تازہ ترین

بھگوا جماعتوں کے حمایتی پی ڈی پی اور پی سی

جب سرکار میں تھے تب ہمدردیاں کہاں تھیں؟:عمرعبداللہ

16 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر //نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ لوگ ریاست کا نقشہ بدلنے کیلئے نکلے ہیں جن کا ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ شیر کشمیر پارک سرینگر میںعوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا’’ ہمیں اس انتخاب میں پتہ چل گیا ہے کہ کچھ ایک طاقتیں ریاست جموں وکشمیر کے نقشے کو بدلنا چاہتی ہیں‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ اتنا تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ مودی جی ہماری تقرریوں سے گھبرا گئے ہیں ،انہوں نے جموں میں نام لیکر ہماری تقریروں کا جواب دیا ، جس ملک کا وزیر اعظم چھوٹی سی جماعت کا نام لیکر تقریر کرے ،تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ کتنا  ہل گئے ہیںــ‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ موصوف کہتے ہیں کہ جموںوکشمیر سے 2خاندانوں کو باہر نکالنا ہے لیکن شائد بھول گئے کہ جنوری 2015میں انہی دوخاندانوں میں سے ایک ساتھ اتحاد کیا اور ایک نہیں بلکہ دو وزیر اعلیٰ بنائے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ آج کل یہ پی ڈی پی اور پی سی والے لوگوں کے ہمدرد بن بیٹھے ہیں، آج ہر بات پر ہمدردیاں لٹائی جاتی ہیں اور آنسو بہائے جاتے ہیں لیکن جب یہ دونوں جماعتیں بھاجپا کیساتھ اتحاد میں رہ کر یہاں حکمرانی کررہی تھیں تب ان کی زبانوں پر تالے چڑھ گئے تھے‘‘۔’’جب 2016میں کشمیر میں چاروں طرف قتل و غارت گری کا سماں تھا، گولیوں اور پیلٹ گنوں سے بے تحاشہ ہلاکتوں، نوجوانوں کو اپاہج بنانے، نونہالوں اور دوشیزائوں کو نابینا بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا تب یہ دونوں جماعتیں بھاجپا کیساتھ اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھیں اور کشمیریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا، تب ہم نے ان کی آواز نہیں سنی۔ جب صوبہ جموں کے لگ بھگ تمام اضلاع میں آر ایس ایس کی ہتھیار بند نکالیں گئیں تب کہاں تھی ان کی آواز؟ جب فرقہ پرست بھگوا جماعتوں کے غنڈے خطہ جموںمیں مسلمانوں کو ڈراتے تھے تب کہاں تھی ان کی ہمدردیاں ۔ جب بیروہ کے ایک نوجوانوں کو فوج کی جیپ کیساتھ باندھ کر ایک درجن دیہات میں گھمایا گیا تب بیان کیوں نہیںجاری کیا گیا؟ حد تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کمیشن نے اس نوجوانوں کے حق میں 10لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا لیکن محبوبہ مفتی اور اُن کے پی سی کے وزیر نے اس نوجوانوں کو چیک تھمانے کے بجائے اس امداد پر ہی روک لگوا دی۔جب جامع مسجد سرینگر میں لگاتار 6ماہ نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تب کوئی مذمتی بیان کیوں نہیں جاری کیا گیا؟عمر عبداللہ نے کہا کہ آج یہ لوگ نوجوانوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن جب ایس آر او 202لاگو کیا تب ان نوجوانوں کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔ان دونوں جماعتوں نے اپنی ذاتی مفادات کیلئے ریاست کو قربان کردیا کیونکہ ان کی نیت صحیح نہیں تھی۔