تازہ ترین

ماہِ مبارک خوش آمدید!

لُوٹئے اجر وثواب لُوٹئے

3 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایم قادر خان۔۔۔ ائر لینڈ
 روزہ   اسلام کا ایک اہم رُکن ہے،اسے عربی میں صوم یا صیام کہا جاتا ہے اورصوم کے معنیٰ رک جانے کے ہیں ۔جب کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے تو وہ دن بھر کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر کئی پوشیدہ حلال کاموں سے پر ہیز کرتا ہے لیکن روزہ محض کھانے پینے سے پر ہیز کرنا کا نام نہیں بلکہ روزہ دار کے جسم کے تمام اعضاء کا روزہ ہوتا ہے ۔رمضان المبارک کے روزہ وں کی بہت سی فضیلتیںا حادیث پاک میں آئی ہیں۔رمضان المبارک اسلامی کلنڈر میں ہجری کا نواں مہینہ ہے اس ماہ لیلتہ القدر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزوں کو فرض کیاہے ،اس ماہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ،جب مسلمان روزہ رکھے تو اسے چاہئے کہ زبان ، آنکھ ،کان ، دل اورسی طرح دیگر اعضاء کا بھی روزہ ہوتا ہے یعنی مسلمان کو کوئی بھی عضو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہیں ۔سورۃ البقرہ آیت نمبر ۱۸۳ ؍میںااللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو!تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔روزہ کے شرعی معانی ہیں روزہ دارصبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے، غلط بولنے ، گناہ سوچنے ،بدی اختیار کر نے اور بیوی سے ہم بستری کرنے سے صرف اللہ کی عبادت کی نیت سے رُکا رہتا ہے ۔یہی عبادت چونکہ نفس کی طہارت اور تزکیہ کے لئے اہم ہے، اس لئے اسے مسلمانوں سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا ۔اس کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہیں اور تقویٰ انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔سورۃ البقرہ آیت نمبر ۱۸۴؍ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صیام چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار یا سفر میں ہو اور دونوں میں گنتی کو پورا کرلے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا  کھلائے ،مطلب یہ کہ بیمار او رمسافر کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ بیماری اور سفر کی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکا ہو، وہ بعد میں روزہ رکھ کر گنتی کو پورا کریں۔
روزہ کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے ۔اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کے لئے ماہ رمضان کا بڑا انعام پو پھٹے سے پہلے انہیں کھاناکھانے کی اجازت بلکہ حکم ہے ۔ اس کو سحری کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاتی ہے ۔روزہ کھولنے کو افطار کہا جاتا ہے ،افطار کرتے ہی فوری طور صائم مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں ۔روزہ انسانی ضمیر وایمان کی صحت مندی کے لئے اکسیر ہے اور ساتھ ہی یہ جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کی قوت بھی عطا ہوتی ہے ۔روزے امراء کو غریبوں کی خبر گیری کرنے کاحوصلہ دیتے ہیں، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر لا کھڑا کردیتے ہیں ،قوم میں مساوات کے کو تقویت بخشتے ہیں ، مسلمان کے جسم جفاکشی کا عادی اور دشواریوں کا خوگر بناتے ہیں ، ضبط نفس اور پابندی ٔ اوقات کا درس دیتے ہیں ۔روزوں سے تحمل اور صبر و ضبط کی صفت ملتی ہے ، انسان کو ذہنی اور اخلاقی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔روزے بہت سے گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں ، نیک کاموں کا ایمان افروزذوق و شوق اُبھارتے ہیں ۔روزہ ایک خاموش عبادت ہے جو نمود و نمائش سے الگ ہے ،یہ قدرتی آفات سے نبر دآزما ہونے کا بہترین فن سکھاتا ہے ۔ترمذی شریف کی ایک حدیث ہے ’’جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ کا نام ریان ہے ، اس دروازے سے وہی جائیں گے جو روزہ رکھتے ہیں۔‘‘بخاری و مسلم شریف میںہے کہ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ،ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملنے کے وقت اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزو جل کے نزدیک مشک سے پاکیزہ ہے ۔
عبداللہ بن عمر و ؓ عاصیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز ِ داؤد ؑ کی نماز ہے اور سب سے زیادہ محبوب روزے بھی داؤد علیہ السلام کے ہیں ۔ حضرت داؤد ؑ آدھی رات سوتے اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتے اور چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔اس حدیث اکا حوالہ جات صحیح بخاری نمبر ۱۰۷۹؍اور صحیح حدیث نمبر ۱۱۵۹؍میں ملتا ہے ۔روزہ رکھنا برکت،سحری کھانا برکت اور افطار کرنا بھی برکت ہے ۔اگر وقت ِافطار دوستوں میں بیٹھ کر افطار کیا جائے تو برکت اور کسی افطاری کے لئے مدعو کرنابھی برکت اور کسی کو افطاری کے لئے مدعو کرنا بھی برکت۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا باعث بنے گی ۔اللہ عالیٰ ہم سب کو حقیقی روزہ رکھنے کی ہدایت عطا کرے ، راہ نیک پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان المبارک کی برکت ،اہمیت و فضیلت سمجھنے اور انہیں سمیٹنا نصیب فرمائے ، آمین۔
ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات جس کے بارے میں قرآن کریم میں سورۃ القدر بھی نازل ہوئی ہے ۔تمام روزہ دار مسلمانوں کے لئے یہ ایک رات افضل ترین عبادت وشکرانے اور توبہ واستغفار کی رات ہے ۔مفسرین فرماتے ہیں لیلتہ القدر اتنی افضل ہے کہ ا س کی کوئی مثال نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک ہم نے اسے (قرآن) شبِ قدر میں اُتارا اور تم نے کیا جان کیا ہے شب قدر۔شب قدر ہزاروں مہینبوں سے بہتر (ہے)اس میں فرشتے اور جبرئیل اُترتے ہیں ،اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓسے مروی ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ’’جس نے لیلتہ القدر میں ایمان والواحتساب کے ساتھ قیام فرمایا اس کے گذشتہ گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ۔‘‘شارحین ِ دین و مفسرین کرام کی رائے کے مطابق یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں یعنی ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹میں سے کسی ایک رات میں مخفی ہے لیکن غالب گمان ۲۷؍ (ستائیس)شب کا ہے ۔بعض مفسرین کے نزدیک ایک رمضان المبارک میں ۲۷ ؍شب ہو تو اگلے رمضان المبارک میں کسی اور طاق رات میں آسکتی ہے ۔اس لئے طاق عشرہ ٔ اخیر کی تمام طاق راتوں کو محو عبادت رہنا سونے پہ سہاگہ ہے۔  قرآن کریم میںا س تقدیر ساز رات کی فضیلت یہ بتلائی گئی ہے کہ یہ ہزارمہینوں سے افضل ایک رات ہے ۔کوئی مسلمان اس ایک رات کو عبادت کرتا ہے تو اس کی عبادت اجر وثواب کے لحاظ سے کئی ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر  ہے ۔مفسرین کہتے ہیں اس رات میں جبرئیل امین بے شمار فرشتوں کے ساتھ نیچے اترتے ہیں تاکہ عظیم الشان خیر و برکت سے زمین والوں کو مامور کیا جائے ۔اس شب میں باطنی حیات اور روحانی خیر و برکت کا  متواترنزول ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے ذریعے اپنے بندوں کو اس رات چین و سکون ،دل جمعی اور حصول جنت کی خلعت عطا فرماتا ہے ۔یہ سکون و اطمینان اور عطیہ الہٰی صرف وہ لوگ پاسکتے ہیں جو اس رات کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور بے پایاں عبادت کرتے ہیں۔صحیح ابن ماجہ ۱۳۴۱؍ میں وارد ہے کہ ’’ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا ، نبی ؐ نے فرمایا کہ ہمارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات جو ہزاروں مہینوں سے افضل ہے ،جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا ،گویا ساری بھلائی سے محروم رہ گیا ۔‘‘
کئی رویات میں آیا ہے کہ حضرت جبریل ؑ مع دیگر فرشتے اس رات عبادت کرنے والوں اور ذکر اللہ کرنے والوں پر صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں ،ان کے لئے رحمت و سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔لیلتہ القدر کی اس قدر فضیلت آئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی عبادات کا اجر وثواب بے انتہا بڑھا دیتا ہے ۔ نوافل کو سنت کے برابر،سنت کو فرض کے برابر اور ہر فرض نماز و فرائض کو ستر فرائض کے برابر بڑھاکر اپنے بندے کو عطا کرتا ہے ۔یہ بات سوچنے ، سمجھنے اورعملانے کے قابل ہے جب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے کو رمضان المبارک کے مہینے میں اتنا زیادہ عطا کرتا ہے تو جو شخص لیلتہ القدر کی تلاش کرے گا اور عبادت خلوص و محبت سے کرے ، اس کا کیا اجر ہوگا ؟ علمائے اسلام کہتے ہیں کہ ماہ ِ مبارک کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس طرح سے منقسم کیا ہے :پہلا عشرہ رحمت کا ،دوسرا عشرہ بخشش کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے چھٹکارے کا ،یعنی رب تبارک تعالیٰ نے اس ماہ میں اپنے بندوں کو صرف نوازنے اور نوازے کا موقع فرمایا ۔ اب یہ بندے کی اپنی طلب اور شوق پر منحصر ہے کہ رحمت کے عشرے میں رحمت ، بخشش کے عشرے بخشش اور تیسرے عشرے میں دوزخ کا عذاب ختم کرکے جہنم سے چھٹکارا پاسکتا ہے ۔لیلتہ القدر کو سلامتی والی رات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات میں مومن،شیطان رجیم کے شر سے محفوظ رہتے ہیں اور اس رات میں خیر ہی خیر ہوتا ہے ،کسی قسم کا شر نہیں ہوتا اور اس رات فرشتے اہل ایمان کو سلام کرتے ہیں۔لیلتہ القدر کے لئے آں حضور ؐنے خاص طور پر دعا عنایت فرمائی : ترجمہ ’’ اے اللہ بے شک تو بخشنے والا ہے اور درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے ہمیں بھی معاف فرما‘‘ یہ دُعا شب قدر میں کثرت سے روتے روتے کرنی چاہئے، زیادہ سے زیادہ نوافل اور ذکر الٰہی میں مستررہنا چاہئے ۔ اللہ خوش ہواتو بندے کو ایک شہر جنت میں دیا جائے گا جو مشرق سے مغرب تک لمبا ہوگا۔ اللہ پاک اس کے اور اس کے والدین کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کے لئے جنت میں میوؤں کا درخت لگا ئیں ، محل تعمیر کرتے رہیں اور شہر بساتے رہیں، و ہ جو دُعا مانگے گا اللہ کی بار گاہ میں قبول ہوگی۔
 
(((()))))((())))