تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

3 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔
محمد فاروق
الفاروق کالونی سرینگر

مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق

جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔
اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر اور کتاب مقدس کی حروف شناسی کے ساتھ حاصل کی جائے یا زبانی یاد کر لیا جائے۔
دوسرا حق اس کی تلاوت کرنے کا ہے۔پھر اس تلاوت کی مقدار کم از کم ایک رکوع روزانہ ، یا چار رکوع یومیہ یعنی چار یوم میں ایک پارہ یا نصف پارہ یومیہ ، یا پورا ایک پارہ یومیہ، یاتین پارے یومیہ،یا ایک منزل روزانہ کی مقدار سے ہو ۔ غرض کہ تلاوت ِکتاب قرآن کریم کا ایک اہم ترین دوسرا حق ہے۔ یہ بھی عملی حقوق میں سے ہیں۔
تیسرا حق قرآن کریم پر عمل ہے ۔ یعنی اس کے وہ امور جن کا ادا کرنا لازم کیا گیا ہے ۔اس کےلئے عملاً ہر وقت تیار رہنا۔ وہ امور چاہئے از قبیل عبادت ہوں یا از قبیل اخلاقیات ، ان تمام امور کو عملا ًزندگی میں جاری کرنا جو امور قرآن کریم میں حرام کر دیئے گئے ہیں اُن سے مکمل طور پر اجتناب کرنا ۔پھر اگر کرنے والے امور میں کوتاہی ہو جائے تو فوراً توبہ کرنا اور ان کی قضا کرنا اورجن امور سےبچنے کی ضرورت ہے اُن امور کا ارتکاب ہو جائے تو فوراً توبہ کرنا اور آئندہ بچنے کا اہتمام کرنا،یہ عملی حق ہے اور اس کو عمل با لکتاب کہا جاتا ہے۔ 
چوتھا حق فہمِ کتاب:۔ یعنی قرآن کریم سمجھنے کی کوشش کرنا۔ا س فہم کتاب میں ایمانیات بھی ہیں۔ عبادات بھی، اخلاقیات بھی ہیں اور امور ما بعد الطبعیات بھی ۔ حقائق دقیقہ بھی ہیں اور انبیا علیہم السلام و اقوامِ ماضیہ کے احوال بھی۔
فہم قرآن کے درجات مختلف افراد و اشخاص کے اعتبار سے مختلف ہونگے ۔کم از کم درجہ فرائض و محرکات کا فہم ہے ۔
پانچواں حق تبلیغ قرآن ہے۔ یقینی قرآن کریم کے احکامات و تعلیمات دوسروں تک پہنچانا ، دوسروں میں مسلمان بھی ہیں اور دیگر اقوام بھی!
اب ہر مسلمان خود غور کرے کہ وہ ان میں سےکتنے حقوق ادا کر رہا ہے۔
 سوال:۔ آج کل لوگوں کا عقیدہ  طرح طرح سے خراب ہوتاجا رہا ہے۔ اس لئے تو چند باتوں کے متعلق سوالات پیش خدمت ہیں۔
(۱) بہت سارے لوگ درویشی کے دعویدار لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم طرح طرح سے پریشان ہیں ہمارے معاملے پر نظر کریں ۔ کتاب دیکھ کر ہم کو بتائیں کہ ہم کو یہ سب پریشانیاں، تنگدستیاں، بیماریاں کیوں ہیں؟
(۲) اسی طرح اخباروں میں کچھ لوگ اشتہار دیتے ہیں کہ گیارہ منٹ میں مسئلہ حل ہوگا یا گیارہ گھنٹے میں پریشانیاں ختم ہونگی۔ پھر مقدمہ ہو، جادو ہو، ساس بہو کے جھگڑے ہوں اولاد نہ ہونے کی پریشانی ہو، نامردی ہو،بانجھ پن ہو وغیرہ یہ سارے مسائل چند منٹوں میں یا چند گھنٹوں میں حل ہونے کا دعویٰ اس طرح ہوتا ہے کہ حل نہ ہوا تو اتنے ہزار انعام۔۔۔۔ یہ آئے روز اخبارات میں آتا ہے۔
(۳) اسی طرح کچھ لوگ دوسرے فقیر نما لوگوں کو ہاتھ دکھاتے ہیں ،پھر کہتے ہیں کہ ہماری قسمت دیکھیں، وہ کچھ دیکھ کر بتاتے ہیں کہ یہ ہونےو الا ہے ۔اس سب کے متعلق شریعت اسلام کا کیا حکم ہے اس کا جواب عنایت فرمائیں؟
غلام مصطفیٰ خان 
بمنہ سرینگر

اللہ کے حکم کے بغیر کسی اَمر میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا

جواب:۔ اسلام میں بنیادی چیز عقیدہ ہے۔ا س لئے کہ تمام اعمال چاہئے وہ فرائض ہوں یا سنت ہوں اور تمام ممنوعات ،چاہئے وہ حرام ہوں یا مکروہات ، یہ سب کچھ اُس عقیدہ کا نتیجہ ہوتا ہے،جو ایک ایمان والا مسلمان اپنے دل و دماغ میں پختگی کے ساتھ قائم رکھتا ہے۔ ان عقائد میں عقیدہ ٔتوحید، عقیدۂ رسالت، عقدۂ ختم نبوت، عقیدۂ آخرت اور عقیدہ ٔتقدیر اہم عقائد ہیں۔ عقیدہ توحیدکا ثمر ہ یہ ہے کہ مومن اپنے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھا کر رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ، مالک، متصرف اور تمام نظام چلانے والا صرف اللہ ہے۔ تمام اختیارات اسی کے دست قدرت میں ہیں اور وہی تمام مخلوقات موجودات اور معدومات کا علم کلی رکھتا ہے۔ اس کی حیثیت کے بغیر کوئی پتہّ بھی نہیں ہل سکتا ہے اور وہی آئندہ ہونے والے تمام امور کا کلی یا جزوی علم رکھتا ہے ۔ غرض کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کی ذات عالیٰ کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سب کو بطور عقیدہ اپنے دل میں بساکر رکھے۔ دوسرے عقیدۂ تقدیرکا ثمرہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے پہلے سے طے کر رکھا ہے اور اسی کے امر اور حیثیت سے سب کچھ انجام پاتا ہے کسی امر میں کوئی تغیر یا تبدیل یا تو ہو ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی تغیر ہوتا ہے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے۔
اس عقیدہ ٔ توحید اور عقیدۂ تقدیر کے بعد کسی ایمان والے شخص کےلئے اس کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ کسی کاہن، جیوتشی، ساحر، ہاتھ دیکھنے والے کسی درویش کے پاس جائے اور اس سے اپنے مستقبل کے متعلق معلومات کرے۔ پھر اس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ مانے۔ اس سلسلے میں واضح اور صاف حدیث ہے حضرت رسول اکرم ﷺ   نے فرمایا جو کسی (غیب کی خبر یں بتانے والے) کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی، اس نے اس قرآن کو جھٹلادیا جو مجھ پر نازل ہوا ہے یہ حدیث ترمذی میں ہے۔
اس لئے اس طرح کی تمام ان غلط حرکات، جو شرک اور باطل عقیدہ کا نتیجہ ہیں،سے پرہیز کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ ایسے تمام لوگ جو مستقبل کے متعلق تو ہماتی بنیاد پر خبریں سنائیں ان کو معاوضہ دینا بھی حرام ہے اور اُن کی یہ کمائی بھی حرام ہے ۔ اخبارات میں  فلاں بابا یا کالے شاہ وغیرہ یا اس طرح کے عنوانات سے جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں اُن سے عقیدے خراب ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ غیب کی خبریں سنانے اور لوگوں کی تقدیر بنانے کے جھوٹے دعوے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد صرف اپنے لئے پیسہ جمع کرنا ہے۔ وہ تمام لوگوں کے کمزور عقیدے اور توہم پرستی کے مزاج کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ بہر حال ایسے لوگو کے پاس جانا بھی منع ہے اُن کی بات سننا بھی منع ہے اور اس کے سچ ہونے کا عقیدہ رکھنا ایمان کے لئے خطرہ ہے بلکہ بعض کتابوںمیں یہ لکھا ہے کہ اس قسم کے عقیدہ پر کفر کا حکم لگ جاتا ہے۔
سوال:۔ ہمارے معاشرے میں باپ بیٹے اور بھائیوں کے درمیان پراپرٹی معاملات کو لے کر بہت جھگڑے ہوتے رہتے ہیں، جو گھر اس سے بچا ہوا ہے وہ خوش قسمت ہے۔ ورنہ جائیداد اور کمائی کے نزاعات بکثرت پیش آتے ہیں۔ہم ایک تففیہ کمیٹی چلاتے  ہیں اور جب باپ بیٹے یا بھائی بھائی یا پھربھائی بہنوں کے درمیان جائیداد کے معاملات یا تقسیم ِوراثت کے بارے میں اختلافات ہمارے سامنے فیصلے کے لئے آتے ہیں تو ہم کسی صحیح اور اطمینان بخش طریقے سے کوئی ایسا حل ،جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اِدھر یہ بھی عموماً ہو تاکہ ہر فریق چاہتا ہے کہ اُس کی خواہش اور مفاد کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے۔ اب ہم کیا کریں ،اس کےلئے ہم کو ایک عمومی ہدایت(Guide Line) ملنی چاہئے تاکہ اہم اسی کے مطابق فیصلے کیا کریں۔
نصیر احمد 
مقیم حال جموں 

جائیداد و کاروبار۔۔۔۔۔۔ والد اور اولاد کے معاملات

جواب:۔ باپ بیٹے کی مشترکہ تجارت اور ذرائع آمدنی کے مخلوط ہونے کی بنا پر ہمارے معاشرے میں طرح طرح کے نزاعات بھی ہوتے ہیں اور قسم قسم کی شرعی خلاف ورزی اور بعض صورتوں میں مالی ظلم بھی ہوتا ہے۔اس لئے دارالعلوم رحیمیہ میں ایک عظیم فقہی اجتماع اسی نوع کے مسائل کے حل کےلئے منعقد ہوا تھا۔ اُس فقہی اجتماع کا اہتمام ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیتہ العمائے ہند کی طرف سے ہوا تھا۔ اس اجتماع میں جو فیصلہ ہوا تھا وہ اصولوں کی صورت میں مرتب کیا گیا تھا وہ ملاحظہ ہوں۔
(۱) اگر باپ نے اپنے سرمایہ سے کوئی کاروبار شروع کیا پھر کوئی بیٹا اُس کاروبار میں سرمایہ اور معاہدے کے بغیر شامل ہوگیا ہو، جب کہ وہ بیٹا باپ کی ماتحتی اور کفالت میں ہو تو ایسی صورت میں اُس بیٹے کی حیثیت شرعاً باپ کے حق میں معاون کی ہوگی ۔ لہٰذا باپ کے مرنے کے بعد کاروبار اور اس کا نفع باپ کا ترکہ شمار ہوگا۔
(۲) اگر اولاد کا روبار میں کسی معاہدے کے بغیر باپ کی ماتحتی میں رہتے ہوئے اپنا کچھ سرمایہ بھی لگادے اور اس کا سرمایہ لگانا عرف میں شرع سمجھاجاتا ہوتو بیٹے کا سرمایہ لگا نا شرعاً اس کااعتبار ہوگا اور وہ بیٹا بقدر سرمایہ باپ کا شریک قرار پائے گا۔ 
(۳) اگر باپ نے بیٹوں کاکاروبار شروع کرنے کےلئے سرمایہ دیا اور یہ طے کر دیا کہ سارے بیٹے اس کاروبار کی ملکیت اور نفع میں باپ سمیت برابر کے شریک ہونگے۔ تو اب سب شرکاء نفع اور ملکیت میں برابر کے حصہ دار ہونگے ۔ بیٹوں کے عمل اور محنت میں فرق کی وجہ سے نفع میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ باپ بھی نفع میں برابر کا شریک ہوگا۔ خواہ وہ عمل میں بالکل شامل نہ ہو۔
(۴) اگر باپ نے بیٹوں کو سرمایہ لگائے بغیر فیصد کے حساب سے اپنے کاروبار میں شریک اور بیٹوں کو اُن کے حصوں میں مالکانہ تصرف کا اختیار بھی دے دیاتو شرعاً اس کو ہبہ قرار دیا جائے گا ۔ لہٰذا جس بیٹے کو شریک کیا وہ اسی تناسب سے کاروبار کی ملکیت اور منافع کا حقدار ہوگا۔
(۵) اگر بیٹوں نے اپنے سرمایہ سے کاروبار شروع کیا اور احتراماً مصلحتہً والد کا نام ڈال دیا اور والد کو تصرف کا اختیار نہیں دیا تو محض نام ڈالنے کی وجہ سے اس کاروبار پر شرعاً باپ کی ملکیت نہیں مانی جائے گی۔ بلکہ کاروبار میں سرمایہ لگانے والے بیٹے ہی اپنے سرمایہ کے بقدر کاروبار میں مالک ہونگے۔
(۶) اگر باپ کے سرمایہ سے کاروبار کرنے والے بیٹے اپنی کل آمدنی باپ کے پاس لاکر جمع کرتے رہتے ہیں اور پھر باپ حسب ضرورت اس آمدنی میں سے بیٹوں کو عطا کرتا ہے تو اس صورت میں یہ سارا کاروبار والد کی ملکیت قرار پائے گا اور یہ سمجھا جائے کہ باپ اصل مالک ہے اور بیٹے اس کے معاون ہیں۔
(۷) اگر باپ نے اپنےسرمایہ سے بیٹے کے لئے کوئی کاروبار شروع کر وادیا اور کاروبار کرنے والا بیٹا اس آمدنی سے اپنے اختیار سے خود خرچ کرتا ہے اور باپ اس میں کوئی دخل نہیں دیتا تو ایسی صورت میں جو بیٹا کاروبار کر رہا ہے وہی اس کا مالک ہے اور باپ کے انتقال کے بعد اس  کاروبار کی ملکیت اور نفع میں دیگر ورثاء حقدار نہ ہونگے۔
اوپر درج شدہ اصولوں کی روشنی میں اس طرح کے نزاعات کے فیصلے کئے جانے چاہئے ۔اس کےلئے عام مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات صاف و شفاف رکھیں۔ جب بھی کوئی بیٹا بر سر روزگار ہوجائے تو اسی وقت طے کر لیا جائے کہ یہ صرف معاون ہے یا باقاعدہ ملازم یا مستقل شریک۔ اگر ملازم ہے تو تنخواہ طے کر دی جائے اگر شریک ہو تو بیٹا سرمایہ لگائے اور اس کے بقدر وہ نفع میں شریک ہوگا۔ سرمایہ باپ سے لے کر لگا سکتا ہے ۔باپ بطور قرض بھی دے سکتا ہے اور بطور تعاون و احسان کے بھی یہی معاملات صاف رکھے جائیں۔
