تازہ ترین

غارت گر

افسانہ

5 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نواب دین کسانہ
زاہدصاحب کوتحصیلداربنے بمشکل ایک دوسال ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے شِوپوراسے اپنی رہائش فتح پور تبدیل کرلی تھی ۔فتح پورمیں اُن کی عالیشان کوٹھی پہلے ہی تعمیرہوچکی تھی۔فتح پوربیرونِ شہرایک چھوٹاساگائوں تھا۔تحصیل دارصاحب کی بس یہاں بسنے کی دیرتھی کہ شہرکی تنگ وتاریک گلیوں اورگھٹن سے تنگ آچکے بہت سارے لوگوں نے آہستہ آہستہ آکر یہاں بسنا شروع کردیاتھا۔گائوں کے بجائے اب آہستہ آہستہ یہاں ایک شہری بستی کے خدوخال نمایاں ہونے لگے تھے لیکن اس سب کے باوجود ابھی دیہات کاماحول بھی باقی تھا۔یہاں اگرایک طرف لہلہاتے کھیتوں کے طویل سلسلے تھے تودوسری طرف مال مویشیوں کے جھنڈوں کے جھنڈبنجراور خالی زمینوں میں چرتے پھرتے مٹرگشتیاں کرتے نظرآتے تھے۔ ایسی ہی زمینوں میں سے ایک بنجرزمین کاخاصابڑا قطعہ تحصیلدارصاحب کی کوٹھی کے عین سامنے تھا،جسے مختلف لوگوں نے خریدرکھاتھا۔اور اس کی پلاٹ بندیاں اورحدبندیاں عمل میں آچکی تھیں۔ان پلاٹوں کے ساتھ ہی مقامی کسانوں کامحلہ شروع ہوجاتاتھا۔ان کسانوں میں دیشرچنپرس کانام نمایاں تھا۔ اگرچہ وہ ایک عام سادیہاتی کسان تھا مگراس کی سادگی میں بھی ایک بانکپن تھا ۔ اس نے گائے ، بھینس،گھوڑے ،بکریاں،مرغے اوربطخیں اچھی خاصی تعدادمیں پال رکھے تھے۔ وہ ساراسارادن ان جانوروں کے ساتھ بنجرزمینوں اورپلاٹوں کی خاک چھانتاپھرتاتھا۔ اکثردوپہرکاکھاناکھانے گھرتک نہیں جاتاتھا۔اُس کی بیوی جوکہ بڑی نیک خاتون تھی اُسے کھانا وہی پہنچادیاکرتی تھی۔ دیشرچنپرس کی ان جانوروں میں گویاجان تھی ۔تحصیلدارصاحب اوردیشرچنپرس کاکبھی کبھار آمناسامنا ہوتارہتاتھامگراس کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے کٹے کٹے رہتے تھے۔دیشربڑاخوددارقسم کاانسان تھا۔ اس کی دِلی خواہش تھی کہ تحصیلدار صاحب جب بھی گائوں آئیں توتحصیلداری کادُم چھلّہ تحصیل میں ہی چھوڑکرآئیں اورسب کے ساتھ پیارمحبت سے پیش آئیں۔ گُھل مِل جائیں۔ مگرتحصیلدارصاحب سے یہ قطعی غیرمتوقع تھا۔ تحصیلداری کی حدُود کے باہربھی اُنکی تحصیلداری اُن کے ساتھ ساتھ چلتی تھی۔
دیشرکوتحصیلدارصاحب کاتوبڑااحترام تھامگروہ تحصیلداری ڈھونس خاطرمیں لانے کیلئے کسی بھی طرح تیارنہیں تھا۔اب دوستانہ بنتاتوکیسے بنتا۔ تحصیلدارصاحب تحصیلداری کی ٹیں چھوڑنے کوتیارنہیں تھے اوردیشراُس کوماننے کیلئے تیارنہیں تھا۔ تحصیلدارصاحب کوتحصیلداری کی ٹیں کابڑاخیال تھا۔وہ اپنی ذات پر توبڑاسے بڑاوارسہنے کوبھی تیار تھے مگرانہیں تو تحصیلداری کی ٹیں کے ساتھ کسی بھی طرح کاسمجھوتاگوارانہیں تھا۔ اکثرمحلّے کے سیانے دبے دبے لفظوں میں کہابھی کرتے تھے کہ تحصیلدارصاحب تحصیلداری اورتھانہ داری تحصیلوں اورتھانوں میں چلتی ہے محلّوں میں نہیں ۔محلّوں میںمحلّے داری اوررواداری چلتی ہے۔ مگرتحصیلدارصاحب پران باتوں کاکوئی اثرنہیں تھا۔ وہ تحصیلداری کی ٹیں کونمونیئے کے شکارلاڈلے بچّے کی طرح چھاتی سے لگائے پھرتے تھے۔ زاہدیعنی تحصیلدارصاحب اوردیشرچنپرس اندرہی اندرایک دوسرے سے کڑھتے رہتے تھے ۔دونوں کے اندرشدیدقسم کی غلط فہمیوں کاایک لاوا ساپک رہاتھا جوپھٹنے کیلئے کسی بہانے کامنتظرتھا۔پھرایک چھوٹے سے واقعہ نے اس بہانے کی راہیں ہموارکردیں۔
ہوایوں کہ ان بنجرخالی پلاٹوں میں آس پاس کی کوٹھیوں والے استعمال شدہ پالی تھین کے تھیلے پھینک جاتے تھے جن میں کھانے پینے کی اشیاء لگی ہوتی تھیں یاباسی کھانے بھرے پڑے ہوتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ جانوران کوکھاجاتے تھے ۔ایسے جانوروں میں زیادہ تعداددیشر چنپرس کے جانوروں کی تھی۔اگرچہ جانوروں کوانکے کھانے سے روکنے کیلئے وہ اکثربھاگابھاگارہتاتھا مگرپھربھی جانورآنکھ بچاکراپناکام کرہی جاتے تھے۔سارا دن بھاگتے بھاگتے اُس کی ٹانگوں کی جان نکل جاتی تھی مگرپھربھی جانوروں کوپوری طرح اِس لعنت سے نہیں بچاپاتاتھا ۔
 پھرآخرایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ اوراُسکے جانور یہاں دُوردُورتک نظرنہیں آتے تھے۔ اِسی طرح ہفتوں بیت گئے مگروہ کہیں نظرنہیں آئے ۔زاہدصاحب ، جن کی آنکھوں میں دیشر کانٹے کی طرح کھٹکتارہتاتھا ،نے بھی آتے جاتے اِس غیرمعمُولی تبدیلی کومحسوس کیاتھا۔آخربڑے دنوں کے بعدجب وہ دوبارہ نمودار ہواتو اسکے مویشیوں کے ریوڑمیں وہ بھُورے رنگ کی مُورانسل کی بھینس، جسے وہ پیارے بُھوری کہاکرتاتھاکہیں نظرنہیں آتی تھی ۔بھوری جتنی دُدھیال تھی اتنی ہی خوبصورت بھی تھی۔ اِس کی خوبصورتی کایہ عالم تھا کہ اُسے اپنی نظرلگتی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ دیشرکووہ جان سے بھی پیاری تھی۔ لوگ بھوری کاپوچھتے تواُس کے چہرے کارنگ غیرمعمولی طورپرمغموم ساہوجاتاتھا۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بولتاتھا ۔بس یونہی زیرلب بڑبڑاتاچلاجاتاتھا۔اگرکہیںبولتابھی توپالی تھین پھینکنے والوں کوگندی گندی گالیاں دیتانظرآتاتھا۔کہتا،
’’اگریہ گندے پالی تھین کے لفافے پھینکنے والے ایک دفعہ مجھے مل جائیں توان کی ٹانگیں توڑنامیں عین کارِثواب سمجھوں گا‘‘۔
اورپھرہوتے ہوتے ایک دن فتح پورمیں بڑے زوروں کادھماکہ ہوا ۔سارامحلہ ہل کررہ گیا۔یہ دھماکہ کوئی بم دھماکہ تونہیں تھامگراپنی شدّت کے اعتبارسے کسی بم دھماکے سےکچھ کم بھی نہیں تھا۔ اُس دن صبح ہی سے دیشرچنپرس اینٹوں کے ڈھیرکی آڑ لیکر گندے پالی تھین پھینکنے والوں کی گھات میں چھُپابیٹھاتھا۔اُدھرصبح صبح زاہد صاحب کی نوکرانی رُوپا نے گھرکی صفائی کی ۔بالٹی کوکوڑے کرکٹ اوراستعمال شدہ پالی تھین لفافوں سے لبالب بھرااورپھرجھومتی جھامتی اُنہیں پھینکنے چل پڑی ۔مگرجیسے ہی اُس نے بالٹی اُلٹادی ،دیشرچنپرس عین اُسی وقت اُسکے سرپرآسوارہوا۔وہ بُری طرح اُس پربرس پڑا ۔جوالامکھی کے اندربرسوں سے پک رہالاوا اُبل کرباہرنکل پڑا۔بیچاری نوکرانی کرتی توکیاکرتی۔اگراپنی خطاتسلیم کرلیتی توشاید معاملہ یہی ختم ہوجاتامگراُسے بھی تحصیلدارکی خادمہ ہونے کاگھمنڈ تھا ۔معاملہ یوں ختم کرتی بھی توکیسے کرتی۔ تحصیلدارصاحب کی ٹیں کاسوال تھا۔آخراُس سے بھی رہانہیں گیا۔طیش میں آکر کہہ دیا،’’یہ سب میرانہیں تحصیلدارصاحب کاہے ۔دم ہے توان سے ذرا کہہ کردیکھو‘‘۔
دیشرپہلے ہی جلابھنابیٹھاتھا۔رُوپا کایہ رنگ دیکھاتوجلال میں آگیا۔بولا،
 ’’توعورت ذات ہے ۔تیرے منہ زیادہ نہیں لگناچاہتاہوں،ورنہ کچھ کہنے سے میں تحصیلدارتوکیاتحصیلدارکے باپ سے بھی نہیںڈرتاہوں۔ جاجااپناراستہ لے ۔تیری اورتیرے تحصیلدارکی ایسی کی تیسی ‘‘۔
رُوپاکیلئے توآج جیسے آسمان گِرکرزمین پرآگیاتھا۔اُس نے توکبھی سوچاتک بھی نہیں تھاکہ کوئی تحصیلدارصاحب کے معاملے میں بھی اس حدتک جاسکتاہے ۔کہتے ہیں لڑائی اورلسّی کاکیابڑھانا ۔جسطرح پانی ڈالنے سے لسّی بڑھ جاتی ہے اِسی طرح چغلی کے مرچ مصالحے کے تھوڑے سے اضافے کے ساتھ لڑائی بھی بڑھ جاتی ہے ۔دیشرنے جوکہاتھاسوکہاتھا مگرجب رُوپا نے جلتی میں اپنے حصّے کاگھی ڈالا تویہ چھوٹی سی چنگاری فوراً ہی ایک بڑے الائو میں بدل گئی۔پھرروپاغصّے میں بھری ہوئی گھرسے یہ کہتی ہوئی نکل کرجانے لگی ’’یہاں پڑوسی ایسے ہوں کہ ایک تحصیلدارکی تحصیلداری بھی محفوظ نہیں تووہاں میری جیسی غریب عورت اپنی عزت کاکیسے سوچ سکتی ہے ۔نہ بابانہ ۔میں چلی ۔میں اس ماحول میں کام نہیں کرسکتی۔ آخرہم غریبوں کی بھی توکوئی عزّت ہوتی ہے ‘‘۔
رُوپا یہاں تک ہی کہہ پائی تھی کہ زاہدصاحب کے غُصّے کے بارُودنے آگ پکڑلی۔ اب رُوپاآگے آگے تھی اورتحصیلدارصاحب پیچھے پیچھے تھے۔مگریہاں ان کی تحصیلداری ایسی ہی تھی جیسے سِینگوں بنابیل ہوتاہے کیونکہ یہاں فقط انکی تحصیلداری کی دھونس تھی تحصیل نہیں تھی۔ جاتے ہی انہوں نے دیشرچنپرس کوللکاراجواس وقت اپنے گھرکے باہرمویشیوں کے ریوڑ کے ساتھ نکلنے کی تیاریوں میں تھا۔
’’ان پڑھ گنوارآدمی بولنے سے پہلے تول لیاکرو۔جانتے ہومیں کون ہوں ؟میرے اختیارات کیاہیں اور میں کیاکرسکتاہوں ؟ تم تو کوئی بڑے جاہل لگتے ہو۔اتنابھی پتہ نہیں ؟شاید جانوروں کے ساتھ ساتھ رہتے رہتے تمہاری عقل بھی کہیں گھاس چرنے چلی گئی ہے ۔تمہیں توایک خاتون سے بات کرنے کابھی سلیقہ نہیں ہے ۔ہم یہاں پالی تھین پھینکیں یا کچھ اور۔آخریہ خالی پلاٹ کسی کے باپ کے نہیں،میرے ساتھیوں کے ہیں‘‘
دیشراچھی طرح جانتاتھا کہ یہ فقط دھونس بازی ہے ۔ورنہ خالی پلاٹوں میں سے کوئی بھی پلاٹ تحصیلدارصاحب کانہیں ہے ۔اس لیے اُس نے تحصیلدارصاحب کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کرکہا ،
’’تحصیلدار صاحب اگراپنے مرتبے کاکچھ پاس ہے توزبان کوذرالگام دے کربات کرو۔یہ تمہاری تحصیل کی تحصیلداری نہیں فتح پور کی محلہ داری ہے ۔اس کی اپنی اقدار اورروایات ہیں۔ابھی بھی موقع ہے زبان کوسنبھال لوورنہ میں ایسی باتوں کااُدھار چکانے میں دیرنہیں کرتاہوں ۔ایک تواپنے گھروں کی گندگی کُھلے میں ڈال کر ہم غریبوں کانقصان کرتے ہواور پھرآنکھیں بھی دکھاتے ہو ۔یہ توالٹاچورکوتوال کوڈانٹے والامعاملہ ہے ‘‘
اتنے میں انکی تُوتوسُن کرمحلّے کے لوگوں کی اچھی خاصی بھیڑوہاں جمع ہوگئی تھی ۔ اِس کے علاوہ راستے چلتے بہت سارے راہ گیراورتماش بین بھی وہاں رُک گئے تھے ۔ایسے میں تحصیلدارصاحب چُپ رہنے والے کہاں تھے ۔ایک عام سے آدمی کومقابلے پراُترتادیکھ کرجلال میں آگئے ۔بولے۔ 
’’کونسانقصان ؟۔کیسانقصان؟۔ آخرمیں تمہاری طرح کوئی ان پڑھ جاہل گنوارتونہیں ہوں کہ بلاوجہ کسی کانقصان کرتاپھروں۔ اگرمیراکیا ہوا نقصان تم ثابت نہ کرسکے تومیں تمہارے خلاف توہینِ عزّت کا کیس دائرکروں گا۔آخر اِس بات کی اجازت تونہیں دی جاسکتی ہے کہ تم بلاوجہ میرے جیسے عزت دار کی بے عزتی کرتے پھرو‘‘۔
لمحہ بھرکیلئے وہاں ایک سکوت ساچھاگیا۔پھرکھُسرپھُسر ہونے لگی۔کوئی کہتاتھا دیکھاآفیسرکارُعب ۔کیسے چُپ کرادیا۔کوئی کہتاتھادیکھاایک پڑھالکھاآدمی کس طرح کسی کوریوڑی کے پھیرمیں پھنساتاہے ۔دیشرجیسے بھلے آدمی کیلئے بہترتھاچُپ رہتا۔بڑے آدمی کے منہ لگنے سے خاموشی بہترتھی۔اب دیکھوکیسا پھنساہے کہ پھٹک بھی نہیں سکتا‘‘۔
اِس سکوت کوپھردیشرچنپرس نے توڑا۔اُس نے ٹھہرٹھہر کربولناشروع کیا،
’’تحصیلدارصاحب آپکواپناعہدہ اورعہدے کی داری(عزّت) کتنی پیاری ہے کہ اپناآپ تودُوراپنی خادمہ سے بھی کسی کی ہلکی سی ڈانٹ ہضم نہیں ہورہی ہے ۔آپکواپنی خادمہ کامعمولی ڈانٹاجانابھی اپنی توہین محسوس ہوتی ہے ۔پتہ ہے ایساکیوں ہے ؟کیونکہ آپکاعہدہ ،آپ کی عہدے داری ہی نہیں ہے بلکہ یہ آپکی روزی روٹی کاذریعہ بھی ہے ۔کسی کواپنی روزی روٹی کے ذرائع کانقصان اورتوہین کہاں برداشت ہوتی ہے ‘‘۔
اتناسابول کر دیشرنے سِراُٹھایااورپھرپوچھا’’کہیں میں غلط تونہیں کہہ رہاہوں‘‘۔
سب نے یک زبان ہوکرکہا۔’’ٹھیک ہے ۔ٹھیک ہے۔آگے بات کرو‘‘
یہ کہنے والوں میں تحصیلدارصاحب بھی شامل تھے۔دیشرنے ایک مرتبہ پھرٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولناشروع کیا،
’’تحصیلدارصاحب جس طرح آپ کاپیشہ آپکی روزی روٹی کاذریعہ ہے تواسی طرح یہ مال مویشی میری روزی روٹی کاذریعہ ہیں ۔جس طرح تحصیلداری آپکی نوکری ہے اسی طرح یہ مال مویشی میری نوکری ہیں۔جس طرح نوکری سے تمہاراخاندان پلتااورچولہاجلتاہے ،اِسی طرح اِنکی نوکری سے میراچولہا جلتاہے، اورخاندان پلتاہے ۔اگرآپکواپنی نوکری پرمیرے جیسے غریب کی اتنی ساری واجب سی حرف گیری بھی گوارانہیں توپھرمیں اپنی نوکری کانقصان کس طرح گواراکرسکتاہوں؟‘‘۔دیشر ابھی یہاں تک ہی کہنے پایاتھاکہ تحصیلدارصاحب ایک مرتبہ پھر طیش میں آگئے ۔دھاڑکر پوچھنے لگے ، 
’’یوں ہی باتیں مت بنائو۔سیدھی سیدھی بات کرو۔ہم بلاوجہ کسی کانقصان نہیں کرتے ہیں ۔ہم عزّت دار سفیدپوش لوگ ہیں ۔آخرکوئی دہشت گردتونہیں ہیں کہ یونہی لوگوں کانقصان کرتے پھریں ‘‘
مگر اب کی مرتبہ جواب میں دیشرنے غصّہ نہیں دکھایا ۔اُس نے پھرٹکے ٹکے انداز میں کہناشروع کیا‘‘۔
’’تحصیلدارصاحب ہم زمیندار بڑے دِل والے لوگ ہوتے ہیں۔جس طرح زمین خاموشی سے سب کچھ اپنے اندرسمالیتی ہے اِسی طرح زمیندار بھی بہت کچھ خاموشی اپنے دِل میں چھُپا لیتاہے ۔چُپ چاپ سہہ لیتاہے مگرآج آپ مُنہ کھلوانے پراُترہی آئے ہیں توسنیں،آپ نے میراتھوڑانہیں بڑانقصان کیاہے۔میری وہ بھوری بھینس توآپ کی دیکھی ہوئی تھی۔ روزانہ پندرہ کلودُودھ دیتی تھی۔لوگ اب بھوری کاپوچھتے ہیں تومیں خاموش ہوجاتاہوں ۔کس طرح سُنائوں کہ بھوری کوکیاہوا تھا۔سناتے سُناتے کلیجہ مُنہ کوآتاہے ۔مہینہ بھرپہلے کی بات ہے کہ ایک دن بھوری شدیدبیمارپڑگئی۔اِس نے گھاس کھانا اورجگالی کرنابندکردیا۔دُودھ دینابھی بندکردیا۔دُودھ دیتی بھی توکیادیتی اُسے تواپنی جان کے لالے پڑے تھے ۔ڈاکٹروں اورسیانوں کوبہتیرادکھایامگر بھوری کامرض کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ آخرہوتے ہوتے بھوری بہت کمزورہوگئی ۔جیسے جیسے وہ جانی اعتبارسے کمزورہوتی جارہی تھی میں مالی اعتبارسے کمزورہوتاچلاجارہاتھا کیونکہ میرے گھرمیں جو آتاتھااُس کے دُودھ سے آتاتھا۔آخرایک دن بھوری دھڑام سے زمین پرگرگئی اورماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی۔اُس کی تڑپ کا درد میں بھی اپنے دِل میں محسوس کررہاتھا اورمجھے ایسامحسوس ہورہاتھا کہ اُس کے ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ میں بھی اندرہی اندرٹوٹتاجارہاہوں ۔غر ُوب آفتاب سے پہلے پہلے بھوری زندگی کی جنگ ہارگئی ۔ میں بھوری کے ساتھ میںمراتونہیں لیکن اُس کی موت سے میں ایک طرح جیتے جی ہی مرگیا تھاکیونکہ اُس کی بے وقت موت سے میری مالی کمرٹوٹ گئی تھی۔اُس دن جب کھال اُتارنے والے کھال اُتارکرفارغ ہوئے تومیں نے انہیں کہاکہ ذرااِس کاپیٹ کھول کرتودیکھو کہ آخراس بیچاری نے ایساکیاکھالیاتھا جس سے اسکی ایسی اذّیت ناک موت واقع ہوئی ہے۔جب انہوں نے اُس کاپیٹ کھولا تومیں یہ دیکھ کرحیرت بدنداں رہ گیاکہ اُس بدنصیب کاپیٹ پالی تھین کے لفافوں سے اٹااٹ بھراپڑاتھا جوایک دوسرے کے ساتھ مل کرگول گول گولوں میں بدل گئے تھے ۔مگرمیں کس طرح جان سکتاتھاکہ آخر کس کے پھینکے ہوئے لفافوں کے کھانے سے بھوری کی موت واقع ہوئی تھی ،کیونکہ اس کے پیٹ میں پڑے پالی تھین لفافوں پرکہیں بھی انہیں پھینکنے والوں کانام کندہ نہیں تھا۔ مگرایک بات تو یقینی تھی کہ اُس کی موت ان بنجرخالی پڑے پلاٹوں میں لگے گندگی کے ڈھیروں سے پالی تھین کے لفافے کھانے سے ہوئی تھی کیونکہ وہ چرنے اورپھرنے ان پلاٹوں کے علاوہ کہیں جاتی ہی نہیں تھی۔ تب سے میں مسلّسل ان پلاٹوں میں چھپ چھپ کر پالی تھین کی گندگی پھیلانے والوں کو پکڑنے بیٹھتارہاہوں ۔میں نے آج تک یہاں نہ جانے کتنی ہی ٹھٹھرتی راتوں کی سردی کی مارجھیلی ہے مگرکوئی پھینکے والا  میرے ہاتھ نہیں آرہاتھا ۔مگرآج مجھے اپنی تگ ودو کاآخرصلہ مل ہی گیا۔تمہاری خادمہ کیاملی کہ گویا مجھے بھوری کاقاتل مل گیا۔ آپ کایہ کہناکہ آپ دہشت گرد نہیں ہیں،ٹھیک سہی لیکن آپ ماحولیات کے غارتگرضرورہیں۔ ماحولیات کے غارتگر، دہشت گردوں سے کوئی کم خطرناک نہیںہوتے ہیں۔اس لیے کہ دہشت گردوں کی دہشت سامنے ہوتی ہے اورانسان اُن سے بچنے کی مناسب تدابیر اختیارکرسکتاہے لیکن غارت گرانِ ماحولیات کی بربادیاں سست رو اورخاموش ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان کیلئے اُن سے بچنے کی مناسب تدابیر اختیارکرنابہت مشکل ہوتاہے ۔غارت گرانِ ماحولیات کسی ایک فرد کے لیے نہیں،کسی ایک معاشرے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے شدیدخطرہ ہیں۔ قیامت خیز بربادیاں خودآنے والی نہیں بلکہ یہ اُن کے آنے کی راہیں ہموار کرنے والے ہیں۔اپنے گھروں کی گندگی دوسروں کے گردونواح میں پھیلاکر اُن کی بے بسی کاتماشہ دیکھنے والوایک دن تمہارے گھربھی اس گندگی کے مُضراثرات سے بچ نہیں پائیں گے ۔تمہاری ان حرکات سے نہ جانے کتنے ہی لوگ بن آئی موت مررہے ہیں ۔ایک بھوری پرکیا موقوف آپ جیسے لوگ نہ جانے کتنی ہی سینکڑوںہزاروں بھُوریوں کی جان لے چکے ہیں ۔آپ جیسے لوگ سفیدپوش نہیں ،صفائی پسندنہیں بلکہ صفائی اور سفیدپوشی پر اصل بدنما دھبّے ہیں۔زاہدصاحب اگرآپ نے بھوری کوتڑپ تڑپ کرمرتے دیکھاہوتاتوشاید اُس منظرکی وحشت آپکو بھی کئی راتوں تک سونے نہیں دیتی۔ اگراب بھی آپ لوگ اپنی اِس روش سے بازنہیںآئے تویادرکھوایک دن اسی طرح تڑپ تڑپ کر مروگے ۔ ان خالی پلاٹوں میں نہ جانے اوربھی کتنے ہی لوگ پالی تھین کازہرپھیلاتے ہیں مگرمیں نے آپکی خادمہ رُوپا کے سوائے کسی کونہیں دیکھاہےاوررُوپا جوپالی تھین کی گندگی پھینکتی ہے وہ اُس غریب کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ آپکے گھرکی ہوتی ہے۔میں غصّے میں نہ جانے اُس پر کیاکیا بک گیا۔غُصہّ اُترنے کے بعدعقل ٹھکانے آئی توسوچتاہوں کہ آخر بیچاری کااپناقصورہی کیاتھا۔نوکروں کی کوئی اپنی مرضی تو نہیں ہوتی ۔اُن کاہرکام حاکموں کے تابع مرضی ہوتاہے ۔سچ کہو ں تواب مُجھے اُس غریب پر غصّے کے بجائے ترس آرہاہے۔ اب آپ ہی بتائیے میں آپکوغارتگرِ ِماحولیات نہیں کہوں توکیاکہوں۔مگرمیرے جیساغریب کسان آپ سے اپنے نقصان کی بھرّائی کیسے کراسکتاہے کیونکہ آپ توقانون کے نگہبان ہیں ۔عام لوگوں کی نسبت قانون کے نگہبانوں سے قانون کی خلاف ورزیوں کی تلافی کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے ‘‘۔
 اورروپاجواب تک ایک خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی نے اب نظراٹھاکردیکھا توتحصیلدارصاحب کھسکتے کھسکتے وہاں سے نکل کربہت دُورآگے جاچکے تھے ۔تحصیلدارصاحب کواِس طرح جاتے دیکھ کررُوپا نے ایک نظروہاں کھڑے سب لوگوں پرڈالی اورپھرہاتھ جوڑکربڑی شائشستگی سے بولی ،
’’ہم چندسکّوں کے عو ض اپنی محنت امیروں کوفروخت کرنے والے ایسی بے بس اورلاچار مخلوق ہیں جواُنکے آرام،سکون اوردیگرمعاملات ِ زندگی کوسہولت آمیزبنانے کے چکرمیں یوں ہی بلاوجہ دستِ وگریباں ہوتے ہیںاور ایک دوسرے کی گالیاں کھاتے رہتے ہیں ۔اب میں چلی سے یہاں پھرکبھی نہیں آئوں گی ۔ایسے کام کرنے سے توسڑک پرمزدوری کرنا بہتر ہے ۔دیشربھائی مجھے اپنی ایک نادان سی بہن سمجھ کرمعاف کردینا ۔میں توخواہ مخواہ آپ سے ناراض ہورہی تھی ۔اصل قصوروار کون ہیں اسکااندازہ آج مجھے پہلی بار دُم دباکر بھاگنے والوں کودیکھ کراچھی طرح ہوگیاہے‘‘ ۔
.............................
رابطہ :کوہسارکرائی اُدہم پور(جموں وکشمیر)
فون نمبر:9419166320