تازہ ترین

فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید

علامہ اقبالؒ کا تاریخ ساز کردار

19 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق سری نگر
فکر  اسلامی کا منبع ومصدر قرآن و سنت ہیں ان ہی کی روشنی میں نت نئے مسائل، عصری فلسفہ اور سائنسی رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فکر اسلامی کی تشکیل نو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس مسئلے کوجن مفکرین نے شدت کے ساتھ محسوس کرکے نمایاں رول ادا کیا ان میںعلامہ اقبال ؒکا  نام نمایاں و قابل ذکر ہے ۔علامہ اقبالؒ نے عصری مسائل ،جدید فلسفہ حیات اور سائنسی رجحانات کو اچھی طرح سے بھانپ کر عصری مسائل اور نظریات کو مدلل اور معقول جوابات بہم پہنچائے ۔مغربی تہذیب اورعلوم و فلسفہ سے پیدا شدہ تشکیک اور مسائل ، الحادی نظریات ، تعلیم جدید کا روحانی اقدار سے خالی ہونا، امت کے نوجوانوں کا مغربی تہذیب کا دلدادہ ہونا اور اسلام کے علمی ورثہ یعنی قرآن و سنت سے منھ موڑنا ، مذہب کو فرسودہ اور قصئہ پارینہ سمجھنا ، مسلمانوں میں اجتہادی بصیرت کا مفقود ہونا ،اسلام کے حرکی تصور سے روگردانی کرنا اندھی تقلید اور عقلیت پرستی جیسے نازک مسائل چیلنجز کے طور پر نا صرف بر صغیر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہے تھے ۔ ان حالات میں اقبال نے ان مسائل کی صحیح تشخیص کرکے امت میں پھیلے ہوئے ان تباہ کن فکری اور عملی برائیوں کو ثبو تاژ کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہیں۔ چونکہ اقبال حرکی شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قدیم وجدید علوم سے مسلّح تھے انھوں نے مشرق کو بھی دیکھا  اور یورپ کے ہر گھاٹ کا بھی پانی پیا تھا ۔ اس لئے ان چیلنجز کا بخوبی مقابلہ کیا۔  
علامہ اقبال ان ممتاز مفکرین ومصلحین میں سے ہیں جنھوں نے بیسوی صدی میں مشرق ومغرب کو اپنے فکر وخیالات سے ہلا کر رکھ دیا وہ صرف انقلابی و فکری شاعر ہی نہ تھے جیساکہ جند روشن خیال دانشوران کے متعلق کہتے ہیں بلکہ وہ تو ایک ایسے جید اسلامی مفکر اور اسکالر تھے جن کو بہت سارے علوم ونظریات پربہت اچھی نگاہ اور درک حاصل تھا ۔ فقہی مسائل سے لے کر سیاسی مسائل تک ان کی نگاہ اور اسکالر شپ بہت وسیع تھی ۔ انہوں نے مغربی علوم ،قرآن و حدیث ،فقہ اور تاریخ کا براہ راست مطالعہ کرکے اپنی فکری جہت کو وسعت دی۔ 
اقبال نے جب اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ کا رخ کیا تو وہاں کی روشن خیالی، تہذیبی چمک دمک اور متنوع افکار ونظریات اقبال ان کی آنکھوں کو خیرہ نہیں کر سکے ۔ بلکہ ان گندگیوں سے بچتے ہوئے انہوں نے مغرب و یورپی تحقیق و تعلیم اور سائنس سے بھر پور استفادہ کیا اور دوسروں کو بھی اس سے مستفید ہونے کی دعوت دی ۔ ان کے یہاں مغربی علوم سے استفادہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ ان میں لچک کا پہلو نمایاں ہے ۔اس کے علاوہ علامہ اقبال ؒ مغربی علوم ، خدمت خلق، محنت اور پابندی وقت وغیرہ کا بھی اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقبال مغربی علوم فنون ، الحادی نظریات ، مذہب بیزاری،حیا وپاک دامنی سے محروم تہذیب اور ان کی جملہ خرابیوں کا بھی پردہ چاک کیا ۔اقبال ان مفکرین یا دانشواروں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے مغربی فکر و تہذیب کو من وعن قبول کر لیااور اس کو اپنانے میںفخر محسوس کرتے ہیں۔اقبال نے یوروپی و مغربی فکر وتہذیب کی تہہ میںجاکر ان کے علوم وفنون کا پڑھا ،سمجھا ، پرکھا اور جانچا اور پھر مدلل اور بے لاگ تبصرہ و تنقیدکی۔اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے مغرب اور اس کی تہذیب ومعاشرت اور تاریخ کا گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ہمہ جہت مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کے باوجود مغرب زدگی سے اپنے  دامن کو ہمیشہ محفوط ومامون رکھا ۔ سید مودودیؒ ان کے متعلق رقمطراز ہیں ۔ 
’’مغربی تعلیم اور تہذیب کے سمندر میںقدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا ، اس کے منجد ھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ پایا گیا اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا ، اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا ۔یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہو چکا تھا ۔اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیںرہاوہ جو کچھ سوچتا تھا ، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا‘‘۔ 
شاہین کی صفات ان کی زندگی میں پیوست تھیں ۔ گفتار وکردار کے وہ حقیقی غازی تھے ۔احیائے اسلام یااسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے تھے ۔ اس کی مثال ان کی شاعری اور خطبات میں جگہ جگہ ملتی ہے ۔نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو ان کی زندگی کا نمایاں وصف تھا ۔ علامہ اقبال کبھی بھی پرواز سے نہ تھکے، چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسس جیسی صفات سے لیس ہو کر آسمان کی بلندیوں کو مسلسل چھوتے رہے ۔   
اسلام اور ہمہ گیر یت :
اسلام ایک جامع اور مکمل نظام زندگی ہے اس میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں پایا جاتی۔علامہ اقبال ؒ اسلام کو مکمل نظام ز ندگی کے طور پر ہی پیش کرتے ہیں اور ہر مسئلہ کو چاہے وہ سیاسی ہو ، سماجی ومعاشرتی مسائل ہوںیاا قتصادی مسائل ہوں یا روحانی ،قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اسلام کے عالم گیر پیغام جو کہ اس وقت مقامیت کے خول میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس پر اقبال اپنی تشویش کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ’’توحید کی تعلیمات شرک کے دھبّوں سے کم و بیش آلودہ ہو گئیں ہیں ۔اسلام کے اخلاقی ادرشوں کا عالم گیر اور غیر شخصی کردار مقامیت میں گم ہو گیا ہے ۔ہمارے سامنے اب ایک ہی کھلی راہ ہے کہ ہ اسلام کے اوپر جمے ہوئے کھرنٹ کو کھرچ ڈالیں جس میں زندگی کے بارے میںاساسی طور پر حرکی نقطہ نظر کو غیر متحرک کر دیا ہے اور یو ںو ہ اسلام کی حریت مساوات اور یکجہتی کی اصل صداقتوں کو دوبارہ دریافت کرلیں‘‘۔ان کے یہاں اسلام کا تصور حیات جامد Stagnant) (نہیں بلکہ متحرک ہے اسلام کے اس وصف کو اقبال نے نمایاں طور پر واضح کیا ۔ 
دین وسیاست میں جدائی: 
وہ سیاست اور اسلام کو ایک اکائی کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے جدائی چنگیزیت سے تعبیر کرتے ہیں۔سیاسی نظام کا پہلو دین اسلام کے تابناک اجز امیں سے ایک نمایاںجز ہے۔اس جز کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ۔ اقبال نے سیاسی نظام کے رہنما اصول بھی پیش کئے ہیں اور قانون سازی کے لئے وہ قرآن، حدیث ،قیاس اور اجماع کو بنیادی ماخذ کے طور پر گردانتے ہیں۔اس میں انہوں نے قدیم علماء کی روش کو برقرار رکھا ہے ۔اسلام ایک ناقابل تقسیم حقیقت ہے جسے دنیوی اور اخروی خانوں میں بانٹانہیں جاسکتا ہے ۔ چنانچہ اقبالReconstruction of religous thought in islam میں واضح طور پر لکھتے ہیں۔ ’’اسلام میں روحانی اور مادی دو الگ الگ خطے نہیں ہیں ۔۔۔۔قرآن کی رو سے حقیقت مطلقہ روحانی ہے ۔اور اس کی زندگی زمانی فعالیت سے عبارت ہے روح کو فطرت مادیت اور دنیوی امور میں ہی اسے اظہار کیلئے مواقع ملتے ہیں ۔ اس طرح یہ دنیوی بھی اپنی ہستی کی اساس کے طور پر روحانی ٹھہرتی ہیں‘‘۔
دین وسیاست کی علیحدگی کا فتنہ بیسویں صدی کے نصف پر عروج پر پہنچ گیا اس میں جن دو اشخاص نے نمایاں رول ادا کیاان میں مارٹن لوتھر کنگ اور لارڈ میکاولے قابل ذکر ہیں ۔ ان دونوں نے روح اور مادہ اوردین اورسیاست کے درمیان تفریق کر ڈالی انہی سے متاثر ہو کر مسلم دانشوروں اور علماء نے تتبع کی راہ اختیار کی اوران حالات میں اقبال نے بادشاہت و ملوکیت وجمہوریت اور دین وسیاست کی علیحدگی کے اس فتنہ پر کاری ضرب لگائی ۔علامہ فرماتے ہیں    ؎
جلال پاد شاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو 
 جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اس کے ساتھ ساتھ اقبال دین وسر مایہ ،دین وملک اور جسم و تہذیب کے درمیان علیحدگی کو بھی رد کر دیتے ہیں    ؎
ہو ئی دین ودولت میںجس دم جدائی
ہو اس کی امیری ہو اس کی وزیری
 دین ایک اکائی ہے  :
اقبال دین کو اکائی کی حیثیت سے مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں اور وہ اس کے درمیان تفریق کے بالکل خلاف ہیں۔اس حوالے سے اقبال اپنے ایک لیکچر میں فرماتے ہیں۔Islam does not bifurcate unity of man into an irrecocible duality of sprit and matter .In islam God and the universe ,sprit and the matter ,church and the state  are organic to each other .(speaches and statement of iqbal) 
 فکر اسلامی کے لئے منصوبہ:
اقبال نے فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے لئے ایک منصوبہ بنایاتھا جس کی تکمیل کیلئے انہوں نے ایک ایسا ادارہ(academy) جس میں ایسے مخلص نوجوان اسلامی ماحول میں رہ کر مختلف علوم میں مہارت حاصل کرکے مختلف علمی فیلڈ میں تحقیقی کام کر سکیںاسی کام کے لئے انھوں نے سید مودودیؒ کو بھی خط لکھا تھا ۔جس میں انھوں نے سید مودودیؒ کو حید راآباد سے دار الاسلام آنے کی دعوت دی تھی ۔ سید مودودیؒ نے بھی اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے ہاں کر دی اور دار الاسلام آنے کے لئے تیاری کرنے لگے اسی دوران سید نذیر نیازی کاخط مولانا کو ملا جس میں یہ لکھا ہو اتھا کہ جس قدر ممکن ہو ، لاہور آئیے کیونکہ اقبال کی صحت اچھی نہیں ہے ‘‘۔لیکن بد قسمتی سے اس خط کے تیسرے روز اقبال خالق حقیقی سے جا ملے اس طرح سے اسلامی اکیڈمی جو اقبال کے خوابوں کا مرکز تھا شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔(خطوط مودودی) 
تیرے ضمیر پے جب تک نہ ہو نزول کتاب
اقبال کو قرآن مجیدسے بے پناہ لگاؤاور قلبی وابستگی تھی انہوں نے قرآن حکیم کی فکر کو فوکس پوائنٹ بنا رکھا تھا ۔وہ قرآن حکیم سے براہ راست استفادہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں   ؎
تیرے ضمیر پے جب تک نہ ہو نزول کتاب 
گرہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف 
مطالعہ قرآن کے حوالے سے کہتے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ جب ہم وید، انجیل وغیرہ کا مطالعہ کرنے کے بعد قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا خیالات کی ایک نئی فضا میں داخل ہو گئے ہیں افسوس کہ مسلمانوں کو قرآن کی جدت کا احساس نہ ہوا ( علامہ اقبال شخصیت اور فن ) مقدمۃالقرآن کے نام سے اصول تفسیر پر ایک کتاب بھی لکھنا چاہتے تھے ۔ لیکن زندگی نے وفا نہیں کی اس لئے یہ خواب بھی ادھورا ہی رہا ۔اس کتاب کے حوالے سے ان کا تصور یہ تھا کہ یہ وہ کتاب ہو گی جو یورپ کے تمام نظریات کو توڑ پھوڑ کے رکھ دے گی ‘‘۔اقبال کے نزدیک قرآن مجید کی اصل غایت آدمی اور کائنات کے متنوع تعلقات کا شعور پیدا کر نا ہے ۔چناچہ وہ فرماتے ہیںکہ ’’قرآن خدا اورکائنات کے ساتھ انسان کے تعلق کا اعلی شعور پیداکرتا ہے ‘‘۔(تشکیل جدید الہیات)خدااور بندے کے درمیان تعلق اسی وقت استوار ہو سکتا ہے جب وہ قرآن میں غوطہ زن ہو کر اس کے اسرارو معارف کے خزانے حاصل کرے اسی لئے وہ دعا گو بھی ہیں    ؎
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار 
 اٹھ کہ ا ب بزم جہاں کا اورہی انداز ہے:
اقبال بندوں کو بندوں سے جوڑنے کی تلقین کرتے ہیں پھر بندوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پرز ور دیتے ہیں۔
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،شعبہ اسلامیات،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
فون نمبر6397700258
(بقیہ سنیچر کے ملاحظہ فرمائیں)
 

تازہ ترین