تازہ ترین

تحریک اسلامی

بہار ہو کہ خزاں لاالہٰ الا اللہ

22 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ابو تراب الہلالی۔۔۔۔۔ سری نگر
 22  فروری کی شب جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ وادی ٔ کشمیر کے کئی اضلاع اور تحصیلات میں متعلقہ پولیس نے امرائے جماعت کو اپنے گھروں سے گرفتار کیا ۔ یہ ایک ڈرامائی کارروائی تھی اور وردی پوشوں کے ہاتھ میں گرفتار شدہ گان کے خلاف کوئی دستاویز تھی نہ کوئی چارچ شیٹ۔ محبوسین کے گھر والے سراسیمگی کے ماحول میں جب یہ گرفتاریاں ہوتی دیکھتے تو حیرت کے عالم میں پولیس سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں ، جواب اتنا ہی ملتا کہ’’ اوپر سے آرڈر ہے، باقی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہے‘‘۔ گرفتار شدہ گان میں کئی زعمائواراکین عمر رسیدہ ہیں ، کئی ایک علیل ہیںاور کہیوں نے پولیس حکام سے بوجوہ گزارشیں بھی کیں کی کہ علی الصبح خود ہی تھانے میں رپورٹ کریں گے مگراُن کی ایک نہ سنی گئی۔ ایک ہفتہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ تادم تحریر وادی ٔ کشمیر کے علاوہ صوبہ جموں میں کہیں کہیں جماعت کے متعدد ارکان، ہمدردوں اور رفقاء کو پابند سلاسل کیا جا چکا ہے۔ گرفتار شدہ گان میں سے زیادہ تر اس وقت قیدو بند میں زیر حراست ہیں۔محبوسین میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض، نائب امیر احمد اللہ پرے مکی،ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی، سابق قیم جماعت غلام قادر لون کے ساتھ ساتھ امرائے اضلاع اور امرائے تحصیل جات بھی پولیس تھانوں یا جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ 
جماعت اسلامی کی لیڈرشپ کو گرفتار کرنے کی وجوہات فی الفور کسی سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ظاہر نہ کر دی گئی مگر جونہی مرکزی حکومت نے جماعت پر پابندی نافذ کی تو یہ سربستہ راز کھلا کہ جماعت اسلامی کو کن ناکردہ گناہوں کے سبب اور کن سیاسی مقاصد کے تحت سزادی جارہی ہے۔ ابتداء میں مقامی اخباروں نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اس بارہ میںیہ خبریں شائع کی تھیں کہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ کے ضامن دستور ہند کی دفعہ ۳۵؍ اے کی سماعت اور مجوزہ انتخابات کے حوالے سے یہ قدم احتیاطی طور اٹھایا گیا ہے۔قید وبند میں پڑے وابستگانِ جماعت میںسے کسی بھی ایک فرد کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہے نہ ہی پارٹی کا کوئی رُکن یا زعیم کسی غیر قانونی کاموں میں ملوث بتایاجاتا ہے۔ بایں ہمہ تاثر یہی دیا جاتارہا ہے کہ اگر دفعہ ۳۵ ؍اے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو زمینی سطح پر لوگوں کو اس کے خلاف اُبھارنے میں جماعت کا اثر ورسوخ بہت زیادہ ہو گا، اس لیے ممکنہ خطرہ ٹالنے کے لیے جماعت کی لیڈر شپ کو مقید کر دیا گیا ہے ۔ نیزبھارتی پارلیمان کے انتخابی عمل کو ’’بحسن و خوبی‘‘ انجام دینے کی خاطر بھی یہ پکڑ دھکڑناگزیر تھی تاکہ جماعت اسلامی کے کارکنان الیکشن میں کوئی ’’خلل ‘‘ نہ ڈالیں۔ اسی خدشے سے انہیں قبل از وقت پابہ زنجیر کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کو لے کر پوری وادی میں لوگوں کی سر دمہری نے اس پروسس کو اعتبار سے محروم کردیا۔ ان انتخابات کا وادی میں بہ حیثیت مجموعی زمینی سطح پر کوئی اثر نہ ہوا۔ حد یہ ہے کہ ووٹروں کی ایک کثیر تعداد میں سے محض پانچ دس ’’ووٹوں‘‘ سے کچھ افراد کو منتخب قرار دے کر’’ نمائندہ اور لیڈر‘‘ بنایا گیا۔ اب پارلیمانی اورا سمبلی الیکشن میںودبارہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہو ،اس لئے حکام کے نقطہ ٔ  نظر سے یہ ضروری بن گیا کہ حریت پسند قیادت کو مقید کیا جائے۔
  یہ جماعت اسلامی ہے جس کے خلاف حکام کے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ جس سے یہ عندیہ ملتا ہو کہ جماعت دعوتی ، تعلیمی ، اصلاحی اور رُفاہی کام کو چھوڑ کر کوئی غیر قانونی کام کررہی ہے۔ جماعت اسلامی سے مخالفین کا اختلافات اپنی جگہ لیکن بدیہی حقیقت یہی ہے کہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا طریقہ کار نہایت ہی پُرامن اور عوام دوستا نہ ہے۔ جماعت کا دستور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سماج میں اصلاحی تبدیلی لانے کی خاطر جماعت کسی زیر زمین کاروائی یا کسی تخریب کاری کی براہ ِراست یا بلواسطہ پذیرائی نہیں کرسکتی۔ نہ صرف مذہبی اور سیاسی سطح پر بلکہ فلاحی و تعلیمی میدان میں بھی جماعت اسلامی اس وقت اپنا بھر پور کر دار ادا کررہی ہے۔ ہزاروں بچوں کی تعلیم و تربیت، یتامیٰ اور بیوائوں کی داد رسی، شورش کے متاثرہ لوگوں کی حتی المقدور معاونت، غریبوں کی امداد، بیماروں اور مسکینوں کاعلاج ومعالجہ، یہ انسان دوستی کے وہ مختلف شعبے ہیں جن میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر اللہ کے فضل و احسان سے اپنا رول ادا کر رہی ہے۔ ا س سلسلے میں ۲۰۰۵ ء کا تباہ کن زلزلہ اور ۲۰۱۴ء کے وسیع الاثر سیلاب کا ریکارڈ بتاسکتا ہے کہ دیگر رفاہی اُنجمنوں کے شانہ بشانہ جماعت اسلامی نے بھی انسانیت نواز رول اداکیا ۔ اب رہی بات مذہبی تبلیغ و اشاعت اور کشمیر کے پُرامن حل کے لئے بالائے زمین سیاسی جدوجہد کی ، ان شعبوں میں جماعت اسلامی کی ا پنی تاریخ ہے ۔ مذہبی معاملات میں یہ اتحاد ِ ملت کے لئے ہر سطح پر فعال رہی ہے ۔ اس کا کشمیر کے حوالے سے موقف وہی ہے جو کشمیری قوم کے جذبات واحساسات سے من وعن ہم آہنگ ہے۔ مذہبی طور لوگوں کو اپنے دین سے جڑے رہنے کی خاطر وعظ و تبلیغ، دروس و تقاریر، دینی لڑیچر کی تقسیم و فراہمی، وغیرہ کا م جماعت برسر عام کر رہی ہے۔ اس میں بھی جماعت اسلامی کا اپروچ اعتدال وتوازن سے مزین ہے۔ جماعت بلا کم و کاست لوگوں تک قرآن وسنت کی بات ہر موقع پر داعیانہ درد مندی کے ساتھ پہنچاتی رہی ہے۔ کشمیر مسئلہ کے باب میں جماعت اسلامی کا نظریہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ ہے کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق استصواب رائے کے اہتمام سے کیاجائے یا سہ فریقی امن مذاکرات کاراستہ اختیار کیا جائے۔ جماعت کے نزدیک کشمیر کا پُر امن ،قابل قبول اور مذکراتی حل کشمیر یوں کے لئے ہی پیغامِ زندگی نہیں بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا ء کے لئے امن و استحکام اور بھائی چارے کی شاہراہ کھول دیتا ہے جو بقائے باہم اور خیرسگالی کی منزل پر منتج ہوگی ۔ کشمیر یوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کر نے کا موقع ملنا چاہیے ، یہ جماعت کا جچا تُلا مبنی بر حقیقت موقف ہے۔ کشمیر حل کے تناظر میں جماعت اسلامی ہمیشہ فہمائشیں کر تی رہی ہے کہ بھارت ، پاکستان اور کشمیر کی لیڈر شب ایک ہی میز پر جمع ہو جائیں اور اس دیرینہ مسئلے کا کوئی قابل قبول اور دیر پا حل دوستی و شانتی کی فضامیں نکالیں ۔ دنیا بھی یہ جان لے کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے، جسے سلجھانے کے لئے جماعت اسلامی اپنا مقدور بھر رول بالائے زمین ادا کر تی چلی آئی ہے۔ یہ رول جماعت کے دستور ( جو قرآن وسنت سے مستفاد ہے )سے مکمل طور موافقت ومطابقت رکھتا ہے ، یہ نہایت ہی پُر امن ہے، اس میں کسی زیر زمین کارروائی کا کوئی ادنیٰ ساشائبہ بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی وقتاً فوقتاً اپنے اجتماعات ا ور بیانات میں ببانگ دہل اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ فریقین کو جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ بر صغیر ہند وپاک اپنی آزادی کے بعد بھی معاشی اورسماجی طور نہایت ہی پُرآشوب دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں بھوک، مفلسی ، لاچاری، بے روزگاری، انسانی حقوق کی ابتری سے شاید ہی کو ئی بالغ نظر انسان انکار کرسکتا ہے، یہی و جہ ہے کہ قریباً ایک صدی گزرنے کو ہے لیکن ابھی تک کرہ ٔارض کا یہ حصہ تعمیر و ترقی کی پٹری پر نہ آسکا ہے۔ وجہ صرف یہاں کی شورش ا ور کشیدگی ہے جو سیاست دان اپنے حقیر مفادات کے لئے ہمیشہ قائم رکھنا چاہتے ہیں ، بھلے ہی ہندو پاک کی مر کزی حکومتیں اس کے لئے اپنی قومی آمدنی کا زیادہ تر حصہ دفاعی اخرابات پر اندھا دُھندضائع کر رہی ہیں۔ اگر ان خطیر رقومات کو تعلیم، صحت، روزگار، سڑکیں بنانے، عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کر نے کے لیے استعمال میں لایا جاتا تو کوئی بات بنتی اور لوگوں کی بگڑی تقدیریں سنورتیں، لیکن دونوں ممالک اس کے بجائے مہلک ترین مہنگے مہنگے ہتھیاروں کی ایک ایسی دوڑ میں لگے ہیں کہ صرف مغرب کی تجوریاں بھرتے جارہے ہیں اور اپنے عوام کو سُکھ چین یا امن و آشتی کے فیضان سے محروم رکھ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اکثر الاوقات اسی تلخ حقیقت کو پیش نظر ر کھتے ہوئے نہایت ہی عاجزانہ طریقے سے دونوں ملکوں سے درخواست کرتی رہی ہے۔ چونکہ بر صغیر کو بغض وعناد کا جہنم زار بنانے میں اور غربت وجہالت کی سمندر میں اسے ڈبونے اور تعمیر وترقی کا قافلہ درماندہ ہونے کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، ا س لیے اس ہمالیائی روڑ بلاک کو افہام وتفہیم سے گلوخاصی کریں مگر اس کے لئے ضروری ہے کشمیریوں کو ساتھ لے کر ہی دونوں ممالک مذاکراتی حل کا طریقِ عمل اختیار کریں۔ یہی ایک واحد راستہ ہے جس پر چل کر نئی دلی ا ور اسلام آباد باہم دگر شیر وشکر ہو ں گے اور عوامی مسائل کے جنجھٹ سے چھٹکاراپا سکیں گے ۔ اس انسان دوست اور اعتدال نواز کام کا صلہ اگرجماعت اسلامی کو اس پرپابندی عائد کر نے کی صورت میں دیا جائے تو اس سے بڑھ کر غیر جمہوری عمل اور کیا ہوسکتا ہے ؟
    یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ممنوعہ جماعت اسلامی اپنا مسلمہ انسان دوستانہ کردار اپنے دستور کے تحت ببانگ دہل انجام دیتی رہی ہے،اس کے یہاں خواب وخیال میں بھی زیر زمین کاروائی کا کوئی تصور نہیں۔ جماعت نہ صرف جموں و کشمیر کی حدود میں بلکہ پوری دنیائے انسانیت میں فساد فی الارض کی ہر صورت کی نظریاتی دشمن اور عملی حریف ہے۔ پُر امن طور انفرادی اور اجتماعی مسائل ِحیات سلجھانے والی تحریک اسلامی نہ صرف ریاستی مسلمانوں کی فلاح وبہود کی متمنی ہے بلکہ یہ از رُوئے شریعت ریاست کی غیر مسلم آبادی سے بقائے باہم ، رواداری اور پراپرجائی کے رشتے میں پیوست ہے۔ اس چیز کا ثبوت جماعت اسلامی کے دعوتی طریقہ کار اور تاریخ سے قدم قدم مل سکتا ہے۔ ان حقائق کو ملحو ظ نظر رکھ کر خود ہی انصاف کیجئے کیا یہ جماعت حکومتی پابندی کی مستوجب ہوسکتی ہے ؟
جماعتی قیادت کی گرفتاریوں کے ایک ہفتہ بعد جمعرات ۲۸؍ فروری کی شام حکومت ہند کی وزارتِ داخلہ کی طرف سے ایک آرڈر جاری ہوا جس میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی کہ جماعت بھارت کی سا  لمیت اور امنِ عامہ کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ،یہ ملک میں افراتفری کی موجب ہے ، ملکی یکجہتی کو اس سے خطرہ لاحق ہے ، اس کا عسکری تنظیموں سے قریبی تعلق ہے ، یہ ملک میں تخریبی کاروائیاں بھی انجام دیتی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر اس تنظیم پربھارتی قانون Unlawful Activities Act, 1967  کے تحت پانچ سال تک پابندی عائد کی جاتی ہے۔ متعلقہ حکم نامے کے ردعمل میں نہ صرف حریت پسندانجمنیں بلکہ مین اسٹریم جماعتیں بھی تاحال نئی دلی کے فیصلے پر بر ہم ہیں اور بیک زبان اس اقدام کو ریاست میں جماعت کے جھنڈے تلے جاری تعلیمی ، تدریسی اور رُفاہی کام کے لئے بد شگونی گردانتی ہیں ۔ پابندی کے اس فیصلے کو ریاست کا ہر ذی حس انسان حقیقت کے منافی اور سر اسر غیر جمہوی قرار دے رہا ہے۔ بھارت نواز پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کشمیر میں سیاسی تنائو مزید بڑھ جائے گا اور امن کی راہوں میں مزید کھوٹی ہوں گی۔ ان کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی ایک مذہبی و سیاسی جماعت ہے جس کے تحت کئی سارے فلاحی ادارے چل رہے ہیں۔ یہ بات کسی بھی فرد یاگروہ پر پوشیدہ نہیں کہ جماعت اسلامی کے کام کاج کا طریقہ کار پُر امن ہے، اس میں کسی بھی تشدد یا انتہا پسندی کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ اس لئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کشمیر میںا من اور انصاف کی جدو جہد میں ہمہ تن مصروف جماعت اسلامی کو اُمید کی کرن سمجھ کر اسے کام کر نے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں لیکن ریاست میں بالعموم اور کشمیر میں بالخصوص قیام ِامن کے لئے کوشاںہونے کا دعویٰ رکھنے والے بھارتی حکمران اپنے دعوؤں کے اُلٹ میں بیک جنبش قلم جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر تے ہیں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟اس اقدام سے عیاں وبیاں ہوا کہ دلی کا حکمران طبقہ یہاںدینی جماعتوں کے لئے تعمیری کام کر نے میں روڑھے اٹکاکر کے بدامنی اور اضطراب کی فضا بنائے رکھنا چاہتا ہے ۔اسی لئے متعلقہ حکم نامے کے بعد ریاستی سرکار کی طرف سے ایک اور حکم نامہ نافذکیا گیا کہ جس میں جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لئے ضلعی سطح پر افسروں کو بے پناہ اختیارات دئے گئے ہیں۔ جماعت پر پابندیوںکا یہ سلسلہ عرصہ ٔدراز سے آزمایا جاتارہا ہے۔ ماضی میں بھی جماعت پر پابندیاں عائد کی گئیں، جماعت کے کارکنان کو ۴ ؍اپریل ۷۹ ء میں بھی جاںبحق کیا گیا، اخوان کے دورِ ظلمت جماعت کے وابستگان کو چن چن کر مارا گیا، ستایا گیا، لوٹا گیا، جیلوں کے نذر کر دیا گیا،جماعت کے لڑیچر کو بھی ا یک موقع پر شرپسندوں کے ہاتھوں جلوایا گیا لیکن اس کے باوجود یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ جماعت ظلم وستم کی ہرآندھی کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ نئے جذبوںاور نئے ولولوں کے ساتھ اُبھرتی رہی۔ کشمیر کے ایک معروف قانون دان ڈاکٹر شیخ شوکت نے اس حوالے سے ایک ہم نقطہ بیان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کا معاملہ بالکل مختلف ہے، یہاں پر کسی ایک فرد کو پابند سلاسل کرنے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اس کے بعد خالی جگہ کو پُر کرنے کے لیے متبادل موجود فرد رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسے اوچھے ہتھکنڈے جماعت کے خلاف آزمائے گئے ، لیکن بدلے میں حاصل کچھ نہیں ہوا۔ جماعت کا ہر رکن، ہمدرد، رفیق اپنی جگہ بذات خود ایک جماعت ہوتا ہے۔ جماعت ایک خدائی فکر اور نظریۂ اسلام ہے جسے قید یا کالعدم قرار نہیںدیا جا سکتا۔ شاید وقت کے حاکمانِ بالا کو معلوم نہیں کہ کارکنا نِ جماعت کو اپنے کام کا پورا فہم وادراک حاصل ہے اور ان کی تربیت کا خاصا ہی یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے بھی ناسازگار ہوں، ان کے ایما ن کی مپرواز کو روک نہیں سکتے۔ کیونکہ ایک باشعور وباضمیر مسلمان خزاں ہو یا بہار ہر موسم میں اپنے بنیادی مشن سے کسی نہ کسی صورت وفا  کر نااپنا شعار بناتا ہے۔وہ عین موقع پر خود کا امیر بنتے ہوئے اپنا کام جاری و ساری رکھتا ہے ، قطعِ نظر اس کے قانوناً تنظیم کالعدم ہو یا پابندی سے ماوراء ہو۔ اسلامی دعوت کسی دفتر ، کسی چندے ، کسی جھنڈے کی محتاج نہیں، نہ اسے کسی کے آرڈر کی ضرورت پڑتی ہے، ا ُس کے لئے پنج وقتہ اذان ونماز ہی پیغامِ زندگی ہے ۔ بہر کیف ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اربابِ اقتدار کو اس بات پر پھر سے سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے جماعت پر پابندی عائد کر نے سے اُنہیں الیکشن کا کوئی فائدہ ملے مگراس سے کسی تبدیلی کی اُمید کرنا اُلٹی منطق ہی کہلاسکتی ہے   ؎
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند 
بہار ہوکہ خزاں لاالہٰ الا اللہ 
.....................................
abuturab.alhilali@gmail.com
