تازہ ترین

سفیدوں سے اُترنے والی عذاب جان

بچے ،مرد وزن الرجی کے شکار

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //روسی سفیدوں سے نکلنے والی روئی  کے گالوںنے اہل وادی کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ بہار کے موسم میں یہ روئی کے گالے کشمیریوں کیلئے ایک اور مصیبت بن جاتے ہیںجو کم از کم ایک ماہ تک جاری رہتے ہیں۔محکمہ صحت کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سے روسی سفیدوں سے روئی کے گالے نکلنے شروع ہوگئے ہیں وادی کے اسپتالوں میں زکام، کھانسی ، نزلہ، اور گلے بند ہونے کی مرایجوں کی تعداد میں دوگناہ اضافہ ہوا ہے۔انکا کہنا تھا کہ 15اپریل سے اب تک ریاست کے مختلف اسپتالوں میں2000بچے الرجی کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ 5000مرد و خواتین بھی روئی کے ریشوں کے گلے اور ناک میں اترنے کی وجہ سے بخار، زکام، گلے کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس وقت وادی بھر میں10بلین سے زیادہ روسی سفیدے موجود ہیں جن سے یہ روئی کے گالے نکل رہے ہیں تاہم محکمہ سوشل فاریسٹری کا کہنا ہے کہ سرکاری نرسریوں میں اُن کے پاس صرف 40ہزار روسی سفیدے ہیں، جن کی کٹائی وقتاً فوقتاً کی جاتی ہے۔یاد رہے کہ محکمہ سوشل فاریسٹری نے سال 2017.18میں وادی بھر میں ساڑھے 11ہزار روسی سفیدوں کا صفایا کیا تھا جبکہ سال2018.19میں 18سو 50سفیدوں کو کاٹا گیا۔ اس سال بھی اڑھائی ہزار سفیدوں کو کاٹنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو انتہائی سست رفتاری کاشکار ہے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ روسی سفیدوں کی کٹائی کیلئے سرکار کے پاس کوئی پالیسی نہیں جبکہ عدالت عالیہ نے پہلے سے ہی اس پر پابندی عائد کر کے اُن کو کاٹنے کے احکامات صادر کررکھے ہیں ۔وادی میں 1980ء کی دہائی میںسفیدوں کی ایک پرائی قسم، روسی سفیدے، متعارف کرائے گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روس میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے بعد وہاں سفیدوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ اس پر تحقیق کی گئی کہ کن سفیدوں سے روئی کے گالے نکلتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ سفیدوں سے روئی کے گالے نکلتے ہیں جبکہ نر سفیدوں سے ایسا نہیں ہوتا۔چنانچہ روس میں سبھی مادہ سفیدے کاٹے گئے اور اس طرح وہاں کی آبادی کو مختلف بیماریوں سے نجات دلایا گیا۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روئی کے گالے نکلنے کے بعد ان کے ریشے ہوا میں  مل جاتے ہیں اور یوں یہ ریشے گلے یا ناک میں چلے جاتے ہیں جس سے الرجی ہوجاتی ہے، اور بدن کے انتہائی حساس اعضاء جیسے پھیپھڑوں، گلہ، ناک اورآنکھوں میں جلن پیدا ہوجاتی ہے۔کئی لوگ جو طبی لحاظ سے الرجی کے تئیں زیادہ حساس ہوتے ہیں، ان دِنوں گھروں میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ تھوڑی سی ہوا چلی تو ہر طرف روئی کے گالے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آجکل کے موسم میں منہ پر ماسک لازمی لگانی چاہیے۔روئی کے گالے سیدھے گلے یا ناک میں چلے جاتے ہیں جس کے بعد گلا بند ہوجاتا ہے، ناک خشک ہوجاتی ہے اور بخار چڑھ جاتا ہے۔