تازہ ترین

فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید

علامہ اقبالؒ کا تاریخ ساز کردار

20 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق۔۔۔ سری نگر
 فکر  اٹھ کہ ا ب بزم جہاں کا اورہی انداز ہے:
اقبال بندوں کو بندوں سے جوڑنے کی تلقین کرتے ہیں پھر بندوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پرز ور دیتے ہیں۔ وہ نا صرف سیاسی غلامی ،مغربی فکر و تہذیب کی غلامی، رنگ ونسل کی غلامی، وطن کی غلامی، باطل افکار ونظریات کی غلامی اور تقلید محض کی غلامی سے بلکہ اپنے جیسے انسانوں کی بھی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی پر بہت تاکید کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات پر یقین محکم تھا کہ غلامی ہی ایک ایسی لعنت ہے جس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے اور ضمیر فروشی کا کار بد انجام دے کر کوئی بھی قوم یا ملت تخلیقی صلاحیتوں اوراجتہادی بصیرت اورزمانہ شناسی، ستاروں پر کمند ڈالنے اور مستقبل کی تعمیر کرنے سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اس لئے اقبال ملت اسلامیہ کوجملہ غلامیو ں سے چھٹکارا حاصل کرنے پر بار بار ابھارتے ہیں اور صرف اور صرف خدائے لاشریک کی غلامی اور فرمابرداری کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی غلامی وبندگی سے انسان کو نجات مل سکتی ہے ۔غلا مانہ ذہنیت اورغلا مو ں کو غلامی کے خلاف اس طرح سے ابھارتے ہیں   ؎
گرما غلاموں کا لہو سوز یقین سے   
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑادو
اٹھ کہ بزم میں جہاں کا اورہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اجتہادکی ضرورت اور اہمیت:
اقبال اسلامی قانون کی تدوین نو یا تشکیل جدید کی پر زور وکالت کرتے ہیں ۔اقبال کے نزدیک اسلامی فقہ کسی جامد و ساکن اور میکانکی(Mechnaical ) کانام نہیں بلکہ اس میں مسلسل نمو و ارتقا ء اور حرکیت جیسی خصوصیات موجود ہیں ۔اسلامی فقہ کی تدوین نو اسلام کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے تھے ان کاماننا ہے کہ عصر حاضر میں قدیم فقہی مواد میں نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ا قبال اجتہاد کی اہمیت وافادیت پر بہت زوردیتے ہیں وہ انفرادی اجتہاد کے بجائے اجتماعی اجتہاد کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ اقبال فقہ و قانونِ اسلامی کی اصلاح (Reformation) کے بجائے اس کی تشکیل جدید Reconstructionکا تصور پیش کرتے ہیں ۔(اقبال کا تصور اجتہاد از محمد خالد مسعود)خطبات میں وہ لکھتے ہیں کہ’’ اجتہاد کی یہ آزادی کہ ہم اپنے شرعی قوانین کو فکر جدیدکی روشنی میں اور تجربہ کے مطابق از سر نو تعمیر کریں بہت ناگزیر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسلامی قانون کی اصطلاح میں اجتہاد کا معنی وہ کوشش ہے جو کسی قانونی مسئلے میں آزادانہ رائے قائم کرنے کیلئے کی جائے۔ 
مرعوبانہ ذہنیت پر وار: 
۱۸۵۷ء کے بعدبر صغیر میں مسلمان نہ صرف ذ ہنی غلام ہوچکے تھے بلکہ سیاسی طور پر بھی انگریزوں کے مکارانہ سیاسی چالوں میں پھنسے ہوئے تھے ۔ برصغیر میں مسلمان سے مایوسی اور نا امیدی کے ساتھ ساتھ جمود و انحطاط کے بادل چھٹتے نظر نہیں آرہے تھے۔ ان حالات میں سید مودودیؒ ؒاور اقبالؒ نے اسلام کے حرکی تصور اور اس کو متبادل کے طور پر سائنٹفک اسلوب میں پیش کرنے کی عظیم کوششیں کیںجسے ہم آج مجتہدانہ کارناموں کے نام سے گردانتے ہیں مغربی فکر و تہذیب سے گلوخلاصی پانے کے لئے امت کو محفوظ رہنے پر زور دیتے تھے۔مرعوبانہ ذہنیت کے شکار علما ء اور نوجوانوںپر کھل کر تنقید کرتے تھے ۔غیر اسلامی افکار ونظریات میں مبتلا نوجوانوں کو اسلامی نظریہ حیات کو اپنانے کی پر زور دعوت دیتے تھے پلٹنا جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنے کی تلقین کرتے تھے پھر ان کو ستاروں پر کمند ڈالنے کے لئے کہتے ہیں ۔
مغربی تہذیب سے گریز کی راہ:   
مغربی فکر وتہذیب پر انہوں نے تحلیلی تجزیہ کرکے اس کی جملہ خرابیوں کو بھی پوائنٹ آؤٹ کیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو مغرب کی فکر وتہذیب سے گریز کی راہ اختیار کرنے سے زبردست اجتناب برتنے کی تلقین کی ہے ۔ اس پر وہ بات ختم نہیں کرتے بلکہ وہ اس تہذیب کو اپنانے پر اس کو ذلت کے مترادف قرار دیتے ہیں۔بقول ڈاکٹر علی شریعتی:’’اقبال نے سب سے پہلے مشرق و مغرب دونوں کا فکری تحلیل و تجزیہ کیا اور دونوںکے طرز زندگی اور تہذیب وتمدن کا موازنہ کرتے ہو ئے اس نتیجہ پر پہونچے کہ مشرق نے حق کو تو دیکھا مگر دنیا کو نہیں دیکھامغرب نے ، دنیا کو دیکھا مگر حق سے گریزاں رہااس کے بعد وہ اعلان کرتے ہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن کے سامنے سر تسلیم خم کر دیناذلت کا بھی فعل ہے اور مغرب کی غلامی کا بھی‘‘۔(اقبال مصلح قرن آخراز ڈاکٹر علی شریعتی)
موجودہ نظریہ تعلیم پر تنقید:
اقبال ایک بہترین ماہر تعلیم بھی تھے ان کا تعلیمی نظریہ بہت واضح اور منقح تھا۔ا نہوں نے جدید اور مغربی نظام تعلیم کابھر پور تنقیدی جائزہ لیا جو ہمارے لئے رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ رائج نظام تعلیم جو ہر سو الحاد اور غیر اسلامی نظریات پھیلا رہا ہے۔ اقبال نے اس سے سخت بیزاری ظاہر کی کیونکہ اس نظام تعلیم سے ترقی کے ساتھ ساتھ الحاد خوب بھی پنپ رہا ہے    ؎
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوںکی ترقی سے 
مگر لب خنداں سے نکل جاتی ہیں زیاں بھی ساتھ 
ہم سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی چلا آئے گاالحاد بھی ساتھ
 مغرب سے برآمد شدہ نظام تعلیم ہمارئے نوجوانوں کوتعلی پسندی ، تکبراور خود پسندی کے سوا کچھ نہیںدیتا چنانچہ فر ماتے ہیں:
تعلیم مغرب ہے بہت جرأت آفرین   
پہلا سبق ہے بیٹھ کے کالج ماڈرینگ 
رائج نظام تعلیم میں اقبال کے نزدیک ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ یہ نوجوانوںاور طلبہ کو فکر معاش میں مبتلا کر دیتا ہے اور اسی فکر معاش میں وہ مال و زر کا ہی ہو کر رہ جاتاہے      ؎
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے 
قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکر معاش 
جب یہ نظام تعلیم ایک طالب علم کو جدائی کا سامان بہم پہنچاتا ہے تو اس کے فتنہ بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں سے جو تعلیم ملتی ہے وہ روحانی تسکین کے بجائے صرف مادی ضروریا ت کو پورا کر تی ہے۔ رائج تعلیمی اداروںسے سوز وگداز ، فکرو عمل ،خلوص ومحبت، جفا کشی اور معرفت الہٰی سے خالی ہیں۔ چنانچہ اقبال انہی مدرسوں اور کالجز کے بارے میں اس طرح سے افسوس ظاہر کرتے ہیں    ؎
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک                   
 نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ 
اوردوسری جگہ کہتے ہیں    ؎
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا 
کہا ں سے آئے صدا لا الہٰ الااللہ
غرض اقبال کی فکر عصر حاضر میں کافی اہمیت وافادیت کی حامل ہے ان کی فکر سمجھنے کے لئے ہمیںان کے افکار و نظریات کا بھر پور مطالعہ کر نا چاہیے ۔  (ختم          شد)
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،شعبہ اسلامیات، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
فون نمبر6397700258