تازہ ترین

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

برسر اقتدارپھر ایک بار

20 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
اسرائیل  کے حالیہ الیکشن میں بن یامین نیتن یاہو کی جیت کے بعد فلسطین کے مظلوم عوام پہ مظالم بڑھنے کا امکان ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں پہ گرفت وسیع تر اور سخت تر ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ الیکشن میں جیت کے باوجود نیتن یاہو کی جیت کو قطعی نہیںکہا جا سکتاگر چہ اُن کی پارٹی جسے لیکویڑ (Likud ) کہا جاتا ہے اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کے اُبھری ہے ۔ اسرائیلی قانون سازیہ میں 120 ممبر ہوتے ہیں اور حکومت سازی کیلئے کم از کم 61ممبراں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ نیتن یاہوکی حزب کے ممبران کی تعداد 36 ہے اور الیکشن میں اس پارٹی کو صرف و صرف 26.45 فیصدی ووٹ ملے ہیں ۔ قلیل حمایت کے باوجود لیکویڑ پارٹی کا پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کے طور پہ اُبھر کے آنااِس حقیقت کا اشارہ ہے کہ اسرائیلی رائے دہندگاں میں گہرے شگاف پائے جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کیلئے حزب لیکویڑ کو 61ممبران کا ہندسہ پورا کرنے کیلئے  27ممبروںکی حمایت درکار ہے ۔ خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اقتدار کے گٹھ بندھن کیلئے نیتن یاہو کو 65نمائندوں کی حمایت حاصل ہے۔یہ حمایت دائیں بازو کی کئی چھوٹی جماعتیں اور محافظ کارانہ مذہبی جماعتوں کی مرہون منت ہے۔
اسرائیلی الیکشن کے پیش منظر کی تجزیہ کاری سے پہلے مناسب ہو گا کہ اسرائیلی اپوزیشن کی صف بندی پر بھی ایک نظر ڈالی جائے تاکہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے خد و خال کا قارئین محترم کو بھر پور اندازہ ہو جائے۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکویڑ کے بعد دوسری بڑی جماعت متوسط نظریے کی بلیو و وائٹ(Blue and White) پارٹی ہے۔ دیکھا جائے تو حزب لیکویڑ اور بلیو و وائٹ پارٹی میں انیس بیس کا فرق ہے یعنی جہاں حزب لیکویڑ کے ممبراں کی تعداد 36 ہے وہی بلیو و وائٹ پارٹی کے ممبراں کی تعداد 35 ہے اور جہاں حزب لیکویڑ کو 26.45  فیصدی رائے دہندگاں کی حمایت حاصل ہوئی ہے وہی بلیو و وائٹ پارٹی کو 26.11فیصدی ووٹروں نے نمائندگی کا حق دیا ہے۔ جہاں کولیشن سرکار بنانے کیلئے بن یامین نیتن یاہو کو  65 ممبراں کی حمایت حاصل ہونے کی خبر ہے وہی حزب مخالف کے ممبراں کی تعداد 55 رہ جاتی ہے جس میں بلیو و وائٹ پارٹی کے علاوہ بائیں بازو کی جماعتیں اور عربی احزاب شامل ہیں ۔عربی احزاب کے ممبراں کی تعداد 10 ہے جو اعراب کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے زیادہ بھی ہو سکتی تھیںلیکن ایک تو اعراب کی خاصی تعداد الیکشن کی نسبت لا تعلق ہے ثانیاََ جو انتخابی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ بٹے ہوئے ہیں۔ 
مقبوضہ فلسطین کے اعراب تین حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو اسرائیل میں بستا ہے جن کی تعدادکم و بیش  2ملیون ہے جو  6ملیون یہودیوں کے بیچوں بیچ رہتے ہیں ۔ اِنہیں اگر چہ ووٹ دینے کا حق حاصل ہے البتہ اسرائیلی ریاست نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک یہودیوں کا ہے اور یہی اُس کی شناخت رہے گی چناچہ اعراب دوسرے درجے کے شہری بنے رہیں گے۔اسرائیل ویسے یہودیوں کیلئے ہی بنا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مغرب نے اعراب کے سینے میں ایک خنجر گھونپ دیا تاکہ عربی دنیا کے وسائل پہ قابض رہنے کی راہ ہموار ہو جائے البتہ اسرائیل کو رسماََ یہودیوں کی ریاست کا نام دینا نیتن ہاہو کے سازشی دماغ کی اختراع ہے۔یہ اُس سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے وہ اعراب کو دیوار سے لگانے کیلئے کر رہے ہیں ۔اسرائیلی ریاست جو دور اصل مقبوضہ فلسطین ہے میں اعراب کی  2ملیون تعداد کے علاوہ غازہ کی پٹی میں بھی کم و بیش  2ملیون اعراب سکونت پذیر ہیں اور یہاں مزاحمتی محاز کی صفوں کی صفیںاسرائیلی سیکورٹی کو ایک سخت امتحان میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ اعراب کی تیسری کڑی رود اُردن کے مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی (PA: Palestinian Authority )کے تحت اسرائیلی سیکورٹی کے پنجے میں گذر بسر کر رہی ہے۔اُنکی تعداد بھی تقریباََ دو ملیون ہے۔  یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کی خاصی تعداد اُن عربی ممالک میں مہاجروں کی حثیت سے رہ رہی ہے جو فلسطین کے ارد گرد واقع ہیں جن میں اُردن،مصر اور شام شامل ہیںبلکہ اُردن کے باشندگاں کی خاصی تعداد فلسطینی ہے۔ 
مقبوضہ فلسطین کے سیاسی نقشے میں ظاہر ہے اعراب تین حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کے یہ تینوں خیمے اِس حساب سے نصب گئے ہیں جہاں وہ اسرائیلی سیکورٹی کیلئے کوئی خطرہ نہ بن جائے۔نام نہاد اسرائیلی ریاست میں رہنے والے اعراب کاملاََ اسرائیلی سیکورٹی کے حصار میں رہ رہے ہیں۔رُود اُردن کے مغربی کنارے پر محمود عباس کی سر کردگی میں فلسطینی اتھارٹی ((Palestinian Authority  کے اختیارات ایک بلدیاتی انتظامیہ سے بیشتر نہیں۔یہاں ایک فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے لئے نا قابل قبول ہے۔ریاست کے عنواں کیلئے سیکورٹی پہ کنٹرول ہونا اولین شرط ہے لیکن یہ ایک عیاں حقیقت ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سیکورٹی کنٹرول سے بے بہرہ ہے ۔  فلسطینی اتھارٹی کا غازہ کی پٹی پہ کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے چونکہ پٹی کے مزاحمتی خیمے کی کمانڈ حماس کے ہاتھوں میں ہے ۔ محمود عباس کی سر کردگی میں فلسطینی اتھارٹی اور حماس میں اسرائیلی سیکورٹی کنٹرول کی نسبت رد عمل میں اختلاف ہے۔محمود عباس کیلئے بھی اسرائیلی سیکورٹی کنٹرول قابل قبول نہیں لیکن اُنکی مزاحمت نرم روی کا روپ دھارے ہوئے ہے۔اُن کی محاز آرائی محض سیاسی ہے جس میں جنگجویانہ عنصر شامل نہیں جبکہ غازہ کی پٹی کی مزاحمت کوئی بھی حد پار کرنے کیلئے تیار ہے۔  
محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی ابھی بھی اوسلو ایکارڑ پہ تکیہ کئے ہوئے ہے۔ اوسلو ڈنمارک کی راجدھانی ہے جہاں 20ویں صدی کے آخری دَہے میں نام نہاد اسرائیلی ریاست اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (Palestine Liberation Organization: PLO) کے مابین دو ریاستوں کے قیام کے بارے میں مذاکرات ہوئے ۔اِن دو ریاستوں میں سے اسرائیلی ریاست کے علاوہ رود اُردن اور غازہ کی پٹی پہ ایک فلسطینی ریاست کاقیام بھی طے پایا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے رہبر اُس زمانے میں یاسر عرفات ہوا کرتے تھے جبکہ اسرائیل میں اقتدار یتزاک ریبین (Yitzhak Rabin)کے ہاتھوں میں تھا جو کہ لیبر پارٹی کے رہبر تھے۔ اوسلو ایکارڑ در اصل دو ایکارڑوں کا مجموعہ تھا جن میں سے ایک 1993ء میں امریکہ میں اور دوسرا   1995ء میں مصر میں طے پایا۔ اوسلو ایکارڑ اسرائیل میں شدید اختلاف کا سبب بنا ۔اختلاف کا سبب اسرائیلی سیکورٹی کے بارے میں خدشات تھے۔ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی دائیں بازو کی احزاب اور محافظ کار انہ مذہبی جماعتوں کے لئے نا قابل قبول قرار دیا گیا۔فلسطینیوں سے ایک قابل قبول سمجھوتہ کرنا اسرائیل کے وزیر اعظم اسبق یتزاک ریبین (Yitzhak Rabi) کیلئے مہنگا سودا ثابت ہوا اور اُن کو اپنی جان سے اُس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔وہ قتل کر لئے گئے۔ریبین لیبر پارٹی کے رہبر تھے جو کہ بائیں بازو کی حزب مانی جاتی ہے جبکہ دائیں بازو کی جماعت حزب لیکویڑ کی رہبری بن یامین نیتن یاہو کے ہاتھ آئی اور یہی سے اُن کا سیاسی گراف رو بہ بالا رہا۔ نیتن یاہو نے ایک فلسطینی ریاست کے ممکنہ قیام سے سیکورٹی کے ضمن میں اسرائیلی عوام کے خدشات کو کھلی ہوا دی ۔
 بن یامین نیتن یاہو کی سوا نح عمر ی (Bibi: the Turbulent Life and Times of Benjamin Netanyahu)کے مورخ اسرائیلی جرنلسٹ انشل پی فیفر(Anshel Pfeiffer) کی ایک حالیہ ملاقات کا حوالہ معروف عالمی جریدے ’فارین پالیسی(Foreign Policy)‘ میں منعکس ہوا ہے۔موصوف کا ماننا ہے کہ بی بی (Bibi)نے اسرائیلی عوام کے ذہنوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کا ڈر بٹھا دیا بہ معنی دیگر بد ترین خدشات کو ہوا دی ۔  بی بی (Bibi) نیتن یاہو کا اسم مخفی ہے۔ انشل پی فیفرکا مانناہے کہ یتزاک ریبین (Yitzhak Rabin )کے قتل کے بعد لیبر پارٹی کے رہبر شیمون پیریس (Shimon Peres)انتخابات کی دھوڑ میں نیتن یاہو سے 20 پوئنٹس سے آگے تھے لیکن ڈر اور خدشات کی فضا میں پانسہ پلٹ گیا اور نیتن یاہو ایک خفیف سے فرق کے ساتھ انتخابات جیت گئے ۔ 1996ء کے انتخابات میں نیتن یاہو پہلی دفعہ اسرائیل کے وزیر اعظم بن گئے۔ 1996ء سے آج تک وہ چہار بار اسرائیل کے وزیر اعظم بن چکے ہیںاور اب پانچویں باری کی تیاری ہے۔ نیتن یاہو دو ادوار میں وزیر اعظم رہے ۔پہلی دفعہ 1996ء سے 1999 ء تک اور پھر وہ 2009ء سے 2019ء تک متواتر وزیر اعظم رہے اور یہ دور ابھی جاری ہے البتہ ہر بار اُن کی انتخابی سبقت خفیف نوعیت کی رہی ہے ۔نیتن یاہو کی سخت گیر پالسیوں کو کبھی بھی اسرائیلی عوام کی قطعی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔وہ جب بھی وزیر اعظم بنے اُنہیں ایک کولیشن سرکار کی سر براہی کرنی پڑی جو دائیں بازو کی انتہا پسند اور مذہب پرست سیاسی جماعتوںکی مرہون منت رہی۔آج بھی سیاسی فضا کچھ ایسی ہی ہے بلکہ آج پہلے کی نسبت نیتن یاہو بیشتر انتہا پسند جماعتوں کی حمایت کے طالب ہیں چونکہ اُن پہ کرپشن کے الزامات ہیں اور فردجرم عائد ہونے کی صورت میں اُن کو سزا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم کے آفس کو کرپشن کی تحقیقات سے بچانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے اور اِس کے لئے نیتن یاہو کو اپنی حامی جماعتوں کے ہر مطالبے کو ماننا پڑے گا ۔ مطالبات میں سر فہرست رود اُردن کے مغربی کنارے پہ یہودی بستیوں کو دائمی طور پہ اسرائیل کی نام نہاد ریاست میں شامل کرنا ہے بالکل اُسی طرح جیسے یروشلم کو اسرائیل نے اپنے قبضے میں لے کے اُسے اسرائیل کا دارلخلافہ بنایا ہے۔
یروشلم پہ اسرائیلی قبضے کو امریکہ نے عالمی رائے عامہ کے خلاف رسمیت بخشی ہے اور اپنے سفارت خانے کو بھی یروشلم منتقل کیا ہے۔امریکہ اِس غلط کاری میں تقریباََ تک و تنہا ہو اور عالمی ممالک کی اکثریت مطلق نے رسمیت بخشنے کے اِس فیصلے کی بھر پور مخالفت کی ہے۔ مغربی کنارے میں بھی امریکہ نے اپنا دفتر بند کیا ہے جو امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین سفارتی فرائض انجام دیتا تھا اور واشگٹن میں بھی فلسطینی اتھارٹی کے دفتر کو بند کیا گیا ہے۔اِس کے علاوہ امریکہ نے فلسطینیوں کی مالی امداد بند کر لی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ نے اُس رسمیت سے ہاتھ کھنچ لیا ہے جو فلسطینی اتھارٹی کو حاصل تھی۔یہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کو رسماََ اسرائیل کی نام نہاد ریاست میں شامل کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ اوسلو ایکارڑ کا وجود  یتزاک ریبین (Yitzhak Rabin)کے ساتھ ہی دفنایا گیا لیکن ابھی تک اُس کا بھرم قائم رکھا گیا تھاکیونکہ عالمی رائے عامہ کا تقاضا یہی تھا لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ کا صدر بنتے ہی یہ بھرم ٹوٹ گیا کیونکہ امریکی صدر کو بین الاقوامی معاہدوں کا مذاق اڑانے کی عادت ہو چکی ہے چاہے وہ ایران سے کیا ہوا معاہدہ ہو یا ماحولیات کو شفاف رکھنے کیلئے پیرس میں طے شدہ معاہدہ ہو۔
عصر حاضر میں یہ خبر عالمی ایوانوں میں گردش کر رہی ہے کہ اوسلو ایکارڑ کی جگہ جیرڑ کشنر ( Jared Kushner) کے امن منصوبے نے لی ہے ۔ موصوف کاخ سفید کے صلاح کار ہیں۔اُنہیں ڈونالڈ ٹرمپ کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل سمیت وہ مشرق وسطی کے ممالک میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور کافی با رسوخ ہیں۔ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کو نام نہاد اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کے بعد وہ مغربی کنارے کے بچے ہوئے علاقے کو اُردن کی فلسطینی آبادی سے جوڑنا چاہتے ہیں ۔اگر چہ ابھی تک اِس پلان کے بارے میں چہ میگوئیاں ہی ہو رہی ہیں لیکن اندازہ یہی لگایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے بجائے اُردن کی اراضی کو امن منصوبے میں شامل کر کے ایک ایسی فلسطینی ریاست کو وجود میں لانے کی سازش ہو رہی ہے جو سیکورٹی سے بے بہرہ ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیرڑ کشنر (Jared Kushner) سعودی عربیہ اور خلیجی ریاستوں کی حمایت حاصل کرنے کے درپے ہیں ۔سعودی عربیہ اور خلیجی ریاستوں کو مشرق وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے رسوخ سے خوفزدہ کرنے کا پلان ہے لیکن اند ر خانے کی یہ خبریں بھی موصول ہو رہیں ہیں کہ فرنٹ لائن عرب ریاستیں جن میں اُردن کے علاوہ مصر اور شام بھی شامل ہے اِس منصوبے کی مخالفت کر چکے ہیں۔اِس پلان کو عملیانے سے ایرانی اثر و رسوخ کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا امکان ہے چونکہ غازہ کی پٹی میں حماس اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ اسرائیلی سیکورٹی کیلئے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔بہر حال اونٹ جس کروٹ سے بھی بیٹھے گا بن یامین نیتن یاہو کی وزارت عظمی ٰ میں پانچویں باری عالمی اداروں میں طے شدہ قراردادوں اور عالمی قوانین کی پاسداری کیلئے امتحان کی گھڑی ہوگی۔
Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com