تازہ ترین

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آج

سرینگراور اودہمپور پارلیمانی حلقوں میں سیکورٹی انتہائی سخت

18 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی+یوگیش سگوترہ

۔90فیصد پولنگ مراکز کیلئے جامع حفاظتی پلان مرتب،پولنگ صبح 7بجے شروع ہوگی

 
سرینگر+جموں//سرینگر پارلیمانی حلقے کے تین اضلاع سرینگر، بڈگام اور گاندربل میں آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں، اور اس مقصد کیلئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔اس نشست پر نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ چنائو لڑ رہے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پُرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور2017 ء جیسے حالات رونما نہیں ہوں گے۔ آئی جی پولیس کشمیر ایس پی پانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ سرینگر پارلیمانی نشست میں احسن طریقے سے انتخابات کو انجام دینے کیلئے جامع سیکورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے‘‘۔آئی جی پی سی آر پی روی دیپ سنگھ سہائے نے بتایا کہ رائے دہندگان کیلئے مختلف حفاظتی طریقہ کار کو مرتب کیا گیا ہے،تاکہ ووٹر پولنگ مراکز تک بلا خوف آسکیں۔  انہوں نے کہا کہ رائے دہندگان کی نقل و حرکت کی سہولیات کیلئے اہم سڑک رابطوں پر پولیس اور فورسز نے مشترکہ طور پر گشتی چیک پوائنٹ قائم کئے جائیںگے۔الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر پارلیمانی نشست پر90فیصد پولنگ مراکز انتہائی حساس جبکہ باقی10فیصد کو حساس زمروں میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہر ایک پولنگ مرکز پر معقول تعداد میں فورسز اہلکار تعینات رہیں گے۔ انہوں نے بتایا 'فورسز اہلکاروں کو امن وقانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران حد درجہ صبر وتحمل سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے'۔واضح رہے کہ 9 اپریل 2017 کو ضمنی انتخابات شدید جھڑپوں اور کم ترین ووٹنگ شرح کے نذر ہوئے تھے۔ جہاں پولنگ کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 9 شہری ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوئے تھے، وہیں پولنگ کی شرح محض 7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ سب سے زیادہ تشدد کے واقعات ضلع بڈگام میں پیش آئے تھے۔ یہ ضمنی انتخابات ایک فوجی افسر کی طرف سے ایک عام کشمیری کو انسانی ڈھال بنانے کی وجہ سے عالمی سطح پر خبروں میں آگئے تھے۔ میجر لیٹل گگوئی نامی ایک فوجی افسر نے فاروق احمد ڈار ژھل براس آری زال بیروہ کو پولنگ کے دوران انسانی ڈھال بناکر اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا اور مختلف دیہات میں گھمایا تھا۔ میجر گگوئی نے فاروق جس نے اپنے حق رائے دہی کا بھی استعمال کیا تھا، کواپنے گاڑیوں کے قافلے کو سنگ باری سے بچانے کے لئے اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا۔سری نگر پارلیمانی حلقہ انتخاب جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 95 ہزار 304 ہے، میں 12 امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ تاہم اصل مقابلہ نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پیپلز کانفرنس کے عرفان رضا انصاری اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے آغا سید محسن کے درمیان ہے۔ 2017 کے ضمنی انتخابات میں یہ نشست فاروق عبداللہ نے جیتی تھی۔پولنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوکر شام کے چھ بجے تک جاری رہے گا۔ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے بتایا 'سری نگر پارلیمانی حلقے میں 1710 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع سری نگر میں 408 مقامات پر 857 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ سبھی پولنگ مراکز کو حساس ترین پولنگ مراکز کے زمرے میں رکھا گیا ہے'۔انہوں نے مزید بتایا 'سبھی پولنگ مراکز پر مائیکرو آبزرورس، پیرا ملٹری فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رہیں گے۔ سبھی پولنگ مراکز میں پولنگ کے عمل کی ویڈیو گرافی ہوگی'۔  اس حلقے میں جو امید وار میدا ن میں ہیں اُن میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے خالد جہانگیر، پی ڈی پی کے آغاسید محسن،نیشنل پنتھرس پارٹی کے عبدالرشید گنائی، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جنتا دل یونائیٹڈ کے شوکت حسین خان، شیو سینا کے عبدالخالق بٹ، پیپلز کانفرنس کے عرفان رضا انصاری، راشٹر یہ جن کرانتی پارٹی کے نذیر احمد لون، مانو ادھیکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی کے علاوہ آزاد امید وار بلال سلطان، سجاد احمد ڈار، عبدالرشید بانڈے شامل ہیں۔

جموں 

پارلیمانی نشست اودھمپور پر خطہ چناب کے لگ بھگ6لاکھ رائے دہندگان اور 2لاکھ سے زائد نئے ووٹر وں کی حمایت اس سیٹ کی کامیابی میں اہم رول ادا کرے گی ۔واضح رہے کہ اس نشست پر آج پولنگ ہورہی ہے اور پولنگ صبح سات بجے سے شروع ہوکر شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔اودھمپور سیٹ پر ووٹوں کی کل تعداد 16لاکھ، 85ہزار779ہے جس میں سے 8لاکھ 76ہزاراور319مرد جبکہ 7لاکھ 89ہزار105خواتین رائے دہندہ ہیں ۔ان ووٹوں میں سے 2لاکھ 16ہزار507ایسے ووٹر ہیں جو پہلی مرتبہ جمہوری عمل میں شرکت کریں گے اور یہ خیال کیاجارہاہے کہ ان نئے ووٹروں کا نتائج میں اہم رول ہوگا۔یہ نئے رائے دہندگان 1997سے 2001میں پیدا ہوئے ہیں جو گزشتہ عام انتخابات میں حق رائے دہی کے اہل نہیں تھے۔2014کے چنائو میں 14لاکھ، 69ہزار72ووٹوں میں سے 10لاکھ ،41ہزار 758پول ہوئے تھے ۔اس الیکشن میں جتیندر سنگھ نے 4لاکھ، 87ہزاراور369ووٹ لیتے ہوئے کانگریس کے غلام نبی آزاد کو ہرایاتھا ۔آزاد کو اس الیکشن میں 4لاکھ،26ہزاراور393ووٹ ملے تھے ۔اودھمپور۔ ڈوڈہ حلقہ6اضلاع کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن،ریاسی، اودھمپور اور کٹھوعہ جبکہ17اسمبلی نشستوںکشتواڑ، اندروال، ڈوڈہ، بھدرواہ، رام بن، بانہال، اودھمپور، رام نگر، چنینی، کٹھوعہ، ہیرا نگر، بنی، بسوہلی، بلاور، ریاسی، گول ارناس اور گلاب گڑھ پر مشتمل ہے جہاں وادی چناب(رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ)کے 5لاکھ،86ہزار738ووٹ ہیں اور چونکہ اس خطہ سے کسی بھی جماعت نے امیدوار کھڑا نہیں کیا لہٰذا ان لگ بھگ چھ لاکھ ووٹوں کابھی نتائج میں اہم رول رہے گا۔