تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

29 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال: کشمیرمیں شگوفے پھوٹنے کے موسم میں ہی میوہ باغات کی خرید و فروخت زوروں پر شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اسکی طرف توجہ بھی نہیں دیتے کہ یہ حلال ہے یا حرام کیونکہ بہت پہلے ے یہ رواج چلا آرہا ہے حتیٰ کہ اکثر لوگ ایسے بھی ہیں جن کو یہ بات کہ پھول کھلنے کے موسم میں باغات کا خریدنا اور فروخت کرنا جائزہ نہیں ہے بالکل نئی اور عجیب سی علوم پڑتی ہے بعض لوگ یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم میوہ ظاہر ہونے کے بعد باغ کا سودا کریں گے تو ہمیں بعض مرتبہ بجائے نفع کے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کہ دوائیوں کے چھڑکائو پر زر کثیر خرچ ہوتا ہے اور باغ بیچنے کے بعد دوائیوں کے پیسے بھی وصول نہیں ہوتے لہٰذا مہربانی اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ علمائے کرام نے جدید اجتہاد کے دوران ایسا کوئی مسئلہ دریافت کیا ہے جس کی رو سے یہ خرید و فروخت جائز تصویر کی جاتی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو ایسی آسان سی صورت کے فتوے سے نواز دیں جس سے ہماری آخرت بھی برباد نہ ہو اور دنیوی نقصان کا بھی سامنا نہ کرنا پڑا۔
ابو اویس 

 شگوفے پھوٹتے ہی میوہ کی تجارت جائز نہیں

جواب۱ : باغ کا میوہ پیدا ہونے سے پہلے یا پکنے سے پہلے فروخت کیا جائے تو شرعاً یہ جائز نہیں۔ حدیث صحیح جو بخاری و مسلم وغیرہ اکثر کتابوں میں ہے کہ حضرت نبی کریم ؐ نے تیار ہونے سے پہلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جب پھل پکنے اور تیار ہونے سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت ہے تو صرف پھول آنے پر یا اُس سے بھی پہلے باغ کا میوہ فروخت کرنے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے۔ نیز یہ عقل اور سجھ کے بھی سراسر خلاف ہے کہ جو چیز ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی ہے اور جب وہ پیدا ہوگی تو اُس کی مقدار کا پہلے سے صحیح اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں عقلی طور پر بھی یہ خرید و فروخت درست نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے باغ کے میوئوں سے وابستہ لوگ سخت اتار چھڑھائو کا شکار رہتے ہیں۔ ایک سال اُن کی مالی حالت بہت اچھی بلکہ قابل رشک اور دوسرے سال وہ اپنا اصل خرچہ بھی نہیں بچا پاتے ہیں۔ اس لئے باغ قبل از وقت فروخت کرنا شرعاً ہرگز درست نہیں ہاں جب میوہ پختہ ہوجائے جس کو کشمیر کے باغات کا کام کرنے والے یوں تعبیر کرتے ہیں کہ میوہ جم گیا۔ یا کہتے ہیں میوہ ٹک گیا۔ بس اس کے بعد میوہ فروخت کرنا درست ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے باغ کی فروختگی کے وقت ظاہر ہے کہ نہ تو باغ کی زمین فروخت کی جاتی ہے اور نہ باغ کے درخت، بلکہ مقصد یہ ہونا ہے کہ آئندہ جو میوہ پیدا ہوگا ہم وہ فروخت کررہے ہیں تو ظاہر ہے معدوم شئے کی خرید و فروخت شرعاً بھی درست نہیں اور عقلاً بھی صحیح نہیں۔
اب شرعاً اس کا ایک حل ہے اور وہ کہ باغ کا مالک میوہ فروخت کرنے کے بجائے باغ کی زمین کو کرایہ پر اُس شخص کو دے جو خریدار بن کر دیاہے۔جب باغ کی زمین اجارہ (Lease)پر دی جائے تو اب یہ معاملہ میوہ کی خرید و فروخت کا نہ رہا۔ بلکہ زمین کو کرایہ پر دینے کا بناہے۔ اب باغ کا مالک موجر (کرایہ پر دینے والا اور باغ لینے والا مستاجر یعنی کرایہ دار بن گیا اور کرایہ دار جو رقم ادا کرے گا وہ رقم میوہ کی قیمت نہیں ہوگی بلکہ باغ کی زمین کا کرایہ ہوگا۔ اب اس زمین سے گھاس، سبزیاں اور درختوں سے میوہ وغیرہ جو کچھ بھی پیدا ہوگا وہ اسی باغ لینے والے کا حق ہوگا۔ باغ لینے والا جو رقم ادا کرے گا وہ چونکہ کرایہ ہوگا۔ اس لئے آئندہ جتنے عرصہ کے لئے کرایہ کا یہ معاہدہ ہو وہ شرعاً درست ہوگا۔ چاہے کئی سال کے لئے کیوں نہ دیاجائے۔ پھر چاہے کرایہ سالانہ لیا جائے یا ماہانہ۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص مثلاً ایک لاکھ روپے کا باغ فروخت کرنا چاہتا ہے اور اگر وہ باغ اس رقم کے عوض فروخت ہوگیا تو  اس باغ کی گھاس اور باغ میں پیدا ہونے والی سبزیاں، دالیں وغیرہ باغ کا مالک لیتا ہے ۔ اور مثلاً یہ گھاس سبزیاں، دالیں بیس ہزار روپے کی مالیت کے ہوتے ہیں تو اب جب کرایہ کا معاملہ کیاجائے تو اس طرح کہ سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار کا کرایہ ہوگا اور باغ کا میوہ، گھاس، سبزیاں سب کچھ خریدار کا ہوگا۔
 سوال: برائے مہربانی بالغ ہونے کے بارے میں بتائیں کہ اسلام میں بالغ کب ہوتا اٹھارہ سال میں یا بائیس سال میں بالغ ہونے کے بعد کیاکیا حکم ایک مسلمان پر عائد ہوتا ہے؟۔
 سوال:۔ الحاد کسے کہتے ہیں۔ اور ملحد کا کیا حکم ہے۔ مسلمان ملحد ہوسکتا ہے ؟
غلام بنی ڈار

الحاد کیا؟ ملحد کون؟

جواب :۔ الحاد کے معنیٰ بدل دینا ہے۔ جب کوئی انسان دین اسلام کے کسی حکم کو بدل دے تو اُس کو شریعت میں الحاد کہتے ہیں۔ دین اسلام کے کسی حکم کو بدل دینے کیلئے آیات قرانیہ یا احادث میں تحریف کی جاتی ہے اور اس کے وہ معنی جو دور نبوت سے آج تک متوارث ہوں اور تواتر سے چلے آرہے تھے۔ اُن کو بدل کر دوسرے معنی پیش کئے جائیں ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے ترجمہ جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔
جو شخص الحاد کرے اُس کو ملحد کہتے ہیں۔ ملحد کا حکم طے کرنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس نے کس قسم کا الحاد کیا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے متعلق الحاد کیا ہے تو یا تو شرک کے قبیل سے ہوگا۔ اس صورت میں یہ شخص مشرک ملحد ہوگا۔ یا اللہ کی ذات کا انکار کی صورت میں ہوگا۔ اس صورت میں یہ ملحد اور کافر ہوگا۔ جس کو دھر یہ بھی کہتے ہیں؟۔
الحاد کی کچھ اقسام تو وہ ہیں جن کی بنا پر مسلمان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور کچھ اقسام وہ ہیں جن کی بنا پر انسان اسلام سے خارج نہیں ہوتا وہ ہا ں گمراہ یا بدعتی ہوجاتا ہے ویسے یہ بات ذہن میں رہے کہ الحاد کا عمومی تعلق عمل سے نہیں ۔ بلکہ فکر اور عقیدے کے ساتھ ہوتا۔ مثلاً کوئی شخص نماز کو فرض تسلیم نہیں کرتا ہو مگر تارک صلواۃ ہو تو یہ شخص فاسق و گنہگار ہوگا۔ لیکن اگر وہ نماز کی فرضیت کا انکار کرے اور اس کیلئے بحث واستدلال بھی کرتا ہے تو شخص ملحد ہے۔ اسی طرح اگر کوئی سود یا رشوت کھاتا ہو تو یہ کہا جائے گا۔ یہ حرام خور ہے۔ فاسق و فاجر ہے۔ مگر جو شخص سود کو حرام نہ سمجھے یا رشوت کو حلال قرار دے اور ا س کیلئے دلیلیں بھی دیتا ہو تو یہ شخص ملحد ہے ۔ کیونکہ وہ دلیل دینے کیلئے دوران آیات یا احادیث کے معنیٰ بدل دینے کا جرم کرتا ہے اور یہی الحاد ہے ۔الحاد کے متعلق تفصیلات جاننے کیلئے پڑھئے اسلامی انسائیکلو پیڈیا یا القاموس الفقہ از مولانا سیف اللہ رحمانی۔ یا الموسوعتہ الفتییہ کویت۔
کامران شیخ ۔۔۔ سرینگر

سَنِ بلوغت و احکامات

جواب :۔ مسلمان کی زندگی میں اہم ترین مرحلہ ہو ہوتا ہے جب وہ بالغ ہو جائے ۔ بالغ ہونے کے متعلق عموماً معلومات کم ہوتی ہیں۔ اس لئے بالغ ہونے پر مسلمان پر جو فرائض لازم ہو جاتے ہیں ۔ اُن کے متعلق بھی بہت غفلت پائی جاتی ہے۔ا س لئے بالغ ہونے کے قریب نسل نو کو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس کی حقیقی حد فاصل کیا ہے یعنی کب تک نابالغ رہے گا اور کب سے بالغ ہوگا۔
بالغ ہونے سے پہلے کی عمر بچپن کی عمر کہلاتی ہے۔ اس لئے انسان اس عمر میں احکام شریعت کا مکلف بھی نہیں ہوتا۔ اگر چہ حدیث کی رو سے سات سال کی عمر سے نما زپڑھنے کا حکم ہے۔ مگر وہ حکم دراصل والدین کو ہوتا ہے کہ وہ بچوںمیں نماز کی عادت ڈالنے کیلئے سات سال کی عمر سے نما ز پڑھانے کی کوشش کریں۔ اور دس سال کی عمر تک پہونچنے پر نماز نہ پڑھنے پر سرزنش اور تنبیہ کریں۔ مگر نماز کی فرضیت بالغ ہونے کے بعد ہی ہوتی ہے لڑکے کے بالغ ہونے کی عمر احتلام ہونا ہے۔ جس لمحہ یہ واقعہ ہو جائے کہ لڑکے کواحتلام ہوگیا ۔ چاہئے اُس کی عمر دس سال ہی کیوں نہ ہو وہ بالغ قرا ر پائے گا۔ اب اُس پر نماز روز بھی فرض ہوگئے اور اگر وہ  صاحب مال ہو تو اُس پر زکوۃ بھی لازم ہوگئی اور اگر اُس کی خود کی مالی وسعت ایسی ہو کہ وہ مصارف حج بھی اپنے پاس رکھتا ہے تو اُس پر حج بھی فرض ہوگیا۔ مثلاً کسی بچے کو وراثت میں یا بذریعہ وصیت اتنی رقم مل گئی ہے اُس سے وہ حج کرسکتا ہو تو بالغ ہونے پر اس پر حج بھی فرض ہوگیا۔۔ اسی طرح بالغ ہونے کے بعد اب وہ حلال و حرام، جائز و ناجائز تمام احکام شرعیہ کا مکلف بن گیا۔ اگر بالغ ہونے سے پہلے اگر ہو کئی حرام کام کر بیٹھتا تو گنہگار نہیں کہلا سکتا تھا۔ مگر اب وہ ہر حرام کام کے ارتکاب سے گنہگار اور فاسق قرار پائے گا۔بالغ ہونے کی بنیادی علامت تو یہی احتلام ہونا ہے۔ لیکن اگر بالغرض کوئی بچہ احتلام میں مبتلا نہ ہو ا یہاں تک کہ اُس کی عمر چودہ سال سے تجاوز کر گئی تو پندرھویں سال میں داخل ہوتے ہی یہ لڑکا بالغ قرار پائے گا۔ 
اسی طرح لڑکیوں کو بھی ضروری ہے کہ وہ بلوغت کے بعد مرتب ہونے والے طہارت، نجاست، عبادات اور حجاب وغیرہ کے احکامات کو سیکھیں تاکہ بالغ ہونے کے بعد اُس پر عمل کرسکیں۔لڑکی حیض کے شروع ہونے پر بالغ قرار پاتی ہے ،اگر حیض شروع نہ ہو تو جوں ہی اُس کی عمر پندرہویں سال کو تجاوز کرے گی تو وہ بالغ قرار پائے گی ۔ ایک مسلمان کا حال یہ ہونا چاہئے کہ جیسے امتحان حال میں داخل ہونے سے پہلے انسان تمام طرح کی تیاری کر لیتا ہے تاکہ امتحان شروع ہو تو سب کچھ ٹھیک طرح سے انجام دے سکے بس اسی طرح بالغ ہونے سے پہلے تمام ضروری مسائل مستند طریقے سے سیکھنا ضروری ہے تاکہ بالغ ہوتے ہی شریعت اسلامیہ کے مطابق زندگی کا آغاز کرسکے۔
 
سوال: نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی مرضی کی کیا اہمیت ہیں۔ نیز گھروالوں کا کیا کردار ہے وضاحت کریں؟
اعجاز احمد

نکاح ۔مرضی کی اہمیت

جواب :۔ نکاح کا تعلق جیسے لڑکے اور لڑکی کی ذاتی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق دونوں خاندانوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے نکاح کے مکمل طور پر کامیاب ہونے اور ازدواجی زندگی کے ہر طرح خوشگوار بننے کیلئے ضروری ہے کہ لڑکے لڑکی بھی دونوں رضامندہوں اور اُن کے والدین بھی اس رشتہ پر خوش اور راضی ہوں۔ اگر خدانخواستہ کسی رشتے میں دونوں بچے خوش ہوں اور والدین ناراض ہوں تو خوشگواری کیسے آئے گی اور اگر والدین کسی ایسی جگہ رشتہ کرنے پر بضد ہوں جہاں لڑکا یا لڑکی آمادہ نہ ہوں تو بھی رشتہ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہونگے۔ اسلئے شریعت اسلامیہ کا یہی حکم ہے اور عقل عام بھی یہی پسند کرتی  ہے کہ آپسی مفاہمت، رضامندی اور سبوں کی خوشی شامل ہو۔ اور جہاں بھی رشتہ ہو سبوں کی مشاورت اور دلی آمادگی کے ساتھ ہو۔ زیر نظر معاملے میں لڑکے اور اس کے اہل خانہ پر ضروری ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں یا تو والدین بچے کی چاہت مان لیں اور اپنی ضد چھوڑ دیں یا بچے اپنی بے جا ضدپر مصر رہے تو دونوں صورتوں میں آگے تلخیاں اور ناخوشگوار یاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
والدین دور اندیشی کا رویہ اپنائیں اور یہ سوچیں کہ بچے کو آئندہ زندگی گذارنی ہے اسلئے ہم اپنی چاہت اس پر مسلط نہ کریں ایسی میں بہتری ہے اسی طرح بیٹا یہ سوچے کہ میرے والدین نے آج تک مجھے پالا پوسا۔ اور آئندہ مجھے ان کی ضرورت ہے اور ان کو میری ضرورت ہے لہٰذا ان کی پسند کو ملحوظ رکھنے میں ہی بہتری ہے دونوں طرف سے اگر ہٹ دھرمی اور بے جا اکڑ قائم رہی تو آئندہ دونوں کو سخت تلخیوں بلکہ نزاعات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑیگا۔