تازہ ترین

جامع مسجد دہلی

مغلیہ دور کی ایک عظیم ا لشان یادگار

25 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

میر فاروق سرحدی ۔۔۔۔ لچھی پورہ ، بونیار بارہمولہ
 تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل 
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل 
تیری بنا ء پائیدار تیرے ستون بے شمار 
شام کے صحراہو جیسے ہجوم نخیل 
بین الاقوامی شہرت کی حامل عظیم الشان جامع مسجد دہلی جس کا اصل نام مسجد جہاں نما ہے، ہندوستان کے پانچویں مغل بادشاہ شاہجہاں نے ا س کی تعمیر کروائی ۔ شاہ جہاں نے ۱۶/ اکتوبر ۱۶۵۰ء (جمعہ ۱۰ /شوال ۱۰۶۰ ھ )کو ایک پہاڑی کی مضبوط چٹانوں پر خود اس کا سنگ بنیاد رکھا ۔ دنیا بھر کے اعلیٰ ترین ماہرین تعمیرات ، بہترین نقاش ، سنگ تراش انجینئر اور بہترین خطاطوں ، ممتاز فن کاروں کے علاوہ چھ ہزار مزدور وں نے اس عظیم الشان جامع مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا اور چھ سال تک اس کی تعمیر میں مسلسل لگے رہے۔ اس طرح یہ جامع مسجد ۱۶۵۶ ء( ۱۰۶۶ ھ) میں تیار ہوئی۔ اس زمانے میں جب کہ مستری کو دو پیسہ یومیہ اور مزدور کو ایک پیسہ یومیہ مزدوری ملتی تھی ، اس عظیم الشان مسجد کی لاگت پر ۱۰؍ لاکھ روپے خرچہ آیا۔ پتھر اور دیگر تعمیراتی سامان بادشاہ کو اس زمانے کے نوابوں اور امراء نے ہدیتہ دیا ،اس لئے اس لاگت میں وہ شامل نہیں کیا گیا ۔ جامع مسجد کی تعمیر کے دوران شاہ جہاں بادشاہ کے پاس شکایت پہنچی کہ تعمیر کا کام بہت ہی سُست رفتاری سے ہو رہا ہے، لہٰذا بادشاہ نے تعمیر کے نگراں سعد اللہ خان (وزیر) کو طلب کر کے سست رفتاری کی وجہ دریافت کی ۔سعد اللہ خان نے بتایا کہ مسجد کے اندرونی حصہ کے فرش کا ہر پتھر نصب کرنے سے پہلے اس پر ایک قرآن مجید پڑھ کر دَم کیا جاتا ہے، چناںچہ شاہ جہاں بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور تعمیر کا کام اسی طرح جاری رکھنے کا حکم دیا۔ یہاں پر میری زائرین سے مودبانہ گذارش ہے کہ مسجد کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کے وقت بہت احتیاط برتنی چاہیے، اکثر اوقات ہم لاپرواہی میں یا غفلت میں تعظیم مسجد کا خیال نہ رکھتے ہوئے بغیر وضو کے ہی اور کبھی کبھی جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ خاص طور سے غیر مسلم سیاح حضرات، عورتوں اور بچوں کو دینی ضوابط کا خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ تعمیر میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ جامع مسجد کا منبر لال قلعہ میں واقع تخت شاہی (جس پر شاہ جہاں مسند نشیں ہواکرتے تھے ) سے اونچا رہے ۔ جامع مسجد کی تعمیر میں سادگی کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ۔ اس کی سادگی ہی دراصل اس کی خوبصورتی ہے۔ ابتدائی زمانے سے ہی جامع مسجد کے شاہی امام کو مغل بادشاہوں کی تاج پوشی کا اعزاز حاصل تھا ۔ سب مغل بادشاہوں کی تاج پوشی اس زمانے کے شاہی امام کرتے تھے اورنگ زیب بادشاہ کی تاج پوشی حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ پہلے شاہی امام کے ہاتھوں سے عمل میں آئی۔ یہ روا یت آخری مغل بادشاہ کے زمانے تک قائم رہی اور جامع مسجد کے آٹھویں شاہی امام حضرت سید میر احمد علی شاہ بخاریؒ نے ۳۰ ستمبر ۱۸۳۷ ء اتوار (مطابق ۹جمادی الثانی ۱۲۵۳ ھ) کو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کی ۔
جامع مسجد کی مختصر تاریخ اور بادشاہوں کی طرف سے شاہی امام کا خطاب: جامع مسجد اور اس کے اماموں کی تاریخ دونوں ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں ۔ جامع مسجد کے پہلے امام حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ تھے ،شاہ جہاں بادشاہ کی خواہش تھی کہ اس بے مثال جامع مسجد کے لئے ایسا ہی بے مثال امام ہونا چاہیے جو اعلیٰ خوبیوں کا مالک ہو۔ چناںچہ اس تعلق سے بادشاہ شاہ جہاں کی دورس نگاہ بخارا (ازبکستان) پر پڑی، اُس زمانہ میں شہر بخارا علوم و فنون کا مرکز تھا اور اطراف و جوانب کے اہل کمال سمٹ کروہاں جمع ہو گئے تھے، اس لئے شاہ جہاںبادشاہ نے شاہ بخارا کو لکھا کہ جامع مسجد کی امامت کے لئے ایک صحیح النسب نجیب الطرفین سید کو جو علم و فضل میں کمال رکھنے کے علاوہ اپنے زمانے کی نہایت برگزیدہ شخصیت ہو، دہلی بھیجا جائے۔ چناںچہ بادشاہ کے حسب الطلب شاہ بخارا نے اپنے داماد سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ کو پائیہ تخت شاہ جہاں آباد دہلی بھیجنے کا فیصلہ کیا اور شاہ بخارا کی مدد سے حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاری ؒ اور ان کے خاندان کو انتہائی عزت و اکرام کے ساتھ دہلی بلایا گیا۔حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ کی آمد پر شاہ جہاں بادشاہ کی طرف سے اُن کا پُر شکوہ استقبال کیا گیا۔ جامع مسجد کی تعمیر اس وقت مکمل ہو چکی تھی ۔ چناںچہ ۲۴ جولائی ۱۶۵۶ء بروزِ پیر (یکم شوال ۱۰۶۶ھ) شاہ جہاں بادشاہ تما م و زراء اور ارکان دولت مع دہلی کی رعایا کے ادائیگی نماز کے لئے جمع ہو گئے اور حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ کی اقتداء میں عید الفطر کی پہلی نماز جامع مسجد میں ادا کی گئی ۔بعد ازاں شاہ جہاں بادشاہ نے حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ کو خلعت و نعمت (بادشاہوں کی طرف سے دیا گیا لباس ، دو شالہ اور جاگیر ) سے سرفراز فرما کر ’’ امامت اعظمیٰ کے منصب پر تقرر کا اعلان کیا اور شاہی امام کا خطاب عطا فرمایا۔ حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ ۶۳ سال کی عمر میں جامع مسجد کے پہلے شاہی امام مقرر ہوئے ۔ حضرت سید عبدالغفور شاہ بخاریؒ کا انتقال ۸۸؍ سال کی عمر میں ہوا اور درگاہ قطب مدارواقع (آئی ٹی او) رنگ روڈ نئی دہلی میں تدفین ہوئی۔ اس کے بعد سے جامع مسجد کی امامت بادشاہ کے منشاء کے مطابق اسی خاندان میں نسل در نسل چلی آرہی ہے اور امام کا بیٹا جانشین ہوتا ہے ۔ یہ روایت حسب دستور ۱۳؍ شاہی اماموں تک جاری و ساری رہی ۔ تیرہویں شاہی امام مولانا سید احمد بُخاری نے خاندانی روایت کے مطابق اپنے صاحبزادے حضرت مولانا سید اُسامہ شعبان بخاریؒ کو اپنا جا نشین شاہی امام مقرر کیا جو بعد میں جامع مسجد دہلی کے چودہویںشاہی امام کہلائے ۔۲ ۲ نومبر ۲۰۱۴ ء ہفتہ مطابق ۲۸ محرم الحرام ۱۴۳۶ ھ کو حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب ، مہتمم دار العلوم وقف دیوبند و نائب صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی زیر صدارت بعد نماز مغرب جامع مسجد دہلی میں مولانا سید اُسامہ شعبان بخاری کی دستار بندی کی پر وقار تقریب عمل میں آئی ۔ اس تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں نمازی ، مختلف مکاتیب فکر کے ممتاز علما ء کرام ، مسلم رہنما ء اور سفارت کاروں نے شرکت کی    ؎
نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر 
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے نغیر 
رابطہ    :   9797225348