تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

8 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال:۔ پچھلے ہفتہ کے جمعہ ایڈیشن میں آپ نے کبیرہ گناہوں کی تفصیل شائع کی۔ اُن گناہوں میں ایک بڑا گناہ رشوت لینا بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رشوت کیا ہے؟ یعنی ہم کیسے کسی رقم کو رشوت کے زمرے میں لائیں گے جبکہ بعض دفعہ لوگ کسی کام کے بدلے میں رقم مانگ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری چائے ہے۔نیز یہ بھی بتایئے کہ رشوت کی شکلیں کیا کیا ہیں۔ بہت سارے ضروری کام رشوت دیئے بغیر نہیں ہو پاتے اور جب تک رشوت نہ دیں وہ کام لٹکے رہتے ہیں۔ کیا اس جگہ رشوت دینا بھی گناہ کبیرہ ہے تو پھر حل کیا ہے؟۔ اگر رشوت دیں تو یہ گناہ کبیرہ ہوگانہ دیں تو یہ کام نہیں بنے گا۔ اب مسلمان کرے تو کیا ۔رشوت خوری کے اس طوفان بدتمیزی سے بچنے کی تدبیر کیاہے۔حکومتیں رشوت خوری کو روکنے کےلئے قوانین بھی بناتی ہیں اور انسداد رشوت انٹی کرپشن ادارے بھی ہیں مگر عملاً نتیجہ صفر ہے۔ برائے مہربانی قرآن اور احادیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟
عبدالمجید خان
رعناوری سرینگر

سماجی میں رشوت کی بڑھتی وباء

راشی اور مرتشی دونوں ملعون

جواب:۔ رشوت یہ ہے کہ جس کام کا معاوضہ لینا شرعاً جائز نہ ہو اس کام کے کرنےپر معاوضہ لیا جائے۔ یا جس کام کو چھوڑنا ضروری ہو اس کام کے کرنے پر کسی سے رقم لی جائے ۔اس  تعریف کی رو سے ہمارے معاشرے میں بہت سارے کام ایسے ہیں جن کے کرنے پر رقمیں لی جاتی ہیں اور وہ رشوت کے دائرے میں آتی  ہیں۔ ان میں سے چند مشہور اور کثیر الوقوع شکلیں یہ ہیں۔ کسی ادارے کاملازم جس کام کے کرنے پر مامور ہے اس کام کے کرنے پر وہ اُس شخص سے کوئی رقم لے جس کا کام اُس نے کیا ہے تو یہ رقم لینا رشوت ہے۔ مثلاً کوئی افسر کسی کاغذ پر دستخط کرنے ، جو کہ اس کا لازمی کام ہے ،پر رقم طلب کرے اور جب تک رقم نہ ملے وہ دستخط نہ کرے تو یہ رقم لینا رشوت ہے۔ ہمارے دفاتر میں ملازمین نیچے سے لے کر اوپر تک جو جو بھی اس طرح رقمیں لینے کو اپنا شیوہ بنا ئے ہوئے ہیں۔ وہ سب اس رشوت کے زمرے میں آتے ہیں ،جو اسلام میں حرام اور قانوناً جرم ہے ۔اس طرح ملازمت فراہم کرنا مختلف اداروں کا عوامی حق ہے ۔اب یہ ملازمت مہیا کرنا اور اس کے لئے رقمیں طلب کرنا اور رقم نہ دینے کی صورت میں مستحق کو محروم کرنا یہ بھی رشوت اور حرام ہے ۔ اس طرح رشوت لینے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ٹریفک کے جو اصول اور قوانین بنائے گئے ہیں وہ عوام کی راحت اور سہولت کےلئے ہیں ان اصولوں کی پابندی ہر شخص پر لازمی ہے ،چاہئے ذاتی گاڑی والا شخص ہو یا عوامی ٹرانسپورٹ چلانے والاڈرائیور ہو۔ا ب اگر کسی شخص نے اس قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کےلئے جو قانونی سزا مقر ر ہے، اس سزا سے بچنے کےلئے جرم کرنے والا رقم دے اور ٹریفک پولیس کا کوئی فرد یہ رقم اپنی جیب میں رکھ کر اس کو چھوڑ دے تو یہ رقم رشوت ہے اور حرام ہے ۔ ہاں اگر کسی کے کاغذات مکمل ہیں اور لائسنس بھی درست ہے اور کوئی خلاف ورزی نہیں پائی گئی پھر کسی ٹریفک کے اہلکار نے غلط بہانہ بنا کر روک دیا تاکہ یہ شخص رقم دینے پر مجبور ہو جائے تو یہ ظلم ہے اور اس صورت میں رقم دینے والا گنہگار نہ ہوگا کیونکہ اس نے ظلم سے بچنے کےلئے یہ رقم دی البتہ رقم لینے والا دوہرے گناہ کا مرتکب ہوگا۔ ایک ظلم اور دوسرے رشوت اور یہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں۔ اس طرح کوئی سرکاری ملازم کسی کام کےلئے مقرر ہے مثلاً کوئی کارڈ، لائسنس بنانے پر، کوئی نقشہ پاس کرنے پر، کوئی NOCدینے پر، کسی بل کو پاس کرنے پر ،کوئی رپورٹ دینے پر، کوئی فارم آگے بڑھانے پر ، کسی فائل کو آگے لے جانے پر ،کوئی فنڈ منظور کرنے پر ، کوئی منصوبہ منظور کرنے پر، کوئی کام الاٹ کرنے پر، کسی جائز مانگ پر اپنی رائے دینے پر وغیرہ تو ان کاموں کے کرنے پر کوئی بھی رقم لینا رشوت ہے اور ان کاموں کو کرانے پر جو شخص رقم یا کوئی بھی دوسری چیز دینے پر مجبور ہوگا وہ گنہگار نہ ہوگا ہاں رقم یا کوئی چیز لینے والا ضرور گناہ کبیرہ کرنے والا قرار پائے گا۔ رشوت کی یہ شکل کثیر الوقوع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی غلط سرٹیفکیٹ جاری کرے اور رقم لے کر یہ کام کرے تو رقم دینے والا اور رقم لینے والا دونوں رشوت دینے اور لینے کے گنہگار ہونگے ۔اسی طرح کسی امتحان میں نقل کرنے والا اور نقل کی اجازت دینے والا جب رقم دینے اور لینے پر یہ کام کریں گے تو دونوں گنہگار ہونگے ۔اس طرح امتحان میں فیل ہونے والا جب امتحانی پرچوں پر غلط مارکس درج کرائے اور اس کےلےرقم یا کوئی اور چیز دے تو یہ دونوں گنہگار ہونگے۔
کسی ملازم کا ٹرانسفر اگر اس کا حق ہو اور پھر اس کا تبادلہ کرنے پر رقم یا کوئی اور چیز لی جائے تو یہ رقم یا چیز لینا رشوت ہے اور یقیناحرام ہے اور اگر ملازم کو اپنا یہ حق پانے کےلئے رقم دینی پڑے تو اُس پر گناہ نہ ہوگا اور اگر اُس کا حق نہ تھا پھر بھی رقم لے کر یہ ٹرانسفر کیا گیا تو یہ رقم دینے والا بھی رشوت دینے والا قرار پائے گا۔ اسی طرح کسی ملازم کو اگر چھٹی لینےکا حق ہو اور اسکی منظوری کےلئے اس سے رقم لی گئی تو یہ رقم لینا حرام ہے اور اگر چھٹی اُس کا حق نہ تھا مگر رشوت دے کر چھٹی منظور کروائی تو یہ رقم دینا بھی حرام ہے اور لینا تو ہر حال میں حرام ہی ہے۔ کوئی کمپنی یا فیکٹری کسی ادارے کے خریداری کرنے پر متعین پرچیز افسر(Purchase Officer) یا منیجر کو رقم دے کر آڈر منظور کرائے تو یہ رقم دینا اور لینا دونوں حرام ہیں کوئی ڈاکٹر کسی دواساز کمپنی سے کوئی رقم بطور  کمیشن یا کوئی تحفہ طلب کرے یا کمپنی خود پیش کرے۔ تاکہ اس کمپنی کی وہ دوائی جو ناکارہ یا غیر معیاری ہوڈاکٹر کے ذریعہ بکنے لگے تو یہ سب لین دین دونوں رشوت کےدائرے میںآئے گا۔ اگر دوائی درست اور معیاری ہے اور ڈاکٹر کو بہر حال وہی دوائی لکھنی ہو تو اس صورت میں ڈاکٹر کے مطالبہ کے بغیر اُسے کوئی تحفہ دینا رشوت میں نہیں آئے گا۔ مگریہ پورا سلسلہ عام صارفین کا استحصال ہےکہ تحائف اوراشتہارات کے تمام خرچے دوائیوں کی قیمت میں شامل کرکے خریدار سے وصول کی جاتی ہیں۔کسی کرایہ دار چاہئے وہ دکان کا ہو یا مکان کا اس سے کرایہ کےعلاوہ مٹھائی یا پگڑی کے نام پر جو رقم لی جائے وہ بھی رشوت کے خانے میں آتی ہے اوریہ رقم لینا حرام ہے اور کوئی کرایہ دار دکان یامکان خالی کرنے کےلئےمالک سے رقم طلب کرے تویہ رقم طلب کرنا بھی حرام ہے اور یہ بھی رشوت میں آتا ہے۔ بعض قوموں مثلاً یہاں کشمیر میں کچھ برادریوں کے لوگ لڑکیوں کارشتہ کرنے پر لڑکے والوں سے مہر کے علاوہ کچھ رقم یا جانور یا زمین لیتے ہیںجسےلڑکی کا باپ اپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ بھی رشوت میں آتا ہے اور حرام ہے اسی طرح رشتہ ختم کرنے پر لڑکی اپنے شوہر سے مہر اور تحائف کے علاوہ کوئی اور رقم جرمانہ یا پنلٹی کے طور پر طلب کرے اور لڑکی والے یہ کہیں کہ اس رقم کے بغیر ہم رشتہ ختم کرنے کورضامند نہیں تو یہ رقم طلب کرنا بھی رشوت اور حرام ہے۔ اسی طرح  سرکاری خزانے میں غلط بل پیش کرکے بل پاس کرنا اور رقم نکالنادونوں رشوت میں یقینا ًداخل ہیں۔ اس طرح اور بہت ساری صورتیں ہیں کہ ہمارے معاشرے میں رائج ہیں اور وہ رشوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ درحقیقت جب ایمان والا اس بات کی فکر کرے کہ جو روپیہ پیسہ میرے پاس آرہا ہے اور جس رقم کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں وہ اسلام کی نظر میں جائز ہے بھی یا نہیں تو پھر ہر مرحلے پر وہ حلال و حرام کے سلسلے میں محتاط ضرور رہے گا۔
اس رشوت کی متعلق چند احادیث یہ ہیں کنزالعمال میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے: فیصلہ کرتے وقت رشوت لینے والے پر لعنت کی گئی ہے اسی کنز العمال میں حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جسم کا وہ گوشت جو سُحُت سےتیار ہوا اس کےلئے جہنم کی آگ زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ یعنی وہ جہنم میں جلنے کا مستحق ہے۔ عرض کیا گیا کہ سُحُت کیا ہے۔ ارشاد ہوا رشوت لے کر فیصلہ کرنا۔ مُسند بزار میں حدیث ہے حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنم میں ہونگے۔
سنن ابو دائود میں ہے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ایک حدیث میں رشوت کا معاملہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔ رشوت سے بچائو کی تدبیر یہ ہے کہ ایمان والے میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ وہ کام ہے جس پر دنیا میں لعنت اور آخرت میں جہنم کی وعید ہے۔ یہ بندوں پر ظلم ہے ۔ اس سے معاشرہ رشوت خوری کا معاشرہ بنتا ہے اور ایک جگہ ایک شخص رشوت لیتا ہے تو دوسری جگہ یہی رشوت دینے پر مجبور ہو تا ہے جب تک یہ ایمانی مزاج پیدا نہ ہو اور آخرت کی جواب دہی اور لعنت میں گرفتار ہونے سے بچنے کی فکر پیدا نہ ہو جائے تب تک اس رشوت کا سدباب نہیں ہوسکتا۔ حکومت قانون بنا سکتی ہے مگر قانون نافذ کرنے والے میںایمان اور دیانت نہ ہو تو قانون کے باوجود جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
 سوال:۔ ہر خا ص و عام کو مقبرہ جانے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ دینی فریضہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ مقبرہ جانے کے اسلامی آداب کیا ہیں کیا مقبرہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرنے کی اجازت ہے؟ براہ کر م باحوالہ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں؟
سہیل احمد خان
رعناواری سرینگر 

زیارت قبور کا شرعی طریقہ

جواب:۔ زیارت قبور کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ قبرستان میں داخل ہو کر یہ کلمات پڑھے جائیں۔ السلام علیکم یا اہل القبور الی آخرہ ۔ یہ پوری دعا ءدعائوں کی کسی کتاب سے یاد کر لی جائے۔مخصوص قبر مثلاً والدین ،اقارب میں سے کسی کی قبر پر خصوصی طور سے فاتحہ پڑھنا ہو تو قبر کے پاس اس طرح کھڑے ہوں کہ کھڑے ہونے والے شخص کا چہرہ میت کے سر کے سامنےآئے ۔ پھر دعا و استغفار کرے۔ ہاتھ اُٹھا کر بھی دُعا کرنا درست ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے مدینہ المنور ہ کے مقبرہ جنت البقیع میں کھڑے ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی۔ یہ حدیث مسلم ، نسائی اور مسندِ احمد میں ہے۔ البتہ بہتر ہے کہ جب دعا کرنے کےلئے ہاتھ اُٹھائے جائیں تو  ربرو قبلہ ہو کر دُعا ءکریںتاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہونے پائے کہ صاحب قبر سے طلب حاجت کےلئے ہاتھ اُٹھائے گئے ہیں۔ قبرستان میں گزرتے ہوئے اس کا اچھی طرح اہتمام کیا جائے کہ قبروں پر پائوں نہ پڑے۔ قبرستان میں چلنے کےلئے جو راستہ بنایا گیا ہو اُس راستے میں جوتا پہن کر چلنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ دو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر نہ چلے۔
مقبرے میں پہنچ کر سب سے اہم کام اپنی موت کو یاد کرنا ہے۔ جو بلا شبہ یقینی چیز ہے اور جس طرح مقبرہ میں مدفون لوگ سبھی ہماری طرح اس زمین پر رہتے سہتے اور زندگی کی دوڑ دھوپ میں سرگرم تھے مگر آج خاک کے نیچے آسودہ ہیں۔ اس طرح ہمارا بھی ہونا طے ہے۔
اس تصور اور خیال کے نتیجے میں اپنی آخرت کی فکر کی جائے۔ احادیث میں ہے کہ زیارت قبور سے منع کیا گیا تھا پھر اجازت دے دی گئی، اسلئے کہ یہ آخرت کی یاد دلائے گی۔
دوسرے مقبرے میں کوئی غیر شرعی حرکت نہ کی جائے۔ یہ غیر شرعی حرکات کچھ از قبیل بدعات ہیں اور کچھ از قیبل رسوم و رواجات ہیں۔ ان کو جاننا بھی ضروری ہے اور ان سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔
سوالات بھیجنے کا پتہ’’کشمیرعظمیٰ‘‘
پوسٹ باکس نمبر 447جی پی او سرینگر،جی ،کے،کمیونی کیشنز،۶ پرتاپ پارک، 
ریذیڈنسی ،روڈ سرینگرفیکس نمبر:2477782