تازہ ترین

پُکار

افسانہ

5 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایف آزادؔ دلنوی
مکان کی چھت میں بیسیوں کبوتر ڈھیرا ڈالے بیٹھے رہتے اور اکثر اوقات غٹر غوں غٹر غوں کرتے رہتے ۔جگہ جگہ دیواروں پر کبوتروں کی ربیٹ چپکی تھی، جس سے یہ رنگ برنگی لگ ہی تھیں۔فضلوؔ جب ان کو آواز دیتاتو سارے کے سارے کبوتر ایک ساتھ نیچے آجاتے اور دانہ چگتے ہوئے اس کے اردگرد گھومتے پھرتے رہتے ۔یہ کبوتر دانہ چگنے کی بھاگ دوڑ میںایک دوسرے پر جھپٹ بھی پڑتے تھے اورفضلو ؔٹھاٹھیں مار کر ہنستا رہتا ۔مانو یہ کبوتر اس کے لئے تفریح کا ذریعہ بن گئے تھے ۔وہ بیوی سے کہتا۔ 
’’ان کبوتروں کو دیکھ کر میں دن بھر کی تھکان بھول جاتا ہوں۔یہ کبوتر ہیں ہی پیارے۔رنگ برنگے۔ان کودانہ کھلاکر مجھے سکون ملتا ہے۔‘‘
 دونوںمیاں بیوی پہروں بیٹھ کر کبوتروں کی حرکتیں دیکھتے رہتے اور سارے دکھ درد بھول جاتے۔
فضلوؔ کو مرے اب پانچ برس ہوگئے تھے ۔اس کے جاتے ہی کبوتر بھی رفو چکر ہوگئے اورآنگن میںاُگی پھولوں کی جھاڑیاں بھی سوکھ گئیں۔مکان کے اردگرد کچرے کے ڈھیر کئی دنوں تک پڑے رہتے جس کی بدبو ہوا کے جھونکوںسے صحن میںہر طرف پھیل جاتی۔فضلوؔ ہوتا تو آنگن میں اتناکچرا کبھی جمع ہونے نہ دیتا۔۔۔۔۔۔مگر زندگی نے وفا نہیں کی۔بے چارا جوان مرگ ہوگیا۔
اس کی اہلیہ نبلہؔ ان پانچ برسوں میں پوری طرح ٹوٹ چکی تھی ۔بیٹا تو چار پیسے کمانے لگا تھالیکن بمشکل گھر کا خرچہ چلتا تھا۔ وہ ایک دن بیرون ریاست کام کرنے کی غرض سے چلاگیااور ان ہی دنوں وہاں ذات پات کو لے کر دنگے ہونے لگے تھے ۔شاید کہیں دنگوں کی چپیٹ میں آگیا ،ہو وہ واپس نہیں لوٹانہ ہی اس کی کوئی خبر آئی۔نبلہ کو اس کا غم بھی کھائے جارہا تھا
ادھر رضیہ نے بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے تھے ۔مرتے وقت فضلوؔ نے بیوی سے کہاتھا  ۔
’’رضیہ کا خیال رکھنااور وقت پر اس کا بیاہ کرنا ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ حسرت بھری نگاہوں سے رضیہ کو دیکھ رہا تھااور پھر کچھ دیر بعد ہی آخری سانس لی تھی ۔وہ نبلہ کو بے آسرا چھوڑ کر چلا گیا۔نبلہ جبھی سے ہاتھ پائوں مارتی رہی ۔اس کو رضیہ کی فکر کھائے جارہی تھی ۔وہ کچھ رقم جمع کرنا چاہتی تھی تاکہ رضیہ کی شادی کرتی اوراس غرض سے وہ اڑوس پڑوس کے گھروں میں کام کرتی رہی۔
ان کی ہمسائیگی میں کچھ مال دار لوگ بھی رہتے تھے جو اگر مال کی زکوٰۃ نکالتے تواس کی بیٹی کی شادی دنوں میں ہو جاتی مگر یہ فرض تو سب بھلا بیٹھے ہیں ۔اب کون ذکات دیتا ہے۔۔
پریشان ومغموم نبلہ نے ایک روز حاجی رحیم کا دروازہ ا س امید پر کھٹکھٹایا کہ وہ کچھ مدد کرینگےوہ بہت دیر تک دروازے پر کھڑی رہی ،پھر ایک خادم آکر تند لہجے میں بولا۔
’’کیوں اتنی زور سے دروازہ کھٹکھٹا تی ہو ۔کیا بات ہے؟
وہ ڈری سہمی کہہ اٹھی  ۔’’بھیّا مجھے حاجی صاحب سے ملنا ہے۔‘‘
’’اس وقت یہ ممکن نہیں ہے ۔وہ بیٹی کے لئے گہنے پسند کر رہے ہیں ۔ان کی بیٹی کی شادی ہورہی ہے۔‘‘
’’بھیّا پھر تو یہ مبارک گھڑی ہے وہ ضرور مجھ ابھاگن کی بات سنیں گے مجھے اندر جانے دو ۔‘‘وہ اصرار کرتی رہی۔
خادم کا دل پسیج گیا۔بولا
’’اچھا جائو ۔ادب سے سلام بجا لانا۔‘‘ 
نبلہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو وہاں پڑے گہنوں کے ڈھیر دیکھ کر اس کی آنکھیں چند ھیا گئیں۔وہ کچھ دیر کے لئے کھڑی دیکھتی رہی پھر حاجی صاحب کی طرف بڑھی جوہال میں لگے صوفے پر بیٹھے تھے۔ نبلہ نے سلام بجا لاکر بڑی انکساری سے کہا ۔
’’حاجی صاحب میں فضلوؔ کی بیوہ نبلہ ہوں آپ کی ہمسائیگی میں رہتی ہوں۔‘‘
’’ہاں ہاں میں نے پہچان لیا کہو کیسے آنا ہوا۔‘‘
’’ حاجی صاحب گھر میں جوان بیٹی ہے، اس کا بیاہ کرنا چاہتی ہوں کچھ مدد کریں آپ۔‘‘وہ گڑ گڑاتی رہی۔
 یہ سن کر حاجی صاحب کے ماتھے پر بل پڑگئے اور وہ بوکھلا کر بولے ’’روپے پیڑ پر نہیں اُگتے ہیں۔‘‘یہ کہہ کر نوکر کو آواز دی ۔
’’اس کو باہر کا راستہ دکھائو۔‘‘
اور نبلہ نا مراد واپس لوٹی۔بے چاری کرتی تو کیا کرتی اس بے درد سماج میں اس کی پکار کون سنتا۔ اُ سے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے رہا تھاوہ دن بہ دن ٹوٹتی جارہی تھی ۔
ایک دن وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر آرہی تھی توحاجی صاحب کے گھر کے قریب بہتی ندی کے کنارے پر علاقے کے کتوں کوطرح طرح کی ضیافتیں کھاتے دیکھ کر لرز اُٹھی اور بیٹی سے بولی ۔
’’کاش یہ امیر لوگ اصراف سے اجتناب کرکے یہ پیسہ تم جیسی لڑکیوں کے بیاہ میں لگا لیتے تو اس سماج کی حالت ہی بدل جاتی۔ تم میرے ساتھ چلو۔‘‘
یہ اصراف دیکھ کر نبلہ بے قابو سی ہوگئی اور وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے حاجی صاحب کے گھر کے اندر داخل ہوئی، جو ہاتھ ہلا ہلا کر بیٹی کو وداع کر رہے تھے  نبلہؔ زور زور سے چلاتی رہی۔
’’حاجی صاحب آپ امیر لوگ جو اصراف شادیوں  پر کرتے ہو اس کی بچت سے بیسیوں غریب لڑکیوں کی شادیاں ہوجاتیں ۔‘‘
یہ کہہ کر وہ غش کھاکرزمین پر گر پڑی اور آن کی آن میں جسم بے حرکت ہوگیا۔رضیہ اس کے جسم کو ہلا ہلا کر پکارتی رہی 
’’ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں ۔۔۔اس بے درد سماج میں مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
دلنہ بارہمولہ
موبائل نمبر:-9906484847