تازہ ترین

تَجلّی

افسانہ

28 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
میں یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہو کر گھر آئی تو ماں نے مجھے زور سے گلے لگایا، جیسے ہم ماں بیٹی کو دنیا جہاں کی ساری خوشیاں ایک ساتھ مل گئی ہوں۔امی سمجھدار اور مضبوط ارادوں کی حامل خاتون تھی لیکن ہمارے خاندان میں عورتوں کی کوئی وقعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی خاندان کی دوسری عورتوں کی طرح چپ چاپ اپنے ہی گھر میں مردوں کے ظلم سہتے سہتے ایک مورت بن چکی تھی۔ خاندان کی کسی عورت میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ اپنے حق میں کچھ بول سکے امی ہمیشہ گم صم سوچتی تھی کہ کب اور کیسے ہمارے خاندان کے حالات بدل جائیں۔ برسوں سے بابا کے ساتھ رہ رہی تھی لیکن دکھوں اور تکلیفوں کے سوا کچھ نہ پایا۔ کبھی کوئی خوشی  بابا نے اس کے دامن میں نہ ڈالی لیکن وہ چپ چاپ وفاداری اور نیازمندی کے ساتھ سب کچھ برداشت کرتی رہی۔
خاندان کے سارے مردوں کی سوچ عورتوں کے معاملے میں یکساں تھی ۔وہ پچھڑی ہوئی سوچ جسے پسماندگی اور جہالت کی انتہا کہا جاسکتا ہے۔ باباخاندانی تھے۔اپنی ہر بات پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے والے انسان۔عالیشان کوٹھی، روپیے پیسے کی کثرت، نوکر چاکر، غرض دنیا جہاں کی ہر سہولت میسر تھی لیکن خاندان کے کھوکھلے اصولوں کا مان اور دولت کا غرور ہر چیز پر غالب تھا۔ شاید اسی لئے خاندان کی عورتوں کی تعلیم و تربیت کو اپنے دین وایمان،خاندان اور گھر بار کی بربادی سے تعبیر کرتے تھے۔ عورتوں سے صلاح مشورہ کرنا تو دور کی بات، انہیں کوئی بات بتانا بھی ضروری نہ سمجھا جاتا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی خاندان کے مرد مل بیٹھ کر بیٹیوں کے رشتے  طے کرتے تھے۔ خاندان میں بیٹی کے لئے جوڑ کا لڑکا مل گیا تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو عمر بھر گھر پر بیٹھائے رکھنا اپنی شان سمجھتے تھے۔ خاندان سے باہر بیٹی کا بیاہ کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے امی چپ چاپ اور آہستہ آہستہ خاندان میں ایسے بدلائولانا چاہتی تھی جس سے سانپ بھی نہ مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔امی کبھی کبھار اپنا دکھ درد میرے ساتھ بانٹ تی تھی۔مشکل حالات کا سامنا کرتے کرتے بڑی ہمت اور خاموشی سے اُس نے مجھے جینا سکھایا۔ مجھے اپنا حق وصول کرنا سکھایا۔ غرض ماں خاموشی سے خاندان کے کھوکھلے اصولوں کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی۔ 
میں نے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو بابا نے گھر پر بیٹھنے کا حکم صادر کیا۔ میں بہت روئی پیٹی اور تڑپی لیکن بابا ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ان کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ اپنے حکم پر قائم رہے۔امی میرے پاس آئی اور خاموشی سے مجھ کو دلاسہ دیا، ہمت اور حوصلہ دیا اور بتایا کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں، خود کو اکیلے نہ سمجھنا۔ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے جتنا احتجاج کرسکو کرلو لیکن ہمت نہ ہارنا۔ اُس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ بھول کر بھی  یہ بات تمہارے بابا کو پتہ نہ چلے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ورنہ کچھ حاصل نہ ہوگا بلکہ وہ اور زیادہ اکڑ جائیں گے۔
امی سے حوصلہ ملتے ہی میں کمرے میں گھس گئی اور اندر سے دروازہ بند کردیا۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی سوئی۔ بابا باہر زور زور سے کہنے لگے، اگر میں آج نرم پڑ گیا تو کل میرا سر شرم سے جھک جائے گا، اس لیے ایسے کام کرنا ضروری نہیں جس سے خاندان میں ناک کٹنے کا اندیشہ ہو۔ بابا زور زور سے امی کو بتانے لگے اگر خاندان میں کسی کو تمہاری لاڈلی تجلی کی ضد کا پتہ چل گیا تو سب سے پہلے اس کا رشتہ ٹوٹ جائے گا؟ پھر عمر گزر جائے گی لیکن کوئی رشتہ نہ ملے گا، اوپر سے خاندان کے لوگ تھوتھو کریں گے وہ الگ۔ اس لیے اسے کہہ دو یہ بھوک ہڑتال اور ضد چھوڑ کر باہر آ جائے۔ اپنا مورچہ بند کرو تاکہ ہم بھی بڑی بےعزتی سے بچ جائیں گے۔
 دن میں کئی بار بابا دروازے کے پاس آکر کہتے تھے کہ تجلی تم خود ہی بھوک اور جاگنے سے ٹوٹ کر باہر آ جاؤ گی لیکن امی کی ہمت اور حوصلے سے میرا احتجاج طویل ہوتا گیا اور میرا ارادہ مضبوط ہوتا گیا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ ظلم سہتے ہی رہیں۔ بدلائو لانے کے لیے ظلم کے خلاف لڑناضروری ہے اور لڑنے کے لیے مضبوط ارادے کی ضرورت ہے، تبھی تو ہم اپنی زندگی کو بدل سکتے ہیں۔بابا بھی کہیں نہ کہیں اپنے خاندان کے اصولوں سے بندھے ہوئے تھے ورنہ وہ بھی اندر ہی اندرتجلی پر جان چھڑکتے تھے۔ ماں باپ کتنے بھی سنگدل اور برے کیوں نہ ہو لیکن اپنی اولاد کے لئے ان کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں الگ اور خاص جذبات ضرور ہوتے ہیں اسلئے کبھی کبھی والدین کو اپنے اولاد کے سامنے مجبور ہو کر ہارنا پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے بابا میرے کمرے کے باہر چکر پر چکر لگاتے رہے اور کئی دنوں تک میں اندر اور وہ میرے ساتھ باہر تڑپتے رہے لیکن امی موقع پاتے ہی دروازے کے قریب آکے میرا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ احتجاج کے دنوں میں اضافہ کے ساتھ ہی بابا شائد اندر ہی اندر سے ڈر گئے، اسی لئے امی سے کہنے لگے کہ کہیں ہماری معصوم بیٹی کی جان ہی نہ نکل جائے۔ زندگی میں پہلی بار بے بس ہو کے موم کی طرح پگھلنے لگے  اور شفقت بھرے اور نرم لہجے میں قسمیں دلادلا کر مجھے دروازہ کھولنے پر مجبور کیا۔ میں نے اس شرط پر دروازہ کھولا کہ مجھے اب کوئی اعلی تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکے۔ مجھے اور امی کو اندازہ نہ تھا کہ ہم اتنی جلد جیت جائیں گے۔ کئی دنوں کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے میری حالت کافی بگڑ چکی تھی۔ کئی دنوں تک دعا، دوا، غذا اور نذر و نیاز کے بعد کھڑا ہونے کے قابل ہوئی ۔ آج بابا نے جہالت کے اصولوں کو لات مار کر مجھے نئی زندگی بخش دی اور مجھے موت کے منہ سے باہر نکالا۔ بابا سے خاندانی اصول توڑنے پر سب لوگ ناراض ہوگئے۔ اُن پر اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالالیکن اب بابا کو کسی کی پرواہ نہ تھی کیونکہ اب بابا سمجھ چکے تھے کہ تجلی غلط نہیں بلکہ صحیح راستہ چننے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ہائی اسکول میں داخلہ لیتے ہی بچپن میں طے کیا گیامیرا رشتہ ٹوٹ گیا لیکن اس کے باوجود میں اور امی اپنی جیت پر بہت خوش تھے۔ امی بابا کی کھری کھوٹی سننے کی عادی ہو کر اندر سے ٹوٹ چکی تھی، کمزور اور بزدل عورت بن گئی تھی لیکن آج امی کی محنت اور سمجھداری رنگ لاچکی تھی اور اب خاندان کی تمام عورت زات کے لئے تنگ و تاریک دنیا کے دروازے پر روشنی کی ایک کرن دستک دے رہی تھی۔ صبح ہوچکی ہے! گھپ اندھیرے سے باہر نکل آئو! اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرو کیونکہ وہ نور پھیلانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ امی نے بھینجتے ہوئے میرے ماتھ کو چٹاخ سے چوما اور بوسے کی سریلی لہریں اس طرح پھیل گئیں جیسے مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کی ننھی ننھی اور باریک کرنیں۔
���
رابطہ؛پہلگام اننت ناگ،8713892806/9419038028