تازہ ترین

انتظامیہ کے کل پُرزوںسے

خستہ حال سڑکوں پر رحم کھائیں!

18 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اللہ تعالیٰ نے جنت نظیر کہلانے والی اس وادی کو ا واقعی اتنا بہت خوبصورت بنایا ہے کہ اس کی تعریف میں بے ساختہ یہ شعر زبان پر آتا ہیــ:
 اگر فردوس بروئے زمیں است ہمیں است وہمیں است و ہمیں است
اونچے اونچے پہاڑ،سر سبز جنگلات،چھم چھم بہتے جھرنے، جھیلیں، ندیاں ، دریا،کوئل کی کُوکُو اور پرندوں کی چہک،باغات اوربرفانی چوٹیاں انسان کا دل موہ لیتے ہیں کیونکہ یہاں کے ہر ذرے میں خدا کا نور بسا ہوا ہے۔ایسی خوبصورتی کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی اور کونے میں ملے۔اسے دیکھنے اور لطف اندوز  ہونے کے لئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میںدنیا کے مختلف کونوںسے کشمیر کی سیر و سیاحت پر سیاح آتے ہیں کہ لاکھوں لوگوںکا ذریعہ ٔ روزگار بنتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان رونقوں کے لئے سب سے اہم رول یہاں کی رابطہ سڑکیں ادا کرتی ہیںکیونکہ آمدو روفت کا ذریعہ سڑکیں ہی ہوتی ہیں ۔ افسوس کہ آج کل جہاں بھی جائیے سڑکیں اپنی خستہ حالی کا رونا روتی ہیں۔ موسم سرما نے سڑکوں کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے۔کشمیر کا ایک ایک فرد دل سے چاہتا ہے کہ ہماری وادی ترقی کی اونچی منزلیں طے کرے اور اس کے لئے سچ میں یہاں کا بچہ بچہ تعاون دیتا ہے مگر حکام سڑکوں کو نظر انداز کئے بیٹھے ہوں تو یہ کواب کیسے اپنی تعبیر پائیں ۔
 سڑکوں کی خستہ حالی کا ایک زندہ وجاویدثبوت ضلع گاندبل بھی پیش کر تاہے ۔ حال ہی میں سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کی منتقلی اس ضلع میں ہوئی جو ایک خوش آیند بات ہے ۔اس اقدام نے علاقے کی ترقی اور خوبصورتی میں چار چاند لگانے کے خواب جگائے ہیں۔یہاں کے دوکاندار ہو یا گاڑی والے ہر ایک کے لئے یہ بہتر روزگار کی نوید ہے لیکن جب آپ یہاں سڑکوں کی خستہ حالی دیکھتے ہیں تو بڑا دُکھ ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کب بیدا ہوگی ۔یہاں کی چھوٹی بڑی تمام سڑکیں چہار جانب اپنی حالت زار بیان کرتی ہیں۔ یونیورسٹی آنے جانے والے طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ یہ چیز یہاں کے لوگوں کے لئے وُبال جان بن ہوئی ہے۔صفاپورہ سے لے کر صورہ تک ہر دس انچ کے بعد سڑک میں بڑے بڑے کھڈوںسے گاڑی والوں کو ہی نہیں بلکہ طلبہ ، تاجروں ، مریضوں اور عام راہ گیروں کو کتنی کوفتوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے ،وہ بیان سے باہر ہے۔گاڑی میںسفر کے دوران مسافروں کوایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے گزر رہے ہوں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع گاندربل سیاحت میں بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سیاحوں اور یاتریوں کا گزر ہوتا رہتاہے۔سیاحوں کو مانسبل کی خوبصورت جھیل دیکھنے جانا ہو،سونہ مرگ جانا ہو،امر ناتھ یاترا کے لئے جانا ہو، کھیر بوانی کے درشن کرنے جانا ہو، ان کا پالا ضرور خستہ حال سڑکوں سے پڑتا ہے۔نتیجہ یہ کہ ُان کا سارا مزا ہی خراب ہوجاتا ہے اور سیاحتی شعبہ کو دھچکا لگتا ہے ۔ یوں یہ خراب سڑکیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننا قدرتی بات ہیں۔ لوگ ا س کے لئے کس کو دوش دیں جب آدھے گھنٹے کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے پائے؟سڑک کی خرابی سے سفر ہی مشکل نہیں ہوتا بلکہ عوام کے جان و مال کو خطرہ لا حق ہونا لازمی امر ہے۔ اکثرگاڑی چلانے والے اس بات سے انجان ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے بیچ سڑک گھڑے کی گہرائی کتنی ہے ، گھڑا زیادہ گہرا ہو تو گاڑی الٹنے کی نوبت بھی پیش آسکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پیدل چلنے والوں کے لئے بھی کافی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ سڑک کے کناروں پر واقع دوکاندار سڑک سے اُٹھنے والی دُھول سے ہر لمحہ پریشان رہتے ہیں۔ترقی کے نام پر لوگوں سے بہت کچھ لیا بھی جاتا ہے اور ان سے نعرے بھی لگوا ئے جاتے ہیں ، ہرپانچ سال بعد ترقی کے خوش نما وعدوں پر اُن سے قیمتی ووٹ بھی مانگا جاتا ہے لیکن جب بات ترقی کے لئے بنیادی کام یعنی انفرا اسٹرکچر کی آتی ہے تو اربابِ اقتدار پیچھے ہٹ جاتے ہیں ، لوگ صرف سر پیٹتے ہیں اور انصاف کی دہائی دیتے پھرتے ہیں مگر سننے والاہے کون؟ لہٰذا وقت کی
 ا نتظامیہ خاص کر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گاندربل کو چاہئے کہ اس عوامی مسئلہ کی طرف ترجیحی بنیادوں پرخاص توجہ دے ۔ ضلع بھر کی مرمت طلب سڑکوں کو قابل عبور ومرور بنانا انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ سٹوڈنٹ کمیونٹی ،ملازمین ، تاجرین اورمزدور وکاریگر سب اپنا کام کاج بسہولت کرسکیں۔ 