترین

ٹول ٹیکس منظور نہیں، فیصلہ واپس لیا جائے

تاجروں،ٹرانسپورٹروں ،ٹھیکیداروں،ٹیکسی و شکارا مالکان کا احتجاج

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//تاجروں،ٹرانسپورٹروں،ٹھیکیداروں،ٹیکسی مالکان اور شکارا مالکان نے شاہراہ پر ٹیکس وصولی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس حکم نامہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سنیچر کو سرینگر کی پریس کالونی میں کشمیر اکنامک الائنس کے بینر تلے صنعتی اور تجارتی شعبے کی اکائیوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارر اٹھا رکھے تھے،جن پر’ ٹیکس وصولی کے حکم نامہ کو واپس لو۔ٹول ٹیکس نا منظور کی تحاریر درج تھیں‘۔اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک لائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے حکم نامہ کو آمریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ذاتی اثر ورسوخ کے تحت جموں میں شاہراہ پر ٹول ٹیکس کو ہٹایا گیا،اور دوسری جانب وادی میں آدھی شاہراہ پر پورا ٹیکس وصولنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ڈار نے اس حکم نامہ کو وادی کے لوگوں اور تاجروں و ٹر انسپورٹروں کے ساتھ امتیاز قرار دیا۔
ڈار کاکہنا تھا کہ اصل میں کشمیری تاجروں اور صنعت کاروں کو دماغی طور پر مصروف رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے،تاکہ مالی افراتفری اور بحران کا ماحول پیدا ہو۔کشمیر ٹریدرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدر حاجی محمد صادق بقال نے کہا کہ شاہراہ پر ٹیکس کے نئے اطلاق سے وادی میں مالی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت وادی کے تاجروں،ٹرانسپورٹروں اور کاروبار سے منسلک مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،اور اس کیلئے اضطرابی و بحرانی ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔حاجی بقال نے کہا کہ ماہ رمضان کے آغاز سے ہی ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا فیصلہ سطحی نہیں ہے،بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ بقال نے کہا کہ اب جب وادی میں سیاحوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا،اس وقت اس طرح کا فیصلہ سیاحتی صنعت پر بھی ایک ضرب ہے،جس کے نتیجے میں جہاں ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی دائو پر لگ جائے گی،وہی براہ راست معیشت بھی متاثر ہوگی۔
الائنس کے ترجمان اعلیٰ اورکشمیرگڈس ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی محمد صدیق رونگہ نے کہا کہ کھبی شاہراہ پر شہری ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جاتی ہے،تو کھبی وادی آنے والی سبزی و میوہ جات کی گاڑیوں کے علاوہ لائیو اسٹاک گاڑیوں کو بلا جواز ہفتوں شاہراہ پر روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا  تھا کہ اسی پر بس نہیں ہوا،بلکہ وادی سے بیرون ریاست جانے والی میوہ گاڑیوں کو بھی بلاناغہ اور غیر ضروری طور پر روکا جاتا ہے،اور بعض اوقات سرینگر لداخ شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی نقل و حرکت مسدود کردی جاتی ہے،جو اس بات کی عکاسی ہے کہ ایک منصوبے کے تحت کشمیری عوام کو دانے دانے کا محتاج بنایا جا رہا ہے، اور معیشت پر ضرب لگا ئی جارہی ہے۔احتجاجی مظاہرے میں ٹورسٹ میکسی کیب یونین کے صدر غلام نبی پانڈو،کشمیرشکاراایسو سی ایشن کے صدر حاجی ولی محمد، کے ٹی ایم ایف کے سنیئر نائب صدر شیخ ہلال،جنرل سیکریٹری شاہد حسین،پبلسٹی سیکریٹری صوفی محی الدین اورچیف کارڈی نیٹر حاجی نثار، بھی موجود تھے۔