تازہ ترین

غزلیات

3 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ہے المیہ انسان میں شیطان کی خصلت
انسان کو درکار ہے انسان کی خصلت 
 اب چین سے جینے کا تصور بھی نہیں ہے 
باقی نہیں انسان میں اِحسان کی خصلت 
جس سے بھی ملو، آگ بگولہ کی طرح ہے 
ملتا ہے کوئی شاذ ہی گُلدان کی خصلت 
تاریکیوں نے ملک کو تاراج کیا ہے 
ماؤف ہوئی ہے میرے اَعیان کی خصلت 
اب ہند بھی اور پاک بھی لیں ہوش کے ناخن 
اللہ!عطاکراِنہیں جاپان کی خصلت 
آزادیٔ اَفکار کا اعلان ہے یہ عام 
رکھےنہ کوئی شہر میںخاقان کی خصلت 
کچھ جُبہ و دستار میں اسلام نہیں ہے 
مومن ہے وہی جس کی ہو قرآن کی خصلت 
ہو مدحِ نبیؐاب مرے اشعار کی زینت 
اے مولیٰ مرے دے مجھے حِسّانؓ کی خصلت 
میں بندہ رہوں بندگی معراج ہو میری 
مجھ میں کبھی جاگے نہیں یزدان کی خصلت 
یہ دونوں جہاں دستِ تصّرف میں ہوں بسملؔ 
جو ہاتھ لگے صاحبِ ایمان کی خصلت
 
 
خورشید احمد بسملؔ
 تھنہ منڈی راجوری 
موبائیل نمبر؛ 9622045323
 
میں اپنے آپ سے شرما رہا ہوں
یہ کس دنیا میں چلتا جا رہا ہوں
اُمیدوں کے بُجھا کر سب دئیے میں
ذرا مایوس ہونے جا رہا ہوں
تساہل کی بھی کوئی حد ہے یارو
میں جل سے برف ہوتا جا رہا ہوں
کھرا پہلے بھی کچھ ایسا نہیں تھا
میں کھوٹا اور ہوتا جا رہا ہوں
جو تُو دائیں کو جھکتا جا رہا ہے
میں بائیں کی طرف کو جا رہا ہوں
نظر سے میں نظارہ ہو گیا ہوں
تھا چشم نم مگر پتھرا رہا ہوں
صدائے کن پہ تکیہ کر لیا ہے
عمل سے دور ہوتا جا رہا ہوں
 
ڈاکٹر ظفر اقبال
بلجرشی الباحہ، سعودی عرب
موبائل نمبر؛‪+966538559811‬
 
 
کوشش کے باوجود بھی حالات نہ بنے
مِٹ جائیں جس سے دُوریاں وہ بات نہ بنے
قدرت کی نعمتوں میں ہے انسان کے لئے 
تجھ جیسی اور کوئی بھی سوغات نہ بنے
جو بھول کر آئے تھے کبھی اپنی طرف، وہ
صبحِ رسا بھی نہ بنے رات نہ بنے
کیا کچھ نہ کیا ہم نے یہاں اپنی طرف سے 
اِس بت میں ولے وہ کبھی جذبات نہ بنے
تیری وہ اک نظر جوقیامت بپا کرے
ہم سے تو ایسی چشمِ کمالات نہ بنے
پانی کے بدلے سینچا ہم نے خون جگر سے
بنجر زمیں تھی ایسی کہ باغات نہ بنے
ہم کیوں نہ شکوہ اسکی بےوفائی کا کریں
خورشیدؔ اس بِنا بھی کوئی بات نہ بنے
 
سید خورشید حسین خورشیدؔ
چھمکوٹ کرناہ
موبائل نمبر؛9596523223
 
 
جس کا چہرہ گلاب ہوتا ہے
’’وہ میرا انتخاب ہوتا ہے‘‘
رخ سے گیسو جو ہٹتے ہیں
پھر وہی ماہتاب ہوتا ہے
تیری آنکھوں سے آنکھوں کا ملنا
لمحہ لمحہ خواب ہوتا ہے
سوچتا ہوں میں جب ترا جاناں
دل میں پھر اضطراب ہوتا ہے
بن کے بہتا ہے آنکھ سے دریا
درد اک سیل آب ہوتا ہے
جس پہ دنیا بھی رشک کرتی ہو
بس وہی کامیاب ہوتا ہے
جب بھی آتی ہے یاد ماضی کی 
سانس لینا عذاب ہوتا ہے
  
سہیل سالمؔ
رابطہ؛رعناواری سرینگر،
موبائل نمبر؛9697330636
 
 
دنیا یہ بے وفا ہے، اب وفا کہوں کِسے
فانی ہر ایک شے ہے ہم نوا کہوں کسے
ہیں درد کی خلش سے سلگتے چمن کے گُل
ہر درد لادوا ہے، اب دوا کہوں کسے
جانے نہ کیا قیامتیں ٹوٹی ہیں چار سُو 
خوں ہر طرف رواں ہے،میں سزا کہوں کسے
پگھلے گا رفتہ رفتہ، سنگ دل بھی کبھی کیا 
الفاظ سارے کھوگئے ، دعا کہوں کسے
فُرقت ہی اک حقیقتِ عشاق ہے جو شاہدؔ
خاموش شمعِ دل ہے تمنا کہوں کسے
 
شاہد علی شاہدؔ
اگرو باغ، بادام واری ، حول سرینگر
موبائل نمبر؛9086352461