تازہ ترین

تجارتی انجمنوں اور ٹرانسپورٹروں کی ہڑتالی ٹھیکداروں کی حمایت

سرکار پر کشمیریوں پراقتصادی جنگ تھوپنے کا الزام،واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ

18 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// تجارتی اتحاد’ سوشو اکنامک کارڈی نیشن کمیٹی‘ اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے علاوہ ٹرانسپوٹروں نے سرینگر میں28 دنوں سے واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی پر خیمہ زن ٹھیکداروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹھیکداروں کے مسائل کو حل کیا جائے۔ ٹھیکدار چیف انجینئرنگ کمپلیکس راجباغ میں4ہفتوں سے خیمہ زن ہیں۔ بدھ کو کشمیر سوشو اکنامک کارڈی نیشن کمیٹی،کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے دو دھڑوں اور بٹہ مالو ٹریڈرس فیڈریشن اور بٹہ مالو ٹرانسپورٹ کارڈی نیشن کمیٹی کے ذمہ داروں نے راجباغ جاکر کر دھرنے پر بیٹھے ٹھکیداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری سراج احمد سراج نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ٹھیکداروں کے واجبات کی ادائیگی میں گورنر انتظامیہ کیوں تاخیری’’حربوں کا استعمال‘‘ کر رہی ہے۔ان کا کہناتھا’’ یہ ایک اقتصادی جنگ کشمیریوں پر تھوپی جا رہی ہے۔‘‘  بشیر احمد راتھر کی سربراہی والی کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے سنیئر لیڈر سجاد گل نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت تاجروں کے بعد ٹھیکداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ کشمیری معیشت کو ختم کیا جائے۔بٹہ مالو ٹریڈرس کارڈی نیشن کمیٹی کے صدر ابرار احمد نے اصل مسئلہ کی طرف توجہ دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار کے پاس رقومات دستیاب نہیں ہوتے تو وہ ٹھیکداروں کو کیوں کام پر مجبور کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیروں،مشیروں اور بیروکریٹوں کی غلطیوں کی سزائیں ٹھیکداروں کو نہیں دی جاسکتی ہے۔ محمد صادق بقال کی سربراہی والی کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے کارڈی نیٹر حاجی نثار احمد نے بتایا کہ1150کروڑ روپے کے واجبات کوئی معمولی رقم نہیں ہے جبکہ ٹھیکداروں نے بنکوں اور مالی اداروں سے قرضے حاصل کر کے یہ تعمیراتی کام پائے تکمیل تک پہنچائے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کے پاس کوئی بھی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ ان رقومات کی ادائیگی میں آنا کانی کریں۔