تازہ ترین

کہانی کوئی سنائو متاشا!

کہانی

21 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عرفان رشید
تمہیں پتہ ہے یہ جو تم اس پہاڑ سے دیکھ رہے ہو کیا ہے؟
بیٹا:نہیں دادی مجھے کچھ خاص دکھائی نہیں دے رہا ہے۔خاموش اور ویران جگہ معلوم ہوتی ہے۔۔۔کیا کچھ اور ہے؟
ہا ہاہا!ارے میرے پیارے تم نے با لکل صحیح سمجھا ،یہاں کے مکینوں کی زندگی اجیرن ہوتی جارہی ہے۔ان کی زندگی تنائو سے بھری پڑی ہیں۔
بیٹا:دادی دادی میں کچھ سمجھا نہیں!
دادی:یہاں ایک زمانے میں لوگ آباد تھے۔۔ہائے کیا بتاوں تمہیں وہ کیسے دن تھے۔یہاں کی ہر چیز میںدلنواز اور پُرکشش تھی ،ہر طرف حسین و جمیل مناظر۔تمہیں کیا بتائوں ایک شاعر نے اس  ویران جگہ کو ایرانِ صغیر کے نام سے یاد کیا تھا ۔لیکن۔۔
بیٹا:لیکن کیا دادی؟دادی آپ چپ کیوں ہو گئے ،بولو پھر کیا ہوا۔آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے یہ جگہ ویرانی میں تبدیل ہوگئی۔
دادی:بیٹا کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم۔
بیٹا:دادی pleaseبتائو نا ۔
دادی:یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔تم ابھی کمسن ہو ۔ابھی تمہارے دانت بھی پورے نہیں نکل آئے ہیں۔
بیٹا:دادی میں چھوٹا نہیں ہوں ،دیکھو میں اس پتھر کو اس بڑے سانڈ پر کیسے مارتا ہوں۔ ۔۔۔دیکھا  دادی میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔اب بتائو pleaseدادی!
دادی:اچھا چلو میں آپ کو بتائو ں گئی.
بیٹا: لیکن دادی آرام سے بولنا تاکہ مجھے یاد رہے اور پھر میں بھی یہ داستان اپنے بچوں کو سنائوں گا۔
دادی:ہاں بیٹا سنو!میں تمہیں زیادہ دور نہیں بلکہ اپنے بچپن کی کہانی سناتی ہوں ۔یہ کہانی مجھے میرے بابا سنایا کرتے تھے۔
بیٹا:ٹھیک ہے دادی ۔اب سناو بھی!
دادی: میرے بابا کہتے تھے دورِقدیم سے ہی اس مظلوم اور بیچاری جگہ کو دکھوں اور مظالم سے گزرنا پڑا۔
بیٹا:کیا دادی!یہ مظلوم،دکھوں،مظالم کیا ہوتا ہے؟
دادی:جب تم بڑے ہوجاو گے سب سمجھ جائو گے۔۔۔۔۔
بیٹا:دادی  کہا نا میں بہت بڑا ہوگیا ہوں۔سب سمجھ جاتا ہوں،میں فون پر سب دیکھتا ہوں۔اچھادادی بتایئے کن لوگوں نے اس جگہ کو ویران بنایا۔
دادی:کسی ایک شخص نے نہیں بلکہ بہت سارے لوگوں نے مل کر اس جنت کو جہنم بنا نے کی کوشش کی ہے۔
بیٹا:دادی مجھے ان لوگوں کا نام بتائو
دادی: کالے دیو،سفید دیو،سرخ دیو۔۔
بیٹا: یہ سارے تو دیو ہیں۔۔۔انسان تو نہیں!
دادی:ہاں بیٹا میں نے بھی اپنے بابا سے یہی سوال کیا تھا۔پتہ ہے بابا نے کیا جواب دیا۔
ہاں بیٹی یہ سمجھوکہ وہ انسان نہیں بلکہ جن اور دیو تھے،اگر انسان ہوتے تو اتنے بے درد ی اور وحشت ناکی سے بیچارے پیڑپودوں کو نہیں کاٹتے۔۔۔۔
پھر میں نے ایک اور سوال کیاتھا۔۔
بیٹا:کون سا سوال؟دادی
دادی:کیا انسان ظلم نہیں کرسکتا؟
بابا:نہیں میری جان ،انسان  انسانیت کا نام ہے،انسان وہ ہے جو دوسرے انسان کے لیے رحمت ہونہ کہ زحمت۔
بیٹا:اچھا دادی اس میں آخر اس بیچاری جگہ کی کیا غلطی تھی۔کیوں اسے بے وجہ تکلیف پہنچائی گئی۔
دادی:آہ۔۔۔کیا بتائو بیٹا،اس گلشن میں کئی پھول کھلتے تھے لیکن اب نقش و نگارِطاقِ نسیاں ہوگئے!
بیٹا:دادی دادی میں بول رہا ہوں اس کی کیا وجہ ہے؟
دادی:آہ بھر کر بولی،دلنوائی!
بیٹا:دلنوائی!مطلب؟
دادی:تم سب دھیرے دھیرے سمجھ جائو گئے،
بیٹا:آپ کو پتہ ہے دادی میں سب سمجھ گیا۔۔۔۔
دادی:کیا؟
بیٹا:دادی اس جگہ کے لیے ایک ـ''نئی لہر''آنے والی ہے ۔۔۔شاید
دادی:ہاہاہا۔اچھا بیٹا ''منٹو کا نیا قانون''۔۔۔۔۔خواب۔۔۔ خواب ۔۔۔۔۔۔سراب ۔۔۔۔۔سراب۔۔۔۔اللہ مالک!
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے 
بیٹا:یہ منٹو کون ہے ،اور نیا قانون کیا ہوتا ہے؟
دادی:چلو چلو۔۔۔۔۔دیر ہوگئی ہے ۔۔کالے دیوئوںکا سایہ منڈلا رہا ہے ۔۔۔۔جلدی چلو ۔۔۔۔تم سب سمجھ جائو گے۔۔۔۔
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ********   
(ریسرچ اسکالر شعبہ اردو یونی ورسٹی آف کشمیر)
ای میل؛irfanrasheedf@gmail.com