تازہ ترین

واپسی

افسانچہ

12 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فہیم ادیب فاروقی
" بیٹا عادل میں تم کو بار بار کہہ رہی ہوں کہ سامعہ ایک اچھی اور دیندار لڑکی ہے تم اپنے والد کو بتادو  ــــ اور ویسے بھی آج کل دیندار لڑکیاں بہت کم ہی ملتی ہیں ـــ۔ یہ رشتہ خود گھر آیا ہے تو غنیمت جانو بیٹا ابو کو بتا دو کہ وہ وسیم انکل سے ہاں کہہ دے"ـــ
"اوکے ممّاــــ میں بھی راضی ہوں، واقعی سامعہ ایک اچھی لڑکی ہے اور ان شاء اللہ ضرور وہ گھر کو جنت کی طرح بنائے گی ــــ "
دو خاندان کے درمیان اتفاق رائے اور دیگر تمام بے جا رسومات سے مبرّا ہوکر شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیاــ عادل اور سامعہ کی نئی خوشگوار زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہواــــ، پُرسکون و محبت بھری اذدواجی زندگی سے لبریز۔ عادل اور سامعہ کے گھر چند سال بعد ایک معصوم بیٹی نے جنم لیاــــ۔ ہر طرف خوشی کی لہر چھا گئی اور ـــ مٹھائیوں سے رشتہ داروں، دوستوں اور احباب کا منہ میٹھا کیا گیا۔ ــــ بیٹی ردا کی پیدائش باعث مبارک و رحمت ثابت ہوئی ـــ کیونکہ اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی عادل کو دبئی سے جاب کا  لیٹر آیاـــ۔ وہ معقول تنخواہ اور دیگر سہولیات کو مدنظر رکھ کر رجوع ہونا چاہ رہا تھاــــ لیکن سامعہ اور ردا سے دوری کا خیال اسے تذبذب کا شکار بنا رہا تھاــ۔ جاب کی عمدہ پیشکش اور فیملی کی محبت کے درمیان پریشان عادل نے آخر کار جاب سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیاـــ۔ مختلف سواریوں سے سفر کے بعد ہوائی اڈّے پر پہنچ کرضروری اندراجات اور دستخطوں کے بعد عادل ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ پر براجمان ہوگیا۔ ـــ کھڑکی میں سے ہاتھ ہلا ہلاکر سامعہ کو اپنی مجبوری اور محبت کا احساس دلاتے ہوئے چند لمحوں میں آسمان کی بلندیوں میں پہنچ گیا۔ عادل اور سامعہ کی پاکیزہ محبت اب فون تک ہی محدود رہ گئی تھی ـــ۔ ردا اب دھیرے دھیرے بڑی ہوتی گئی ـ۔اسکی ـ معصوم زبان سے میٹھے میٹھے الفاظ عادل کے دل کو خوش کرتے رہےـ۔ وہ جاب سے تھکے ہارے آنے کے بعد  فون کے ذریعے گھر میں اپنی غیر موجودگی کے احساس کو کم کرتا رہاــــ۔
دوپہر کے وقت سامعہ اپنی بیٹی ردا کے ساتھ نماز پڑھ رہی تھی کہ اچانک آنگن سے کائیں کائیں کی آواز نے ردا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ردا بھاگتی ہوئی آنگن کی طرف بڑھی اور  دیوار پر بیٹھے کوے کو دیکھتے ہوئے اپنی ماں سے معصوم سا سوال پوچھ لیاــ۔
ممّا یہ کیا ہے؟
بیٹا یہ ایک پرندہ "کوّا " ہےـــ
یہ کہاں رہتا ممّا؟
"بیٹا یہ درخت پر گھونسلے بناکر رہتا ہوگاـــ "
"ممّا وہ آواز کیوں کر رہا ہے؟"
"بیٹا آپ کے دادا جان کہا کرتے تھے کہ اگر آنگن میں کوا آکر آواز کرے تو سمجھ لینا کوئی مہمان آنے والا ہےــ"
بات سن کر سمجھتے  ہی معصوم ردا نے کہا  "ممّا کوّے سےکہو نا کہ آواز اور زور زور سے نکالے اور مہمان میرے ابو کو جلدی لائے.....ممّا وہ مہمان ابو ہونگے نا........؟
جواب سے قاصر ، چشمِ نم سامعہ نے ردا کا ہاٹھ پکڑ کر کہا آؤ بیٹے ہم دعا کرینگے کہ ابو جلدی آجائے..........
کوّے کے کائیں کائیںکی آواز کے برابر، جذبات میں ڈوبی سامعہ بیٹی ردا کے ساتھ سجدے میں جاکر دیرتلک عادل کی واپسی کے لیے دعا کرتی رہی.....
*****
اجنٹہ، اورنگ آباد ( مہاراشٹر)
رابطہ؛9960788301