تازہ ترین

کشمیراٹوٹ انگ ہے تو مودی یہاں کیوں نہیں آتے؟

تقسیم چاہتے تو بھارت نہ ہوتا

16 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید

ظلم وجبر اور سڑکوں کی بندش سے کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتے ، مرتے دم تک بھاجپا کیساتھ اتحاد نہیں ہوگا:ڈاکٹر فاروق

 
سرینگر // نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر شیخ خاندان کی بھارت کو تقسیم کرنے کی خواہش ہوتی تو بھارت ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے مودی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا’’ اگر آپ کو کشمیر سے محبت ہوتی تو آپ کشمیر آتے، یہاں لوگوں سے تقریر کرتے اور اُن کا دکھ درد بانٹتے‘‘۔شیر کشمیر پارک سرینگر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’مودی جی یہ کہتے ہیں کہ عبداللہ خاندان بھارت کو توڑنا چاہتے ہیں ،ارے مودی جی ہم ہندستان کو توڑنا چاہتے تو ہندستان ہوتا ہی نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’یاد کرو مودی 1996میں آپ لوگوں کے ساتھ جب کوئی چلنے کیلئے تیار نہیں تھا ، تب یہ شخص جسے فاروق عبداللہ کہتے ہیں وہ نکلا ، اگرچہ میرے ساتھیوں نے مجھے کہا بھی کہ انتخابات نہیں لڑیں گے لیکن میں نے نہیں مانا کب تک اس قوم کو مرتے ہوئے دیکھتے  ، کب تک اس قوم پر ظلم ہوتے ہوئے دیکھتے ،اس قوم نے بہت ظلم اٹھائے تھے اس کو ظلم سے نکالنا تھا‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ آپ کو اگر کشمیر سے محبت ہوتی تو آپ کشمیر آتے یہاں لوگوں سے تقرریر کرتے اور اُن کا دکھ درد بانٹتے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ مودی کٹھوعہ اور اکھنور میںآکر تقریر کرتے ہیں لیکن کشمیر میں آکر مسلمانوں کے سامنے تقریر نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ انہوں نے دغا کیا ہے، مسلمانوں کو انہوں نے دھوکہ دیا ہے، جو ملک کا مسلمان پاکستان نہیں گیا جس نے یہ ملک قبول کیا اس پر بھی آپ کے لوگوں نے وار کیا اور آپ نے آواز تک نہیں اٹھائی ، کیا وہ ہندستانی نہیں تھے، کیا انہوں نے بھارت کیلئے خون نہیں دیا تھا‘‘ ۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ظلم وجبر اور سڑکیں بند کرنے سے آپ (مرکز) کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتے اور نہ ہمارے حق کی آواز دبا سکتے ہیں،آپ کی ایک ریاست کا گورنر کہتا ہے کہ کشمیر مت جائو، کشمیریوں کی چیزیں مت خریدو، امرناتھ یاترا کیلئے مت جائو، آپ اسے کچھ نہیں کہتے اور اس کے باوجود کہتے ہو کہ کشمیر آپ کا اٹوٹ انگ ہے‘‘۔فاروق نے کہا’’ اگر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو نریندر مودی جی یہاں تقریر کرنے کیوں نہیں آئے، ہم بھی سنتے اُن کے پاس یہاں کے لوگوں سے کہنے کیلئے کیا ہے؟ ،آپ کہتے ہو کہ ہم وفادار نہیں لیکن تم بھی تو دلدار نہیں، ظلم و ستم اور جبر واستبداد کے سوا آپ کے 5سالہ دورِ حکومت نے کشمیریوں نے کچھ نہیں دیکھا۔آپ کے تعمیر و ترقی اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے نعروں کاکیا ہوا؟‘‘انہوں نے کہا کہ ’’2014میں انتخابی نتائج کے وقت میں ہسپتال میں زیر علاج تھا، بھاجپا والے مجھ سے جموںوکشمیر میں حکومت بنانے کے سلسلے میں ملنے آئے، میں نے اُن سے کہا کہ میں اس وقت زیر علاج ہوں ،پارٹی کے امورات عمر عبداللہ اور اُن کے ساتھی دیکھ رہے ہیں، آپ اُن سے رابطہ کیجئے،مجھے بے حد خوشی ہے کہ عمر اور اُن کے ساتھیوں نے بھاجپا کیساتھ اتحاد مسترد کردیا اور اس بات کا برملا اظہار کیاکہ ہم اُن جماعتوں کیساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر فاروق عبداللہ مرتے دم تک ان کیساتھ ہاتھ نہیں ملائے گا،یہ لوگ انتخابات میں طاقت، پیسہ اور سرکاری مشینری استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے لیکن ہمیں مضبوطی سے ان کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے ایمان کو مستحکم رکھنا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ میں اب مکمل طور پر سیاسی بصارت اور صلاحیت آگئی ہے اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد وہ اس پارٹی اور اس قوم کی صحیح نمائندگی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نیشنل کانفرنس کی ہر ایک اکائی کو مضبوط نہیں کیا جائیگا تب تک ہم اس ریاست کی بقاء کا دفاع نہیں کرسکتے، پارٹی کی مضبوطی میں ہی جموںوکشمیرکے تشخص کے دفاع کا راز مضمر ہے۔