تازہ ترین

تازہ غزل

افسانچہ

5 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز انیس
نوجوان شاعر ہاتھوں میں ایک کاغذ لئے خوشی خوشی اپنے استاد کے گھر جارہا تھا۔ اس کاغذ پر ایک غزل تھی جو اس نے رات بھر جی توڑ محنت کرکے لکھی تھی۔ اس کا اندازہ تھا کہ یہ غزل  استاد کو بہت پسند آئے گی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ یہ اس کی اب تک کی سب سے بہترین غزل ہے۔ وہ گھر پہنچا تو استاد برآمدے میں آرام کرسی پر بیٹھے مل گئے۔ سلام کے بعد وہ غزل والا کاغذ اصلاح کے لئے استاد کو دے دیا۔ استاد نے کافی دیر غزل کو دیکھا، پھر کاغذ سے نظر اٹھاکر شاگرد کو دیکھتے ہوئے کہا،
"غزل تو ٹھیک ٹھاک ہے لیکن ایسی نہیں کہ محفوظ رکھا جائے۔ کچھ شعروں کے خیال پرانے اور روایتی ہیں۔ کچھ شعر جدیدیت کے ساتھ پھوہڑ پن لئے ہوئے ہیں۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ غزل میں اوزان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ تم اسی بحر میں کل ایک اور غزل لکھ کر مجھے دکھانا۔ اب تم جاؤ مجھے  ایک بہت بڑے مشاعرے میں جانا ہے جس کا لائیو ٹیلی کاسٹ ٹی وی پر ہونے والا ہے۔"
نوجوان شاعر مایوسی کے ساتھ گھر لوٹ آیا اور نئی غزل لکھنے میں مصروف ہوگیا۔ صبح سے شام تک وہ دوچار شعر ہی لکھ سکا تھا ۔ اسے اچانک یاد آیا کہ مشاعرے کا وقت ہوگیا ہے۔وہ ٹی وی شروع کرکے بیٹھ گیا۔ چند شاعروں کے بعد اس کے استاد کا نمبر آگیا۔ استاد نے چند شعر پڑھے لیکن سامعین پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ پھر استاد نے ایک غزل پڑھی لیکن مجمع میں اکا دکا واہ واہ کے علاوہ کوئی خاص ہلچل پیدا نہیں ہوئی۔ پھر استاد نے مجمع کی نوعیت کو بھانپ کر باوقار لہجے میں کہا،
"اب میں آپ حضرات کی خدمت میں بالکل تازہ غزل پیش کرتا ہوں اور میرا دعویٰ ہے کہ آپ ہر شعر پر واہ واہ کہنے کے لئے مجبور ہو جائینگے۔"استاد نے غزل پڑھنی شروع کی اور مجمع سے واہ واہ کا شور اٹھا، جو ہر شعر کے ساتھ اور بلند ہوتا گیا۔ نوجوان شاعر پھٹی آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے ٹی وی کو دیکھتا رہ گیا کیوں کہ یہ وہ ہی غزل تھی جو اس نے استاد کو صبح دکھائی تھی۔
رابطہ :کامٹی ناگپور (مہاراشٹر)موبائل:۔9049548326