تازہ ترین

میری گاڑی

افسانہ

5 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتاق احمدوانی
دیکھو ……! مجھ سے روٹھا نہ کرو۔میری جان نکلنے لگتی ہے۔میں تمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں گا ۔بس چند دن اور صبر کرلو۔میں کوئی بہت بڑا آفیسر نہیں ہوں کہ جس کی تنخواہ لاکھ روپے کے قریب ہو۔بُزرگوں کا کہنا ہے کہ چادر دیکھ کے پائوں پھیلاو مگر اس سب کے باوجود اگلے ماہ ہمارے گھر  کے آنگن میں گاڑی ہوگی‘‘
 رونق جہاں اپنے رفیق حیات رفتار احمد سے تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصہ سے ایک چھوٹی گاڑی خریدنے کی فرمائش کرتے کرتے اب دل ہی دل میں کُڑھنے اور روٹھنے لگی تھی۔شادی سے پہلے ا ُ ن دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہوگیا تھا اور اُسی طوفانی جذبے کا یہ نتیجہ تھا کہ رفتار احمد اپنی بیوی کو خوش رکھنے اور اُ س کی  ہر خواہش پوری کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔شادی ہوئے ابھی دس مہینے اور کچھ دن ہوئے تھے ۔رونق جہاں کا پائوں اب بھاری ہونے لگے تھے ۔وہ اپنے گھر کے باہر لان میں کرسی پہ بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی اور رفتار احمد اُسے منارہا تھا۔اُس نے بیوی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اخبار اُس کے ہاتھ سے کھینچنا چاہا تو وہ ٹس سے مس نہ ہوئی  لیکن جونہی رفتار احمد نے اخبار اپنی طرف کھینچا تو پورا اخبار دوحصوں میں پھٹ گیا ۔رونق جہاں ہنس پڑی اور کہنے لگی
’’مجھے ایک ہفتے کے بعد گاڑی چاہیے ۔ورنہ میں آپ سے بُری طرح روٹھ جاوں گی ۔ہمارے محلے میں کوئی بھی ملازم بغیر گاڑی کے نہیں ہے ۔اب تو سُننے میں آیا کہ ہری رام اسکول چپراسی نے بھی گاڑی خرید لی ہے‘‘
رفتار احمد نے بیوی کویقین دلاتے ہوئے کہا 
’’رونق……! تُم میری زندگی کی رونق ہو ۔میں نے مانا کہ اگلے ہفتے ہمارے گیٹ کے سامنے چمچماتی گاڑی ہوگی۔میں اگر چہ بجلی محکمے کا ایک معمولی کلرک ہوں لیکن اس کے باوجود میں تمہاری فرمائش پوری کیے بغیر نہیں رہوں گا‘‘
رونق جہاں بولی 
’’صرف میری ہی فرمائش پوری نہیں ہوگی بلکہ آپ کے بوڑھے والدین بھی آرام سے ادھراُدھر آجاسکیں گے ۔آپ کی امّاں ذیابیطس کی مریضہ ہیں اور آپ کے ابّامیاں دمے کے مریض ہیں ۔انھیں ڈاکٹر سے چیک کروانے میں آسانی رہے گی‘‘
رفتار احمد نے کہا
’’تُم صحیح کہہ رہی ہو میری جان !بالکل صحیح کہہ رہی ہو‘‘
اپنے شریک حیات کی زبان سے لفظ ’’جان ‘‘  سُن کر رونق جہاں کی جان میں جان آگئی اور اُس کا چہرہ گُلاب کی طرح کھل اُٹھا ۔اُس کا روٹھا پا نہ جانے کہاں چلا گیا۔اسی اثنا میں اُس کی ساس نے اُسے آواز دی
’’بہُو رانی……! میرے سر میں کھجلی سی ہورہی ہے ۔اندر آکر ذرا میرے سر میں سرسوں کا تیل مل۔ 
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کھڑی ہوئی اور اندر ساس کے پاس چلی گئی ۔اُس نے ساس کے سر میں سرسوں کے تیل کی مالش کی ۔اُس کے بعد اُس کا بستر جھاڑا اور پھر ساس کو کہنے لگی
’’اب آپ اس پہ بیٹھ جایئے‘‘
ساس کی زبان سے بے ساختہ دُعا نکل گئی 
’’اللہ خوشیاں دے۔دونوں سلامت رہو!‘‘
رونق جہاں ساس کے کمرے سے باہر جانے ہی والی تھی کہ اتنے میں اُس کے سسُر نے اُسے آواز دی ۔وہ بولا
’’بہُو رانی……!میں اندر سردی محسوس کررہا ہوں ۔باہر آنگن میں دھوپ ہے ۔میں تخت پوش پہ لیٹنا چاہتا ہوں۔کوئی چادر ،کمبل تخت پوش پہ ڈال دو‘‘
رونق جہاں نے گھر والے کو آواز دے کر اپنے قریب بُلایا اور اُسے کہنے لگی 
’’سسُر جی اندر سے باہر آنا چاہتے ہیں ۔دھوپ میں تخت پوش پہ بیٹھنا چاہتے ہیں ۔میرے ساتھ تخت پوش اُٹھایئے ‘‘
دونوں نے مکان کے پچھواڑے سے تخت پوش اُٹھایا اور گھر کے آنگن میں رکھ دیا ۔اُس پہ کمبل بچھا دیا ۔اُس کے بعد رونق جہاں گھونگھٹ کاڑھے سسُر کے کمرے کے نزدیک آئی اور اُسے کہنے لگی ’’باہر تخت پوش پہ بیٹھ جایئے ‘‘
رفتار احمد کے ابّا اُٹھے اور باہر تخت پوش پہ بیٹھ گئے ۔انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا
’’بیٹے……! میری دوائی ختم ہوگئی ہے ۔آج تُم گھر پر ہی تھے  میری دوائی بازار سے لائی ہوتی ‘‘
رفتار احمد نے کہا
’’بابا ! آج تو اتوار ہے ۔بازار اتوار کو بند رہتا ہے ۔کل جب میں ڈیوٹی پہ جاوں گا تو آپ کی دوائی خرید کے لے آوں گا‘‘
رفتار احمد کو بیوی کی فرمائش پوری کرنے کی فکر تھی ۔وہ اس تشویش میں تھا کہ اگر ایک ہفتے کے بعد وہ گاڑی نہیں خرید پایا تو بیوی کوئی انہونی حرکت نہ کربیٹھے کیونکہ وہ تو کہہ چکی ہے کہ وہ مجھ سے بُری طرح روٹھ جائے گی۔
’’رونق !کون سی گاڑی خریدیں ؟تمھاری کیا پسند ہے؟‘‘رفتار احمد نے بیوی سے پوچھا
اور جھٹ سے بولی
’’مجھے سینٹرو پسند ہے اور اُس کا رنگ لال ہوناچاہیے‘‘
رفتار احمد نے فوراًاپنے ایک دوست کوفون لگایا جو گاڑیوں کے شوروم میں کام کرتا تھا۔اُس سے ٹاپ ماڈل سینٹرو گاڑی کی قیمت معلوم کی تو اُس نے ساڑھے چار لاکھ روپے بتائی۔یہ سُن کے رفتار احمد کادل دھک سے رہ گیا۔اُس کے دوست نے اُسے یہ سُجھاودیا کہ آپ ستر ہزارروپے نقد دیںاور باقی بنک سے لون کاکیس کروائیں۔بینک کی قسط دس ہزار روپے ماہانہ رکھوائیں اور اس طرح چار سال میں بینک کاقرض ادا ہوگا۔ رفتار احمد نے بیوی کو پوری تفصیل سُنائی۔اُس نے کہا
’’رونق! ستر ہزار روپیہ گاڑی والوں کو نقد دینا ہے اور باقی بینک کیس کروانا ہوگا۔میرے بینک اکاونٹ میں کُل پچاس ہزار سات سو روپے جمع ہیں ۔باقی روپے کا انتظام کہاں سے ہوگا؟‘‘
’’میں کیا کرسکتی ہوں؟ آپ چاہیں تو میں اپنے سونے کے جھمکے کانوں سے اُتار کے دے دوں گی۔آپ انھیں فروخت کریں لیکن مجھے گاڑی چاہیے‘‘رونق جہاں نے جواب دیا۔
چار دن کے بعد رفتار احمد نے اپنے بینک اکاونٹ سے پچاس ہزار روپے نکال کر بیوی کے سامنے رکھے اور اُس سے پوچھا
’’رونق! بیس ہزار روپیہ کم پڑرہا ہے کیا کریں ؟کسی سے اُدھار مانگنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔کیا تُم سچ میں مجھے اپنے سونے کے جھمکے کانوں سے اُتار کے دینا چاہتی ہو؟‘‘
’’ہاں یہ لیجیے میں دے دیتی ہوں‘‘
اُس نے سونے کے جھمکے اپنے کانوں سے اُتارے اور رفتار احمد کے حوالے کیے ۔اُسے یہ جھمکے بہت پیارے تھے ۔وہ جب کسی پروگرام یا شادی بیاہ میں  جانے کے لیے بناو سنگھار کرتی تو قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اُس کی پہلی نظر ان سونے کے جھمکوں پر پڑتی ۔تب اُس کی جمالیاتی حس میں جلترنگ سا بج اُٹھا لیکن آج مجبوراً اُسے یہ سونے کے جھمکے کسی مرصع ساز کو فروخت کرنا پڑرہے تھے۔
رفتار احمد نے بینک سے گاڑی کے لئے قرض منظور کروایا اور اپنے دوست کے شوروم میں رونق جہاں کو ساتھ لے کے گاڑی خریدنے چلا گیا۔شوروم میں اور بھی کئی لوگ گاڑیاں خریدنے آئے تھے۔ایک گہما گہمی سی تھی ۔ستر ہزار روپے کی رقم نقد ادا کرنے اور تمام ضروری کاغذی کاروائی پوری کرنے کے بعد جب گاڑی فروشوں نے رفتار احمد کو سینٹرو گاڑی کی چابی تھمادی تو وہ اور اُس کی بیوی رونق جہاں خوشی کے مارے پھولے نہیں سمانے لگے۔رفتار احمد نے جونہی گاڑی اسٹارٹ کی تو رونق جہاں نے پُر جوش مسرت سے اُس کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئی کہنے لگی
’’آج آپ نے میری آرزوپوری کردی!‘‘
’’خدا کرے تمہاری ہر ایک آرزو پوری ہو!‘‘رفتار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
باتوں باتوں میں وہ دونوں اپنے گھر پہنچے ۔آس پاس پڑوس کے لوگوں نے اُنھیں مبارک باد دی۔رفتار احمد کے والدین بھی بہت خوش ہوئے تھے۔رونق جہاں بار بار گاڑی پہ نظریں دوڑاتی ۔گاڑی کو دیکھ کے اُسے سونے کے جھمکے یاد نہیں آرہے تھے۔
دوسرے دن رفتار احمد اپنی نئی نویلی گاڑی میں بیٹھا اور دفتر چلا گیا۔دفتر میں سبھی ملازمین نے اُسے مبارک باددی ۔اُس نے سب کا منہ میٹھا کروایا۔اُس کے دل ہی دل میں یہ احساس جاگ اُٹھا کہ اپنی گاڑی،لاڑی اور باڑی کا لُطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔اُسے وہ دن یاد آنے لگے جب اُسے دفتر سے واپسی پر کبھی کبھی بس یا منی بس نہیں ملتی تھی تو اُسے پیدل گھر آنا پڑتا تھا یا پھر جب وہ کسی چھوٹی گاڑی والے سے ہاتھ کے اشارے لفٹ لینے کی کوشش کرتا تو گاڑی والا ایک زنّاٹے کے ساتھ اُس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ۔یہ دیکھ کے اُسے ندامت اور مایوسی ہوتی۔
ایک روز رفتار احمد اپنی گاڑی میں دفتر کی طرف جانے ہی والا تھا کہ اُسے کسی دوست نے موبائل فون پہ یہ خبر سُنائی کہ شہر کے ایک بڑے ڈگری کالج سے جیوتی نام کی ایک لڑکی اپنے کلاس فیلو فہیم احمد کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔اُس نے یہ بھی بتایا کہ ایسے موقعوں پہ فرقہ پرست اور شرپسند عناصرپُر سکون ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیںلیکن بہرحال خدااچھا ہی کرے گا ۔فی الحال پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے ۔ دوست کی باتیں سننے کے باوجود رفتار احمد بڑی بے فکری اور خوشی خوشی کے ساتھ اپنے دفتر چلا گیا لیکن جب وہ چھٹی ہونے کے بعد چارچوک سے تھوڑی دور آگے پہنچا تو کوئی آٹھ دس لڑکوں نے اُسے روک لیا۔اُسے گاڑی سے نیچے اُترنے کو کہا۔وہ سہم گیا ۔اُس نے ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اُسے تین گاڑیاں جلتی ہوئی نظر آئیں اُن کا دُھواں آسمان کی طرف اُڑ  رہا تھا ۔رفتار احمد کو یہ سب دیکھ کے اپنی زندگی کی رفتار تھمتی ہوئی نظر آنے لگی۔اُن شرپسند،غنڈے اور فرقہ پرست لڑکوں میں سے ایک نے رفتار احمد سے بڑے کرخت لہجے میں پوچھا
’’کیا نام ہے؟‘‘
رفتار احمد نے مریل سی آواز میں جواب دیا 
’’رفتار احمد ‘‘اتنا سُننا تھا کہ اُس نے اپنے ساتھیوں کو ایک ہی ہانک لگائی ۔سب اُس کے پاس آکے کھڑے ہوگئے ۔پھر اُس نے رفتار احمد سے گاڑی کی چابی مانگی ۔اُس نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے چابی دے دی۔اُنھوں نے گاڑی کی ٹینکی کھولی اور گاڑی کو آگ لگادی۔خود موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر بھاگ گئے ۔ادھر رفتار احمد کو اپنا وجود فالج زدہ محسوس ہوا۔اُس کے سامنے انسانیت اور بھائی چارے کی گاڑی جل رہی تھی ۔اُس کی اور اُس کی بیوی رونق جہاں کی آرزوئیں جل رہی تھیں۔اُس نے ہمت جٹاتے ہوئے فوراً پولیس اسٹیشن فون کیا ۔فائر سروس کی گاڑی تقریباً بیس منٹ بعد سائرن بجاتی ہوئی رفتار احمد کی گاڑی کے پاس پہنچ گئی لیکن تب تک آدھی سے زیادہ گاڑی کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔رفتار احمد کو یہ بھیانک منظر دیکھ کے یوں محسوس ہوا کہ وہ چکراکے نیچے گر جائے گالیکن اس کے باوجود اُس نے ہمت وحوصلہ نہیں کھویا ۔اُس نے اپنے تین گہرے دوستوں مندیپ شرما،مہر سنگھ اور فلپس جان کو روتے روتے اپنی واردات سُنائی ۔وہ تینوں آدھے گھنٹے میں اُس کے پاس اپنی اپنی  گاڑیاں لے کر پہنچ گئے ۔آتے ہی تینوں نہایت مایوسی کے انداز میں باری باری اُس سے گلے ملے اسے دلاسہ دیتے ہوئے پوچھنے لگے
’’یہ سب کیسے ہوا؟کون تھے وہ لوگ؟ کہاں گئے؟‘‘
رفتار احمد نے زور زور سے روتے ہوئے کہا
’’یار……مُٹھی بھر غُنڈے،بدمعاش اور فرقہ پرست قسم کے لڑکوں نے میری گاڑی جلادی!‘‘
مندیپ شرمانے اُس کی پیٹھ تھپتھپائی ۔اُسے گلے لگاتے ہوئے کہنے لگا
’’میرے دوست!اب ہمت وحوصلے سے کام لینا ہے ۔مایوسی کااظہار کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے ‘‘
مہر سنگھ بولا
’’ان غنڈوں اور فرقہ پرست لڑکوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہیے‘‘
فلپس جان نے کہا
’’رفتار احمد ……!میرے دوست اب ہمت وحوصلے سے کام لینا پڑے گا‘‘
رفتار احمد نے تینوں دوستوں کی طرف دیکھا اور ایک بار پھر زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگا
’’دوستو! میری بیوی رونق جہاں نے بڑے چاو کے ساتھ یہ گاڑی مجھ سے خریدوائی تھی۔یار……! ا ب ا گر اُس کو پتہ چلے گا کہ فرقہ پرستوں نے میرے گھر والے کی گاڑی جلادی تو اُس پر کیا گزرے گی…!  …… وہ یہ صدمہ سہہ پائے گی کہ نہیں ۔ یار میرا دماغ چکرارہا ہے ۔کیاکروں ! کہاں جاوں؟‘‘
رفتار احمد کی بے بسی دیکھ کر اُس کے تینوں دوستوں نے اُسے دوسری گاڑی خرید کردینے کا وعدہ کیا۔پھر اُسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اُس کے گھر پہنچ گئے۔رونق جہاں نے جب رفتار احمد کو اپنے دوستوں کے ہمراہ مایوس کُن حالت میں دیکھا تو وہ ششدررہ گئی لیکن وہ بھی ہمت والی عورت تھی۔اُس نے گھر والے سے پوچھا
’’کیا ہوا ؟ کیابات ہے َ ؟آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں ‘‘
رفتار احمدنے کچھ بھی نہیں کہا ۔مندیپ شرما بولا
’’بھابھی کچھ بھی نہیں ہوا ہے ،چند شرپسند لڑ کوں نے بھائی صاحب کی گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے‘‘یہ سُن کے رونق جہاں کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے جم گئے۔وہ بولی
’’کیا نقصان پہنچایا ہے ہماری گاڑی کو؟‘‘
مہر سنگھ نے کہا
’’بھابھی ……آپ گاڑی کی فکر نہ کریں ۔جان ہے تو جہان ہے۔گاڑیاں آتی جاتی ہیں ۔بس بھگوان کی مہر چاہیے۔باقی یہ گاڑیاں بن جاتی ہیں‘‘
رونق جہاں نے اپنے شریک حیات کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
’’گاڑی کو کیا نقصان پہنچایا ہے ……!‘‘
رفتار احمد نے ڈوبتی اُبھرتی ہوئی آواز میں مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے جواب دیا
’’ہماری گاڑی تھوڑی سی جلادی گئی ہے‘‘
’’اللہ اللہ ……!بالکل نئی گاڑی تھی ۔ابھی تو اُس پہ نمبر بھی نہیں لگا تھا ۔اُف ……  یاالٰہی! …یہ میں کیا سُن رہی ہوں !‘‘
وہ پھپھک پھپھک کر رونے لگی ۔اُس کے رونے کی آواز سُن کر اُس کی ساس اور سسُر کمرے سے باہر برآمدے میں آگئے ۔جب اُنھیں سب ماجرا معلوم ہوا تو دونوں دُکھی ہوگئے ۔ساس نے بہو کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا
’’بہورانی! حوصلہ رکھو۔تم ہی حوصلہ کھودو گی تو ہم بوڑھوں کا کیاحال ہوگا‘‘
سسُر نے کہا
’’جو ہو نا تھا وہ ہوچکا ہے ۔اللہ تندرستی دے تو چیزیں بن جاتی ہیں‘‘
ایک ماتمی قسم کاماحول گھر میں پیدا ہوگیا تھا۔رفتار احمد نے اپنے تینوں دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
’’یار…! ……  ہر دور میں مُٹھی بھر غنڈے اور بدمعاش قسم کے لوگ جن کا مذہب ،دھرم اور عقیدے سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے،اچانک مذہب ،دھرم اور عقیدے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور آگ وخون کی وارداتیں انجام دیتے ہیں اور اس طرح لاکھوں کی نہیں بلکہ کروڑوں امن پسند اور سنجیدہ لوگوں کی نیندیں حرام کردیتے ہیں‘‘
مندیپ شرما نے رفتار احمد کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا
’’اور آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ مُٹھی بھر غنڈے اور بدمعاش قسم کے لوگ، کہ جن کا دین دھرم سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا ہے، آدھی آدھی رات تک موبائل فون پہ بلیُو فلمیں دیکھتے ہیں ،شراب اور چرس پیتے ہیں اور پھر کون سی بُرائی ہے جو اُن میں نہیں پائی جاتی لیکن اس کے باوجود سماج کے ان غندوں اور بدمعاشوں پر کوئی شکنجہ نہیں کستا‘‘
ابھی وہ اسی تشویشناک مسئلے پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے کہ اسی دوران رفتار احمد کو اُس کی منہ بولی بہن شانتی دیوی کا فون آیا ۔شانتی دیوی نے رفتار احمد کو اپنا بھائی بنایا تھا اورہرسال اُسے راکھی باندھنے گھر پر آتی تھی ۔رفتار احمد  نے شانتی دیوی کے حال چال پوچھنے پر اپنے ساتھ پیش آمدہ مایوس کُن واقعے کا  بھی ذکر کردیا تو شانتی دیوی سے رہا نہیں گیا وہ مایوسی کے عالم میں اپنے گھر سے گاڑی لے کر نکل پڑی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد رفتار احمد کے گھر پہنچ گئی ۔اُس نے آتے ہی رونق جہاں کو گلے لگایا ۔ اُس کی آنکھوں میں آنسوتھے، پھر رفتااحمد سے کہنے لگی۔
’’بھیا!……آپ مایوس نہ ہوں سب اچھا ہوجائے گا‘‘
رفتار احمد نے گھگھیائی ہوئی آواز میں کہا
’’میری بہن!……مجھے دُکھ اس بات کا ہے کہ بے قصور ہونے کے باوجود مجھے ایک بہت بڑے صدمے کو جھیلنا پڑرہا ہے‘‘
رفتار احمد کے تینوں دوستوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ تینوں اُس کے بینک اکاونٹ میں  پچاس پچاس ہزار روپے جمع کروائیں گے تاکہ وہ کم از کم سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید سکے۔رفتار احمد کے بہت منع کرنے کے باوجود اُنھوں نے اُس کے بینک اکاونٹ میں پچاس پچاس ہزار روپے جمع کروادیئے اور اُ  س سے دوسرے ہی دن سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید کر دینے کا وعدہ کیا۔اُنھیں دیکھ کر شانتی دیوی نے بھی پچیس ہزار روپے کا چیک ذبردستی  اپنے منہ بولے بھائی کو دے دیا ۔
دوسرے ہی دن جب رفتار احمد کے دوستوں نے اُسے سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید کردے دی تو رونق جہاں اُسے دیکھ کر وقتی طور پر اپنا غم بھول گئی ۔وہ رفتا ر احمد کے قریب آئی اور اُسے بڑے پیار سے کہنے لگی 
’’اب اس گاڑی کو میں چلاوں گی‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9419336120