تازہ ترین

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی بھارت کو تجویز

اسپیشل سروس گروپ کو ہٹا نے اور گولہ باری بندکرنے کا عندیہ

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی //ہندوستان اورپاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے سامنے رشتے سدھارنے کی پہل کی ہے۔مرکزی وزارت دفاع نے وزیر اعظم آفس کو ایک رپورٹ بھیج دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ایام میں پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کو بروئے کار لانے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس کا آغاز کنٹرول بارڈر (ایل اوسی) سے کی ہے، اس کے تحت اسلام آباد اب سرحد پرامن چاہتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اچھے رشتوں کا آغازکرے، جس سے ملک کی گرتی معیشت کو بچایا جاسکے۔ہندوستان ٹائمز میں شائع خبرکے مطابق ہندوستان اورپاکستان کے درمیان بارڈرپرمسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے فوجی مہم کے ڈائریکٹرجنرل مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں، اسی بات چیت کے دوران پاکستان کی طرف سے تجویزکی پہل کی گئی ہے۔پاکستان کی طرف سے تجویزمیں کہا گیا ہے کہ وہ سرحد پرتناو کم کرنے کو تیارہے۔پاکستان نے تجویز دی ہے کہ وہ اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کو کنٹرول بارڈ رسے ہٹا دے گا۔ اسی کے ساتھ پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہندوستان پرہونے والی گولہ باری کو بھی بند کردیا جائے گا۔  وزیراعظم دفترکوبھیجی گئی رپورٹ میںوزارت دفاع  نے کہا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد سرحد پر کوئی دراندازی نہیں ہوئی ہے اور پاکستانی فوج کی نقل و حرکت میں بھی کمی آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر پر امن صورتحال بنائے رکھنے کیلئے BATکی حوصلہ شکنی کی ہے نیز کنٹرول لائن کیساتھ ساتھ کہیں پر بھی جنگجوئوں کو دراندازی کرانے کے لئے لانچنگ پیڈ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال راجوری اور پونچھ میں کنٹرول لائن پر بخوبی دیکھی گئی ہے۔ایک سنیئر آفیسر کا کہنا ہے ’’ پاکستان کی طرف سے زمینی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات دکھائی دے رہے ہیں،حالانکہ موم بہار کی آمد کیساتھ ساتھ بھارت نے جب نئے بنکروں کی تعمیر یا پرانے بنکروں کی تجدید کی تو غیر متوقع طور پر پاکستان نے کوئی مداخلت نہیں کی‘‘۔غورطلب ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا اورپاکستان نے کنٹرول بارڈ پراسپیشل فورسیز اورفوج کی ٹکڑی کوتعینات کردیا تھا۔