تازہ ترین

فاسق کی خبر رسانی!

ایک شبے ایک مغالطے کا اِزالہ

5 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جاوید احمد ملک۔۔۔ اچھہ بل رفیع آباد
 سورۂ حجرات میں اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لئے مختلف النوع سماجی احکامات و ہدایات نازل فرمائی ہیں، مثلاً سرور عالم ﷺ کے ساتھ غایت درجہ ادب و تعظیم کا معاملہ، مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کے اصول، اختلافات، نزاع اور جدال کے مواقع پر باہمی صلح سمجھوتہ کرنے اور کروانے کی ترغیب، نیز مسلمانوں کے معاشرتی لڑائی جھگڑوں کے ضمن میں مذاق اُڑانے، برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے، غیبت کرنے جیسی عیوب کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو اسلام کی ایک آفاقی حقیقت تمام انسانوں کو باور کر ائی گئی ہے کہ معیار تفوق و فضیلت صرف تقوی ٰہے نہ کہ خاندانی وجاہت و عصبیت۔ آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف زبانی کلامی اسلام کا اقرار کافی نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکموں کو دل و جان سے ماننا ضروری ہے۔اس سورہ پاک کی آیت نمبر چھ میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق اور غیر معتبر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، مبادا تم نادانی میں کسی کو کوئی نقصان پہنچاؤ اور پھر تمہیں بعد میں کف ِافسوس ملنا پڑے۔ارشاد فرمایا:’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم تحقیق کرلیا کرو کہ کہیں تم نادانی سے کسی قوم کو ضرر نہ پہنچادو (اور) پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔‘‘ ترجمہ :تفسیر ماجدی ،مولانا عبد الماجد دریا بادی ؒ )
اس آیت کے شان نزول میں مفسرین کرام نے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو آپ ﷺ نے قبیلہ بنو مصطلق کے یہاں زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے روانہ کیا۔ جب وہ بستی کے قریب پہنچے تو قبیلہ کے لوگ استقبال کے لئے باہر جمع ہوگئے۔ زمانہ جاہلیت میں اُن کے خاندان اور بنو مصطلق کے بیچ میں دشمنی رہی تھی، اس لئے وہ اپنے خیال و گمان میں یہ سمجھے کہ یہ لوگ ان کو قتل کرنے کے لئے باہر نکلے ہیں۔ چنانچہ وہ ان سے ملنے کے بجائے وہیں سے واپس لوٹے اور جاکر آپ ﷺ سے عرض کیا کہ ان لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ ان کو قتل کرنے کے لئے نکلے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت خالد ؓ کو تحقیق ِحال کے لئے بھیجا کہ اگر یہ بات صحیح ہو ئی تو ان سے مقابلہ کریں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ لوگ تو استقبال کے لئے باہر جمع ہوئے تھے اور زکوٰۃ نہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ُادھر آپ ﷺ نے حضرت خالد ؓ کی سرکردگی میں مجاہدین کا دستہ روانہ کیا، اِدھر سے حارث بن ضرار ؓ (رئیس بنو مصطلق) مع اپنے ساتھیوں کے آپ ﷺ کی خدمت ِاقدس میں حاضری کے لئے نکلے۔ مدینہ کے قریب دونوں جماعتوں کی ملاقات ہوئی۔ جب حضرت خالد ؓ نے ان سے قصہ کی تحقیق و تفتیش کی تو حارث ؓ نے یہ سارا معاملہ سن کر کہا کہ قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو رسول ِبرحق بنا کر بھیجا ہے، میں نے ولید بن عقبہ ؓ کو دیکھا تک نہیں اور نہ وہ میرے پاس آئے۔ یہی بات انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے کہی جب دربار ِ اقدس بعد میں حاضر ہوئے اور اپنے آنے کا مقصد یہ بتایا کہ چونکہ آپ ﷺ کا قاصد مقررہ وقت پر نہیں پہنچا اورہمیں  خطرہ محسوس ہوا کہ ہم سے کوئی غلطی نہ سرزد ہوئی ہو ،اسی لئے یہاں حاضر خدمت ہوئے۔بعض روایات میں آیا ہے کہ ولید بن عقبہ ؓ جب بنو مصطلق کے قریب پہنچے تو قبیلہ والے جانتے تھے کہ اس متعین تاریخ پر آپ ﷺ کا قاصد تحصیل ِ زکوٰۃ کے لئے آئے گا، وہ لوگ تعظیم کے طور پر بستی سے بغرض ِ استقبال باہر نکلے۔ حضرت ولید ؓ کو شبہ ہوا (یا پھر کسی نے ان کو خبر دی ہوگی) یہ لوگ شاید پرانی دشمنی نکالنے کے لئے باہر آئے ہیں اور ان کو قتل کرنے کے خواہاں ہیں۔ موصوف وہیں سے واپس ہوئے اور آپ ﷺ سے اپنے گمان کے مطابق اطلاع دی کہ وہ لوگ زکوٰۃ دینے کے لئے تیار نہیں بلکہ ان کے قتل کے لئے باہر نکلے تھے۔ اس پر آپ ﷺ نے حضرت خالد  ؓکو واقعہ کی تحقیق کے لئے بھیجا۔ حضرت خالد ؓ نے بستی سے باہر قیام کیا، مگر جاسوسوں کے ذریعہ یہ پتہ چلا کہ وہ لوگ اسلام پر قائم ہیں، نماز اور باقی اوامر الٰہی کے پابند ہیں۔ اس لئے انہوں نے واپس آکر آپ ﷺ کو بتایا کہ واقعہ حضرت ولید ؓ کی خبر کے بالکل مخالف ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔  ( تفصیلات کے لئے دیکھئے معارف القرآن)
بعض دیگرروایات میں آیا ہے کہ جب وہ (بنو مصطلق) خود دربار رسالت ؐ میں حاضرہوئے تو عرض کی کہ یارسول اللہ  ﷺ آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے اپنے آدمی کو بھیجا ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ہم بے حد خوش ہوئے لیکن خدا جانے کیا ہوا کہ وہ راستے میں سے ہی لوٹ گئے، تو اس خوف سے کہ کہیں خدا ہم سے ناراض نہ ہوگیا ہو، ہم حاضر خدمت ہوئے۔ اسی طرح معذرت کرتے رہے۔ دریں اثناء  جب عصر کی اذان حضرت بلال ؓ نے دی، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک روایت میں ہے کہ ابھی آپ ﷺ سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ آدمی ان کی طرف بھیجیں، اُن کا وفد آیا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیرؒ)
اس واقعہ کو پڑھ کر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ فاسق خاکم بدہن حضرت ولید ؓ کو ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ہی آپ ﷺ کو وہ خبر دی جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سیاق وسباق سے بات یہی معلوم ہوتی ہے مگر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آیت میں فاسق حضرت ولید ؓ  کو کہا ہی نہ گیا اورالصحابۃ کلھم عدول اور رضی ا للہ عنہ ورضو عنہ کا تاج اور شرف تمام صحابہ کبارؓ کے سر کا تاج ہے۔  چنانچہ صاحب ’’معارف القرآن ‘‘ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی  ؒ(متوفی۱۹۷۶ء) اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:اور آیت مذکورہ میں تو قطعاً یہ ضروری نہیں کہ ولید بن عقبہ  ؓ کو فاسق کہا گہا ہو، سبب ِ نزول خواہ ان کا معاملہ ہی سہی مگر لفظ ’’فاسق ‘‘ان کے لئے استعمال کیا گیا یہ ضروری نہیں۔وجہ یہ کہ اس واقعہ سے پہلے تو ولید بن عقبہ ؓ سے کوئی ایسا کام ہوا نہ تھا جس کے سبب ان کو فاسق کہا جائے اور اس واقعہ میں بھی جو انہوں نے بنی مصطلق کے لوگوں کی طرف ایک بات غلط منسوب کی ،وہ بھی اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھ کر کی اگرچہ واقع میں غلط تھی۔۔۔۔اس آیت نے قاعدہ ٔکلیہ فاسق کی خبر کے نامقبول ہونے کے متعلق بیان کیا ہیـ۔‘‘
(معارف القرآن جلد ۸ ص  ۷۰۱)
تقریباً یہی بات حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ (متوفی ۱۹۴۱ء)نے اپنی تفسیر میں فرمائی ہیں :یا ایھا الذین اٰمنوا  میں مخاطب عام مومنین ہیں اور فاسق سے مراد عام فاسقین ہیں، اور فاسق کا ذکر افادہ ٔمبالغہ فی الحکم کے لئے ہے۔ یہ نہیں کہ جس قصہ میں اس کا نزول ہوا ہے اس کو فاسق کہا گیا ہو۔ پس اس آیت سے نہ ولید  ؓ کا فاسق ہونا لازم آیا اور نہ اس کا شبہ رہاکہ یہ موہم ہے کہ آپ نے بے تحقیق کچھ کارروائی کرنا چاہا ہوگا۔وجہ دفعہ شبہ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ اس میں مخاطب نہیں بلکہ عام مومنین کو حکم ہے کہ اس میں حضور  ﷺ کی اقتداء کرو۔‘‘
(بیان القرآن جلد ۳ ص ۷۳۴ مکتبہ تھانوی دیوبند)    
اس واقعہ پر کلام کرنے سے پہلے مولانا امین احسن اصلاحی ؒ (متوفی ۱۹۹۷ ء)نے ایک اصولی امر کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:’’شانِ نزول سے متعلق وہ اصولی حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیئے جس کا ذکر ہم نے مقدمۂ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شانِ نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینٖہ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول ِ تفسیر کے ماہرین کی ہے ،اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شانِ نزول سے متعلق روایات بیشتر ضعیف بلکہ بے بنیاد ہیں۔ اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اس فتنہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زِیر بحث میں ااہلِ ایمان کو روکا گیا ہے۔ اس شان ِ نزول کو روایت کی کسوٹی پر جانچئے تو معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔‘
 (تدبر القرآن ۔۔۔ سورہ حجرات)
 مولانا موصوف اس واقعہ کی روایات پر تنقیدی کلام فرماتے ہیںجس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ولیدؓ کے متعلق اس واقعہ سے پہلے کوئی ایسی بات پیش نہیں آئی تھی جس سے ان کو فاسق قرار دیا جائے بلکہ یہ اُن کے اعلیٰ درجہ کی ثقاہت اور عدالت تھی کہ آپ ﷺ نے ان کو تحصیل ِ زکوۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر کوئی کھوٹ ہوتی تو آپ ﷺ ان کو اس اہم ذمہ داری پر کیسے مامور فرماتے؟۔۔۔اوراگر مان بھی لیا جائے کہ واقعہ دُرست ہے اور ولید ؓ بنو مصطلق کے استقبال کو جنگجو پارٹی سمجھ کر ڈر کے مارے واپس ہوئے، تو اُن کی یہ بات سادہ لوحی اور غلط فہمی یا پھر چوک و لغزش تو قرار دی جائے گی، لیکن از روئے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جاسکتا اور ایسے شخص کو کمزور تو کہا جاسکتا ہے لیکن فاسق ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔نیز ان کو خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا تھا‘‘۔ آخر میں مولانا اصلاحی  ؒ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو مختلف ضعیف روایات سے نقل کیا گیا ہے کہ معاملہ جتنے منہ اتنی باتیں والا ہوا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ شانِ نزول گمراہوں کی ایجادات میں سے ہے جس سے وہ حضرت ولید ؓ کو بدنام نہیں کرنا چاہتے بلکہ پس ِ پردہ وہ اصل میں خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ کو العیاذ باللہ مطعون کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے جانتے بوجھتے کہ اس شخص کو محض اقرباء پروری کی وجہ سے کوفہ کا گورنر بنایا (یاد رہے ولید بن عقبہ ؓ حضرت عثمان ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے)۔ یہ اس ضال ومضل گروہ کی بہتان تراشی اور اسلام دشمنی کا کرشمہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب ’’توضیح القرآن‘‘ میں آیت ِمذکورہ کے ذیل میں اس واقعہ کو بیان کرنے اور مسئلہ عدالت صحابہؓ پر قدرے روشنی ڈالنے کے بعد اس واقعہ کی روایتوں کو ضعیف ٹھہرا کر، ان میں آپسی تعارض و اختلاف پربھی سوالیہ نشان لگاتے ہیںاوراس واقعے کی بنیاد پر حضرت ولید ؓ  کو عالم ا سلام کے گمراہ طبقے اور حق دشمن طائفے کی جانب سے العیاذباللہ فاسق قرار دینے کو نامعقول بتاتے ہیں کیونکہ اس واقع میں انہوں نے جان بوجھ کر کوئی جھوٹ نہیں بولا بلکہ جو کچھ کہا غلط فہمی کی وجہ سے کہا، جس کی وجہ سے کسی کو فاسق نہیں کہا جاسکتا۔
پھر مفتی صاحب موصوف آگے لکھتے ہیں :’’اس لئے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ولید ؒ  بستی کے قریب پہنچے اور قبیلے کے لوگ بڑی تعداد میں وہاں جمع ہورہے تھے تو کسی شریر آدمی نے ان سے یہ کہا ہوگا کہ یہ لوگ آپ سے لڑنے کے لئے نکلے ہیں۔ اس شریر (نامعلوم)آ دمی کو آیت میں فاسق قرار دیا گیا ہے۔‘‘ (توضیح القرآن)
چناںچہ اگر ہم آیت پاک پر پھر سے غور کریں، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ حکم آپ ﷺ کے بجائے صحابہ کرامؓ اور عام مومنین کو ہے۔ اگر قرآن نے حضرت ولید ؓ  کو فاسق قرار دینا ہوتا،  تو قرآن کی آیت کے اول کے الفاظ ایسے ہونے چاہے تھے :اے نبیؐ! اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے۔۔۔۔‘‘جب کہ آیت کے الفاظ اس طرح ہیں : اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے۔‘‘ اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ حکم حضور ﷺ کے بجائے بالخصوص ولید ؓ اور بالعموم تمام مومنین کو ہے کہ جب آئندہ تمہارے پاس کوئی آدمی کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس پر کوئی اقدام کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ یاد رہے قرآن پاک نے لفظ  ’’نبا‘‘استعمال کیا ہے، جس کے معنی کسی اہم خبر کے ہیں۔ چنانچہ مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ فرماتے ہیں:’’ نبا  ہر معمولی و عام خبر کو نہیں کہتے (بلکہ) اہم خبر کو کہتے ہیں جس سے علم یا غلبۂ ظن حاصل ہو اور سیاق میں مرا د ایسی خبر ہے جس میں کسی کی شکایت نکلتی ہو اور اس سے کسی کا ضرر لازم آتا  ہو۔‘‘ (تفسیر ماجدی جلد ۶ ص ۹۳۴)
اسی طرح مولانا مودودی صاحب ؒ (تفسیر تفہیم القرآن ) میں لفظ  ’’نبا ‘‘ کی تشریح میں لکھا ہے :’’آیت میں لفظ نبااستعمال ہوا ہے جس کا اطلاق ہر خبر پر نہیں ہوتا بلکہ اہمیت رکھنے والی خبر پر ہوتا ہے۔ اسی لئے فقہاء کرام کہتے ہیں کہ عام معاملات میں یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا ہے۔  (تفہیم القرآن جلد ۵ ص ۴۷)
آمدم بر سر مطلب!  نتیجۂ مطالعہ یہ نکلا کہ اب ہمیں لفظ ’’فاسق‘‘ کی نہ تو کوئی تاویل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بعض حضرات اس آیت اور واقعہ کے نفس مضمون کو بیان کرتے ہوئے  لفظ '’’فاسق‘‘ کی تاویل اس طرح کرتے ہیں کہ قرآن پاک کبھی ایک ہی لفظ کو مختلف افراد کے لئے، مختلف احوال کے اعتبار سے مختلف معنی میں استعمال کرتا ہے جو اپنی جگہ بالکل درست ہے اور اس کی دسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اور اس باب میں اپنے ذہن کو شکوک و شبہات کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس واقعہ کا سرے سے انکار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب خود آیت کے الفاظ سے اس بات کی صراحت ہوتی ہے کہ اگر ’’فاسق‘‘ سے خاکم بدہن مراد حضرت ولید  ؓ ہوتے تو قرآن پاک حضور  ﷺ کو حکم دیتا کہ جب آپؐ کے پاس نعوذ باللہ اس فاسق نے خبر لائی، لیکن اس کے برعکس آیت مذکوہ کے آغاز کے الفاظ نے ثابت کیا کہ یہ حکم خود حضرت ولید ؓ اور عام مومنین کو ہے: ’’اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی تحقیق کیا کرو۔‘‘ اس کا معنی یہ ہوا کہ اصل میں حضرت ولید ؓ کو بنو مصطلق کے نزدیک پہنچ کر کسی نے غلط خبر دی تھی کہ ان لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیااور اب وہ لوگ انہیں قتل کرنے کے لئے باہر نکلے ہیںاور حضرت ولید ؓ  بغیر تحقیق کئے واپس لوٹے اور آپ  ﷺ کو خبر دی کہ ان لوگوں نے عہد توڑ دیا ہے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے۔ پس آیت میں حکم حضرت ولید  ؓ کو ہوا کہ جب تمہارے پاس اُس فاسق آدمی نے خبر لائی تھی تو تمہیں چاہے تھا کہ حضور ﷺ کو خبر دینے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیتے۔ چلو اب آئندہ اس کا خیال رکھنا اور پھر اہم معاملات میں تمام مومنین کو حکم دیا کہ جب کوئی غیر معتبر شخص تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو اس کو آگے منتقل کرنے اور اس پر کوئی کارروائی کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔اس بات کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو ابن جریر ؒ کے حوالہ سے مفتی تقی عثمانی صاحب نے نقل کیا ہے:’’یعنی شیطان نے انہیں (ولیدؓ) یہ بتایا کہ وہ لوگ اُنہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر یہی ہے کہ شیطان نے کسی انسان کی شکل میں آکر اُنہیں یہ جھوٹی خبر دی ہوگی۔ اس لئے لفظ ’’فاسق‘‘ کو خواہ مخواہ ایک صحابیؓ پر چسپاں کرنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ انہوں نے جو کچھ کیا غلط فہمی کے عالم میں کیا۔ اس کے بجائے اُسے اُس مخبر (جھوٹے خبر دینے والے) پر چسپان کرنا چاہے جس نے حضرت ولیدؓ کو یہ غلط خبر دی۔‘‘  
(حاشیہ توضیح القرآن۔۔۔ سورہ حجرات)
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی حقیقی سمجھ ، قرآن پاک کا صحیح فہم اور صحابہ کرام  ؓ کی بے پایاں محبت عطا فرمائے۔ آمین  
نوٹ:آیت پاک کے متعلقہ احکام و مسائل جیسے تحقیق کی قسام (تحقیق واجب، تحقیق جائز اور تحقیق حرام) اور تحقیق و تفتیش کے اصول و ضوابط، اس کی اہمیت و ضرورت، جرح و تعدیل میں راویوں کے حالات کی تحقیق، فقہاء کے یہاں شہادت دینے اور قبول کرنے کا معیار، اس طرح سرکاری جاسوسوں اور مخبروں کے بارہ میں حکومت کی ذمہ داریاں اور اسی طرح کے دوسرے احکام و معارف کو جاننے کے لئے بیان القرآن، تفسیر ماجدی، تفسیر ابن کثیر ،معارف القرآن اور تفہیم القرآن وغیرہ تفاسیر کا مطالعہ فرمائیں۔
رابطہ   ریسرچ سکالر ، اسلامک اسٹڈیز۔۔۔ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، اونتی پورہ کشمیر
Email : javaidislamicstudies@gmail.com