تازہ ترین

سُرخ بادل

افسانہ

21 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
کئی روز بعد ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ،توپوں اور گولیوں کی دھنا دھن اب بند چکی تھیں،فضا میں اُڑ رہے جنگی طیاروں کی چنگھاڑبھی کسی حد تک خاموش ہو چکی تھی ۔ سارے شہر میں اگر چہ ہر طرف قبرستان کی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور شہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ خوش گلو پرندے بھی خوف سے سہمے ہوئے تھے لیکن شہر کے اسپتالوں میں ہُو کا عالم تھا، جہاں ہر طرف شور شرابہ اور چیخ و پکار سنائی دے رہی تھیں۔زخموں سے چور سینکڑوں مرد و زن اور معصوم بچے درد سے کرا رہے تھے ،کئی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ رہے تھے ۔ڈاکٹر ریتا، جواس خوفناک صورتحال سے سخت پریشان اور مغموم تھی ،دن بھر مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروٖف رہنے کے بعد تھکی ہاری شام ڈھلتے اسپتال سے گھر کی طرف نکلی۔اس کا انگ انگ جیسے درد میں ڈوبا ہوا تھا اوروہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ گاڑی بھی ٹھیک سے نہیں چلا پا رہی تھی۔ہر طرف بارود کی بو اور ویرانی پھیلی ہوئی تھی اور شہر کی ویران اور سنسان سڑکیں اُسے کاٹنے کو دوڑ رہیں تھیں ۔آسمان پر چھائے کالے بادلوں کو دیکھ کر اسے اور زیادہ خوف اور گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی اور اس کے جسم سے ٹھنڈے پسینے کے قطر ے پھوٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔   
’’ میڈم ۔۔۔۔۔۔ آج آپ کو اتنی دیر کیوں ہوگئی؟‘‘
گھر میں قدم رکھتے ہی اس کی خادمہ سیما نے اُسے پوچھا ۔
’’ کچھ نہ پوچھو سیما ۔۔۔۔۔۔ بہت بُراحال ہے‘‘ ۔
اس نے اداس لہجے میں جواب دیا اور صوفے پر بیٹھ کر ٹیلیویژن آن کیا ۔۔۔۔۔۔  
’’اُف ۔۔۔۔۔۔ اس بکواس کے سوا انہیں دکھانے کے لئے کچھ نہیں ہے ‘‘۔
کچھ دیر ریموٹ ہاتھ میں لئے چینلیں بدلنے کے بعد اس نے جھنجھلا کر ٹیلیویژن ،جہاںنیوز چینلوںپر جا بجالڑائی کے خون ریز اور تباہ کن مناظر دکھائے جا رہے تھے اور چرب زبان اینکر خوب نمک مرچ لگا کر خبروں کی تشہیر کرکے بڑی فنکاری اور چابک دستی سے جنون کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے ، بند کیا اور صوفے پر دراز ہو کر گہری سوچوں میں ڈوب گئی ۔اس کے ذہن پر اسپتال کے کربناک مناظر سوار تھے، زخموں سے چور درد سے کراہتے ہوئے انسان ۔۔۔۔۔۔ کسی کی ٹانگ نہیں تو کسی کا بازو کٹا ہوا ۔۔۔۔۔۔ کسی کے سر تو کسی کے پیٹ میں گہری چوٹ ۔۔۔۔۔۔ کئی معصوم انسان ریتا کی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں چلے گئے تھے ۔ریتا، جو ایک حساس ذہن لڑکی تھی، یہ سوچ کر حیران ہورہی تھی کہ تعلیم و ترقی کی حیرت انگیز بلندیوں کو چھونے ،ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے ساتھ ساتھ نسل آدم ترقی کے ہر زینے پر اپنی ہلاکت کا سامان بھی نصب کر رہی ہے اورانسان ہی انسان کے خون کا پیا سا ہو گیا ہے ۔مرد و زن اور معصوم بچوں کو بے دردی سے جرم بے گناہی کی پا داش میں موت کے مُنہ میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔دھرتی پر نئے نئے قبرستان اباد ہو رہے ہیں ، بے وقت کی ارتھیاں اٹھ رہیں ہیں ،سہاگنیں بیوہ اور بچے یتیم ہو رہے ہیں۔بزرگ اپنے جوان ویروں کے جنازوں کو کندھا دینے اور چتائوں کو آگ دینے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔  جائیدادیں تباہ و برباد ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
’’یہ کیسا جنون ہے ۔۔۔۔۔۔؟ کیا دشمنی کی ان دیواروں کو مسمار کرکے دوستی اور محبت کی قندیلوں کو روشن نہیں کیا جا سکتا ؟‘‘
سوچتے سوچتے دفعتاً ریتا کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور وہ خود سے بڑ بڑائی ۔
’’ہاں ایسا ہو سکتا ہے لیکن ۔۔۔۔۔؟‘‘
اس کے اندر سے آواز آئی اور وہ پھر سے سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئی ۔مردار خوری کی جبلت رکھنے والے گدھ اپنے گندے مفادات کے حصول کے لئے اس جنون کو ہوا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ،بھائی کو بھائی سے لڑا رہے ہیں ،دھرتی پر خون کی ندیاں بہانا چاہتے ہیں ۔ایسا جنون رکھنے والے سیاہ کار شاید ماضی کی خوفناک تاریخ کی تلخ یا دوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ اسی جنوں کے سبب دھرتی کے کئی حصے ویران صحرا کا روپ دھارن کر چکے ہیں،جو اب بھی بھانجھ عورت کی طرح اپنے نصیب کو کوس رہے ہیں ،جہاں نہ کوئی سبزہ اُگتا ہے ،نہ پیڑ اور نہ ہی کسی قسم کا اناج ،جہاں اب بھی اپاہج بچے پیدا ہوتے ہیں۔ قریب ایک صدی گزرجانے کے بعد بھی ایک لمحے کے جنوں کی بھر پائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔اس صورتحال سے با خبر ہونے کے با وجودتباہی کے تاجر حکمران کرئہ ارض پر اپنے طاقت کا سکہ جمانے اورایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے اپنی اپنی سلطنتوں میں زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار جمع کر رہے ہیں،جنہوںنے دنیا کو خطرناک بارود کے ایک ایسے ڈھیر پر لا کھڑا کردیا ہے، جسے بھسم کرنے کے لئے صرف ایک چنگاری ہی کافی ہے ۔ انسانیت پر منڈ لارہے جنگ کے بادلوںکی تباہ کاریوںسے فکر مند سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن ریتا ،جس کا سر تیز رفتار موٹر کے پہیے کی طرح گھوم رہا تھا، پر دفعتاً غنودگی سی چھا گئی۔۔۔۔۔۔
’’آسمان پر یہ خون جیسے سرخ بادل۔۔۔۔۔ اے اوپر والے رحم فرمائو۔۔۔۔۔۔‘‘۔  
آسمان پر چھائے سرخ بادل دیکھ کر ریتا کے مُنہ سے بے ساختہ نکلا۔ 
’’ ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا۔۔۔یہ سرخ بادل جب برسیں گے تو دھرتی اور یہاں موجود سب مخلوقات آن کی آن میں بھسم ہو کر رہ جائینگے اور یہی ہمارا مقصد ہے ۔۔۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔‘‘۔
ایک کالے رنگ کا بدصورت ہیولا، جس کی آنکھیںسرخ انگاروں جیسی تھیں،اس کے سامنے نمودار ہو کر زور زور سے قہقہے لگاتے ہوئے بولا۔
’’ نہیں ۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوگا ،ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ تو پھر کیسا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ ساری دھرتی جو ہمارے سرخ بادلوں کے سائے میں ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک دن یہ بادل برس کے ہی رہینگے ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا۔۔۔۔۔‘‘۔
’’کون ہو تم۔۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
بڑبڑاتے ہوئے اس کی آنکھ کھلی اور وہ اٹھ بیٹھی ۔وہ اوپر سے نیچے تک پسینے میں شرا بور ہو چکی تھی،اس نے پانی کے چند گھونٹ  حلق سے نیچے اتارے اور اپنے آپ کو سنبھالنے لگی۔کئی دنوں سے اسے یہی سپنا آرہا تھا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بار بار اسے یہی ڈراونا سپنا کیوں آرہا ہے ؟ 
’’میڈم ۔۔۔۔۔۔ آپ  ہاتھ مُنہ دھو لیجئے ،میں کھانا لگا دیتی ہوں‘‘۔
سیما کی آواز سے وہ سوچوںکی دنیا سے باہر آگئی۔
’’ سیما ۔۔۔۔۔۔ پا پا آگئے کہ نہیں‘‘ ۔
’’ میڈم ۔۔۔۔۔۔صاحب تو کب کے آگئے ‘‘۔
’’ اچھا تم جائو میں ابھی آتی ہوں‘‘۔    
اب اس کے ذہن پرحالات کی سنگین صورتحال اور سرخ بادلوں والے ڈراونے سپنے کی دوہری مار ہتھوڑے بن کر برس ر ہے تھے ۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ اپنے دل کابوجھ ہلکا کرنے کے لئے وہ یہ ساری باتیں اپنے پا پا سے شیئر کرے گی،وہ اکثر پا پا کے ساتھ دنیا کے موجودہ حالات پرگفتگو کر تی تھی اور موجودہ سیاسی نظام کی بھی کافی حد تک جانکاری رکھتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر فریش ہونے کے لئے واش روم کی طرف گئی۔ 
’’سر ۔۔۔۔۔۔ بہت خون خرابہ ہو چکا ہے، عوام کی حالت دن بہ دن خراب ہو رہی ہے اورغیر یقینی حالت کے چلتے ہر طرف قحط جیسی صورتحال ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
دفعتاً اس کی سماعتوں سے اس کے پا پا،جو ایک بڑاسیاستدان تھا،کے اسسٹنٹ کی آواز ٹکرائی۔ 
’’یہ سب کرنا ہماری مجبوری ہے اور مجبوری میں ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں‘‘۔
اس نے اسسٹنٹ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ پا پا کی بات سن کر وہ رک کر ڈرائینگ روم کی طرف کان لگا کر سننے لگی ۔
’’سر۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ ساتھ دشمن کے پاس بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
’’تو کیا ہوا،دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ہمارے ساتھ ہیں اس لئے ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘‘۔
’’سر ۔۔۔۔۔۔ ان کے ساتھ بھی کئی بڑی طاقتیں ہیں‘‘۔
’’ وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ہم ان سب کو ملیا میٹ کرکے رکھ دینگے‘‘ ۔
اس نے سفاک لہجے میں کہا۔
’’ اور وہ تماشہ دیکھیں گے ۔۔۔۔۔۔؟‘‘   
اسسٹنٹ پہلے طنزیہ انداز میں دھیرے سے بڑ بڑایااور پھر گویا ہوا ۔ 
’’مگر سر ۔۔۔۔۔۔ ہمارا بہت زیادہ سرمایہ اس مجبوری کی نذر ہو رہا ہے اور کروڑوں ڈالر کے تباہ کن ہتھیار خریدنے سے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوکر بھکمری کا شکار ہورہے ہیں ‘‘۔
’’بھاڑ میں جائے تمہارا عوام ۔۔۔۔۔۔ ساری دنیا پر اپنی طاقت کا سکہ بٹھانے کے لئے ہمارے لئے ایسا کرنا ضروری ہے،ورنہ ہماری ناک کٹ جائے گی اور ہاں،تمہیں ان مسئلوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ،اپنے کام سے کام رکھو‘‘ ۔ 
اس نے ناک سکیڑ کر سخت لہجے میں کہا ۔پا پا،جو ہر وقت محبت اور امن و شانتی کی گل افشائیاں کرتا رہتا تھا، کی یہ جنونی باتیں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح ریتا کے کانوں میں اتر گئیں اور اس کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی۔
’’پا پا ۔۔۔۔۔۔ ریتا نے اس پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈالی اور چند سیکنڈ گھورنے کے بعد زور زور سے ہنسنے لگی‘‘ ۔
’’ ریتا بیٹی ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ،تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔
’’پا پا۔۔۔۔۔۔  یہ سرخ بادل جب برسیں گے نا تو کچھ بھی نہیں بچے گا ۔۔۔۔۔۔تم بھی نہیں اور ہم بھی نہیں،کیوں کہ گیہوں کے ساتھ ساتھ گھن بھی پسے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ ‘‘۔
’’سرخ بادل ؟۔۔۔۔۔۔ کیسے بادل ،کون سے بادل۔۔۔۔۔۔؟‘‘
وہ اپنی لاڈلی بیٹی،جس کے چہرے پر تنائو کی گہری لکیریں صاف دکھائی دے رہیں تھیں،کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا ۔
’’پا پا ۔۔۔۔۔۔ آپ بہت سیانے ہیں۔۔۔ہا ۔۔۔ ہا ۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہتے ہوئے ریتا پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی اورسرخ بادل ،سرخ بادل رٹتے ہوئے عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگی ۔کچھ دیر تک ریتا کی حرکتوں کو غور سے دیکھنے کے بعد پاپاسخت پریشانی ا ور بے چینی کی حالت میں نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر کو فون کرکے ریتاکی حالت کے بارے  میںبتانے لگا۔ 
٭٭٭
رابطہ ؛ اجس بانڈی پورہ193502کشمیر 
tariqs709@gmail.com ، موبائل نمبر9906526432