تازہ ترین

ہوس!

افسانہ

28 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فیاض حمیدؔ
کیا یہ آج بھی وہ دنیا نہیں ہے جہاں بھولی صورتوں کوردی کے ڈھیروں میں نہیں پھینکا جاتا ہے ۔ کہیں کہیں تو دریاؤں کے کناروں یا جنگلوں اور ویرانوں میں اوراب توحال یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سپرد خاک کرنے کے بجائے کھلے میں ہی پھینک دیا جاتا ہے ۔یہ جو آج کل کے لوگ الفت کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیںنا !یہ نشے اور ہوس کے پچاری ہیں اوراُس کے سوا کچھ نہیں ۔۔آپ نے نہیں دیکھا ہے کہ آج بھی کوئی دن ایسا نہیں گذرتا ہے جب یہ خبر نہیں آتی کہ فلاح جگہ کسی لاوارث بچے یا بچی کی لاش ملی۔ اور تو اور ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے بھی تو اس مرض کو پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے بھی ہزاروں معصوموں کا قتل عام کیااور ان مجرموں کا ساتھ دینے میں ہمیشہ برابر کوشاں رہے۔اب تومجھے یہ کہنے میں بھی کوئی ہرج نہیں کہ کئی لوگ اس کو فیشن سمجھ کر اپنا رہے ہے اور دوسرے لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشا دیکھ رہے ہیں؟۔۔
دیکھئے!انجم !اب نہ وہ محبت رہی اور نہ ہی انسان کو ان فریبی باتو ں پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ آج کل جو کچھ بھی ہے بس محبت کے نام پرہوس پرستی ہے۔۔۔۔رئیس نے مسیج کا جواب لکھا۔۔۔
آہ۔۔۔ایسا بالکل نہیں ہے یہ غلط بات ہے۔خدا کے لئے چپ ہو جاؤ!پتہ نہیں صبح صبح کیا لکھ کر بھیج رہے ہو۔آپ کی سوچ ایسی بھی ہے کیا ۔۔ہمیں بات نہیں کرنی اس بارے میں آپ سے ۔۔انجم نے جواب میں لکھا۔
اچھا ہے، آپ کی مرضی ۔۔لیکن میں ہمیشہ سچ ہی کہتا رہوںگا کہ آج کل کی الفت ہوس کے سوا کچھ نہیں ہے۔اب تو محبت دو دلوں اور روحوں کا رشتہ نہیں بلکہ جو جسموں کا ملن ہے اورمیری نظر میں تو محبت کا آخری پڑھاؤ ہوس ہی ہوتا ہے۔ میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہنے والوں میں سے نہیں ہوںمیںجو دیکھتا ہوں اُس سے آپ کو باخبر کر رہاہوں۔۔رئیس نے جواب میں لکھا۔۔
مہربانی ہوگی !آپ مجھے اس وقت مسیج نہ کریں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آپ صبح صبح بالکل نیند میں مد ہوش اور مست ہوگئے ہو۔خواب میں تو نہیں دیکھا کچھ ؟۔۔۔انجم نے لکھا۔
سچ بولنے والا کہاں ہوش میں ہوتا ہے۔ اُسے تو ہمیشہ سے ہی پاگل اور دیوانے کا نام دیا گیا ہے۔آپ کی بھی خطا نہیںاوریہ خواب نہیں حقیقت ہے۔۔رئیس نے جواب میں لکھا۔۔
بس !بس! اب مجھے نہیں کرنی آپ سے بات، آگر آپ نے کوئی اور مسیج کی تو شاید مجھے اب آپ کو بُلاک کرنا پڑے گا۔ انجم نے لکھا۔۔
بلاک کرنے کی زحمت نہ کریں ہم مسیج نہیں کریں گے بس میں آئینہ دیکھا رہا تھا آپ کو، باقی آپ کی مرضی !اللہ آپ کوہمیشہ خوش، سلامت رکھے اور آپکی ہر نیک خواہش کو پورا کرے،کیونکہ آپ کی کامیابی مجھ جیسے دوست کے لئے باعث فجر ہے۔۔۔۔جواب لکھ کر رئیس آف لائن ہوگیا۔۔۔۔
انجم نے رئیس کی مسیج پڑی اور آمین نہیں کہا کیونکہ اس کی اُدھوری خواہش آج تک رئیس سے شادی کرنے کی رہی تھی۔انجم آف لائن چلی گئی تو اُس کے اردگرد خیالات کا طوفان برپا ہوگیاتھا۔وہ کبھی اپنی بارے میں سوچنے لگی توکبھی اپنے خاندان کی عزت کے بارے میں اور کبھی کبھی رئیس کی انجانی کشش کے بارے میں، جو اُس کو کھنچتی ہی جارہی تھی۔انجم سب کچھ بھلانا چاہتی تھی لیکن وہ اس سے نکل نہیں پارہی تھی ۔یہ وہی رئیس تھا جس کے لیے انجم ہر کٹھن راستہ سے گذرنے کے لیے تیار تھی کیونکہ پہلی بارزندگی میںرئیس سے بات کرکے کوئی ایسا مل گیا تھا جس کے لیے اس کے دل میں چاہت جاگی تھی اور پھراس مقصد کو حاصل کرنے کی دعاوہ ہمیشہ بار بار مانگتی رہی تھی، لیکن آج یہ کیا ہوا رئیس نے دعا مانگی ۔۔اور انجم نے آمین تک نہ کیا۔۔۔
ہوس پرست انسان میرا مقصد کہاں ہوسکتا ہے؟۔
میرا انتخاب اتنا گندہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔۔۔میں تو پوری کلاس میں لوگوں کی فطرت پہچانے میں مانی جاتی تھی۔۔میں تو چہرہ دیکھ کر ہی انسان کا حال بتاتی تھی۔۔لیکن رئیس کو میںپہچان کیوں نہیں سکی ۔۔کہیں مجھ میں بھی ہوس تو نہیں۔۔۔نہیں! نہیں! ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔
اب تو ایسے ہوس پرست انسان کے ساتھ شادی تو کیا بات کرنا بھی گوراہ نہیں !ایسے انسان کے ساتھ رہنا جہاں عورت کی الفت کو ہوس کا نام دیا جائیے مجھے منظور نہیں۔۔۔اچھا ہوا رئیس کی اصلیت سامنے آگئے ،ورنہ پتہ نہیں یہ فریبی میرے ساتھ کیا کرتا۔۔۔اس فریبی کی باتوں سے آج ایسا لگ رہا ہے کہ نہ جانے کتنے معصوم انسانوں کواس نے اپنے ہوس کا شکاربنایاہوگا۔۔میں نے شاید پڑھائی کے سب سال ضایع کئے ہیں جو میں ایک غلط شخص کو پہچان نہیں سکی۔۔۔۔
توبہ ! توبہ ۔۔۔میں کیوں اتنا سوچ رہی ہوں ۔میں نے کون سا شادی کا وعدہ کیاتھا، ہم تو بس کچھ مہینوں سے دوست ہی تھے ۔اچھا ہو اجو میں نے اُس پر دل کی بات اور شادی کی چاہت ظاہر نہیں کی تھی ۔ان پردیسی لوگوں سے اگر انسان دور ہی رہے تو زیادہ بہتر ہے۔ ان پر تو بالکل ہی بھروسہ نہ رہا۔!۔۔۔پتہ نہیں ان کی ماں بہن ہوتی ہے کہ نہیں؟۔۔ہمارے یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ آج بھی ہمارے یہاں محبت کو بڑی عقیدت کے ساتھ دیکھاجاتاہے۔ محبت توایک پاک رشتہ ہے، جو دو روحوں کے درمیان ہوتا ہے۔۔اور یہ ہوس پرست۔۔پتہ نہیں صبح صبح کیا کیابول رہا تھا؟بیڈ پر لیٹی انجم سوچ ہی رہی تھی کہ۔۔  
صبح کے سات بج چکے ہیں۔ کیا تمہیں دن بھر سوتے ہی رہنا ہے ۔۔کل پرائے گھر میں جاکر ایسے سوتے رہو گی تو چار دن میں ہی تمہیں واپس گھر کا راستہ دکھائینگے۔پتہ نہیں کب تم میں سمجھ آجائے گی۔۔اماں نے دروازے پر زور سے آواز لگائی۔۔۔
بس اُٹھ گئی اماں۔۔۔انجم نے جواب دیا۔۔
کچھ وقت کے بعد انجم منہ ہاتھ دھو کر سیدھے کچن میںداخل ہوئی، جہاں ناشتے کے ٹیبل پر والد اور بھائی صاحب پہلے سے ہی موجود تھے ۔انجم نے سلام عرض کیا اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔والد صاحب کے چہرے پر نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ والد صاحب غصے میںہیں۔ اماں نے ناشتے کی پلیٹیں سب کے سامنے رکھ دیں اور سب کھانے لگے لیکن والد صاحب نے ناشتے کا ایک بھی ٹکرا نہیں کھایا۔ وہ سامنے بیٹھے بیٹے منیر کو گھورتا رہااور منیر سر جھکائے نیچے دیکھتارہا۔۔
شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے آج کل کے لڑکوں میں !اور پتہ نہیں کس منحوس کو دیکھ کر تم پیدا ہوئے ہو۔۔۔والد نے غصہ میں منیرسے کہا۔۔
جو ہوگیا اب اس کوبھول جاؤ پاپا ! اور مجھے پلیز معاف کرو! آج کے بعد کبھی شکایت کا موقع نہیں دونگا۔۔۔پلیز ! پلیز!۔۔منیر بولا۔
تمہارے لیے بھولنے والی بات ہوگی لیکن یہاں توعمر لگ جاتی ہے عزت کمانے میںاور تم جیسا نالائق لڑکا ہو تو ایک بھی سیکنڈ نہیں لگتاہے گنوانے میں  میری ناک کاٹ کر بول رہے ہو کہ بھول جاؤں ۔کیسے بھولوں ۔پاپا اور غصے میں بولے۔۔
نہیں ! نہیں پاپا ۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔آپ جو سزا دینگے مجھے منظور ہے۔لیکن مجھے پلیز معاف کیجیے۔۔ منیر بولا۔۔
اب کیا سزا دوں ! سزا تو آپ نے ہی ہمیں دی ہے۔ اب بچا ہی کیا ہے ہمارے پاس ۔تمہیں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی اور جس کا صلہ آج تم نے بہت جلدی سودسمیت واپس کردیامجھے ذلیل اور خوار کرکے۔۔۔تم اندر چلی جاؤ انجم۔۔۔والد نے غصے میں کہا۔۔
انجم اندر تو چلی گئی لیکن اس کے کان والدین اور منیر کے بیچ کی گفتگو سننے کے لیے بے چین تھے۔دروازے سے چپک کر وہ ان کی باتیں سننا چاہتی تھی کہ آخر پرسوں ہی تو پاپا نے منیر کو پچاس ہزار دئیے تھے اور ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ تم جیسے بیٹے نصیب والوں کو ملتے ہیں لیکن آج منیر کے نام سے شرم کیوں، آج اتنا غصہ کیوں،آخر ہوا کیا ہوگا۔۔؟تبھی باہر سے آواز آنے لگی کہ۔۔۔
تمہیں کچھ پتہ بھی ہے منیر کی ماں۔۔۔پولیس والوں نے تمہارے بیٹے کو ایک لڑکی کے ساتھ غریب ہوٹل کے کمرے میں ایسی حالت میں گرفتار کیا ہے کہ مجھے شرم آرہی ہے کہنے میں ۔۔لیکن آپ کا بیٹااتنا بے شرم ہے کہ کسی کا کچھ سوچا نہیں، یہاں تک کہ اس کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس کی بھی اپنی ماں اور ایک کنواری بہن ہے۔اس سے بڑھ کر تو بڑی بات یہ ہے کہ وہ لڑکی دو مہینے کی پیٹ سے بھی نکل گئی۔۔۔پہلی بار زندگی میں پولیس اسٹیشن کا منہ آپ کے لال نے دکھایا پتہ نہیں ابھی اور کیا کیا دکھائے گایہ نالائق۔۔۔پاپا نے تلخ لہجہ میںمنیر کی طرف کہا۔۔
توبہ ! توبہ ! توبہ۔۔۔ایسا ہے تو آپ نے مجھے کل سے کیوں نہیں بولا ۔۔میرا خون ایسا ہے کیا ؟ اب کیا ہوگا میرے بیٹے کا، اُس بے چاری لڑکی کا۔وہ تو ہمارے گھر کی بہو بنے والی تھی نا!وہی تھی کیایا کوئی اور۔اماں نے اپنا سر پکڑ کر کہا۔
وہی تھی !اورہوگا کیا۔شریف سے بے شرم بن کے اَس کی ضمانت دے آیا ہوں۔اس کی وجہ سے پولیس والوںنے مجھے ا یسے سوال پوچھے کہ شرم کے مارے میرے آنسو نکل گئے ۔پہلی بار اولاد ہونے پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔وہ تو مجھے بھی اس کا پاٹنر بتا رہے تھے اور مجھ پر بھی بیٹی سے بھی کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ مجھ ناجائز تعلقات کا الزام لگا رہے تھے۔ میں وہیں زمین دوز ہونا چاہتا تھا اور آپ کے شہزادے کوتو بالکل شرم بھی نہ آئی۔ آخر ہاتھ جوڑ کر اُن کو ایک لاکھ روپے کا پرساد دے کر آیا ہوں ۔۔ دوپہر سے رات تک وہیں ایک کونے میں روتا اور اپنی قسمت کو کوستا رہا اورات کا انتظار کرتا رہا تاکہ کوئی مجھے اور اس نالائق کے چہرے کو نہ پہچان سکے۔۔پاپا نے لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا ۔
اُس لڑکی کا کیا ہو اپھر۔۔۔اماں بولی۔۔
جناب صاحب زادے سے پوچھ لومنیر کی ماں۔۔۔والد بولے۔
اماں وہ تو۔۔وہ تو۔۔ پہلے ہی بولی تھی کہ کوئی بات نہیں میں تو ابارشن کروں گی !تین مہینے پہلے ہی تو اُس کی شادی طے ہو چکی ہے، بس ایک مہینے کے بعدتو اُس کی شادی ہے۔۔منیر سر جھکا کے بولا۔۔
شرم کر ۔توبہ ! توبہ اللہ معاف کرے ۔۔اماں نے پانی کا گلاس پکڑ کرکہا۔۔
انجم یہ سب سن کر دروازے کے سہارے نیچے بیٹھ گئے خود کو مشکل سے سنبھال کر سوچتی رہی کہ یہ تو وہی لڑکی تھی نا جس کے لیے منیر ہر کسی سے لڑتا رہتا تھا،  یہاں تک کہ مجھ سے بھی کہیں بار اُس کے لئے لڑ چکا تھا ۔ ان دونوں نے تو جینے اور مرنے کی قسمیں کھائی تھیں ۔کچھ مہینے توشادی کی بات بھی چلی تھی ۔اُس نے تو ایک دفعہ زہر بھی کھا لیا تھا کہ منیر سے شادی کروں گی لیکن آج یہ کیا سن لیا،کہیں میرے کانوں میں خرابی تو نہیں؟ کہیں یہ محبت ہوس تو نہیں! کہیں رئیس کی باتیں سچ تو نہیں۔۔؟ محبت ہے ہوس! نہیں ۔۔الفت ہے ہوس!نہیں ۔۔نہیں ! پیار ہے ہوس! نہیں !نہیں۔۔یہ سوچتے سوچتے وہ خود ہی خود میں ڈوب گئی ۔!
���
دیالگام اننت ناگ
ریسرچ اسکالر سینٹرل یونیورسٹی ساگر(مدھیہ پردیش)
موبائل نمبر؛7006148112