تازہ ترین

وزیراعظم کے پاس اشتہار کیلئے پیسے کہاں سے آتے ہیں:راہل

16 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

آگرہ//کانگریس صدر راہل گاندھی نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اشتہار میں عوامی کی گاڑھی کمائی کو پیسہ لگا ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سڑکوں پر وزیر اعظم مودی کے اشتہاری مواد کی بہتا ت ہے ان کے پاس اس کے لئے پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟کیا وہ اپنے جیب سے خرچ کرتے ہیں ۔فتح پور سیکری میں ریاستی کانگریس صدر و پارٹی امیدوار راج ببر کی حمایت میں منعقد ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ٹیلی ویژن ریڈیو کے علاوہ سڑک پر جہاں بھی نظر ڈالئے مسٹر مودی کے اشتہار کے ہورڈنگ لگے دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ ‘‘ آج کل ٹیلی ویژن تو مودی جی کو دکھائی دیتے ہیں،ریڈیو کھولو تو وہاں مودی جی کا تذکرہ ہے یہاں تک سڑکوں پر بھی مودی کے اشتہار کا کافی سامان موجود ہے ۔ آخر یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟’’۔انہوں نے کہا کہ‘‘ ٹی وی پر 30 سیکنڈ کے اشتہار کے لئے لاکھوں روپئے دینے ہوتے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ وزیر اعظم کے اشتہار میں خرچ ہونے والا پیسہ کہاں سے آتا ہے ۔ مسٹر مودی تو اپنی جیب سے نہیں دیتے ، آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کروڑوں روپئے کی پبلسٹی کے لئے پیسہ کہاں سے آتا ہے ۔ عوام کا پیسہ جان بوجھ کرا مبانی اور میہل چوکسی جیسے سرمایہ کار کودیا گیا ہے ۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کسانوں اور غریبوں کے مفاد کے بجائے سرمایہ کاروں کوبڑھاوا دے رہی ہے ۔ یو پی اے حکومت میں اترپردیش کے کسانوں نے کہا تھا کہ ارب پتی لوگوں کے لئے بینک قالین بچھاتے ہیں جبکہ ان سے قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ۔ کسانوں کو اس درد کو بھانپتے ہوئے یو پی اے ۔2 نے اترپردیش میں کسانوں کے قرض معافی کا کام کیا تھا۔راجستھان، مدھیہ پردیش، اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں کسانوں سے کئے گئے وعدے کو کانگریس نے پورا کیا اور تینوں ریاستوں میں حکومت بننے کے دس دنوں کے اندر کسانوں کاقرض معاف کردیا گیا۔اس موقع پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے نشانے پر بھی بی جے پی اور وزیر اعظم رہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حب الوطنی کا دکھاوا کرتی ہے ۔ انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی لیڈروں کو پورا اپوزیشن ملک مخالف نظر آتا ہے ۔ اگر وہ حقیقی ‘دیش بھکت’ ہیں تو انہیں مجاہد ین آزادی کی بے عزتی کرنی بند کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ آج کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آلو کسان بے حال ہے لیکن ان کی کوئی فکر کرنے والا نہیں ہے ۔ طلبہ، کسانوں، اساتذہ یا سماج کے کسی بھی طبقے نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تو انہیں زدوکوب کیا گیا۔ ان کے خلاف مقدمے درج کر کے انہیں ملک مخالف گردانہ گیا۔یواین آئی