تازہ ترین

نظمیں

24 فروری 2019 (55 : 10 PM)   
(      )

آئینہ کشمیر

عجب رسمیں، عجب دستور ہیں کشمیر کے اندر
یہاں جینا بہت مشکل ہے اک انسان کی خاطر 
کسی بیٹی کو گر بچہ خدا نے دے دیا تو پھر 
پڑی رہتی ہے سارا سال جا کے اپنی ماں کے گھر
اگر بیٹی کو اپنی ماں نہ لے تو عمر بھر طعنے
سناتے ہیں اسے سسرال والے رات دن اکثر
مطابق رسم کے میکے چلے جانا ہے بیوی کا 
بگڑ جاتی ہے ساسو ماں اگر جانے نہ دے شوہر 
بہو کو اپنی بیٹی کی طرح رکھتا نہیں کوئی 
بہو کے واسطے دل کی جگہ رکھتے ہیں سب پتھر 
بہو بھی ساس کو ماں کی طرح عزت نہیں دیتی
سمجھتی ہے وہ اپنی ساس کو جیسے کوئی نوکر 
تمنّا اپنی بیٹی کے لئے کرتے ہیں خوشیوں کی 
بہو پر ہر طرح کے ظلم ہم سارے روا رکھ کر 
بہو کو تنگ کرنا بن گیا معمول لوگوں کا 
مرے کشمیر کی بیٹی کا جینا ہو گیا دوبھر
کہیں پر باپ بیٹے سے کمائی چھین لیتا ہے 
کہیں گھر سے نکالا باپ پھرتا جا کے ہے در در
ہماری شادیوں میں ناچتے ہیں مرد و زن یکجا
ہماری صورتِ حالت ہے غیروں سے بھی اب بد تر 
یہاں پر وازوانوں میں بڑا اصراف ہوتا ہے
مگر مفلس یتیموں کو نہیں ہیں پوچھتے جا کر
خدا ناخواستہ کوئی یہاں گر فوت ہوجائے 
ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں ہم ماتم کے موقع پر
بڑے ہی شوق سے ہوتے ہیں اہلِ دین بھی شامل 
مگر اٹھتی نہیں ہیں انگلیاں ہرگز کبھی اُن پر 
جہاں پر ہوں ملوث اہلِ بینش ،اہلِ دانش بھی 
کہیں گے لوگ کس کو خیر اور کس کو کہیں گے شر 
ترقی یافتہ ہوکر جہالت ہے دماغوں میں 
حسد، کینہ، شرارت اور عداوت دل کے ہے اندر 
بڑی ہی شان سے جیتے ہیں اہلِ زر یہاں لیکن 
ہزاروں ہیں ہمارے شہر میں مفلس، کئی بے گھر
یہاں کوئی کسی کے کام آتا ہی نہیں جیسے 
یہاں نفسی کے عالم نے کیا برپا ہے اک محشر 
فضا تاریک ہے، بادل سیہ، بجلی چمکتی ہے 
ہو یاسرؔ خیر میرے شہر کی، لگتا ہے مجھ کو ڈر 
 
یاسرؔعرفات طلبگار
دُدھوت ڈوڈہ، جموں و کشمیر ،موبائل نمبر؛8803658857
 
 

وقت تو کتنا ظالم ہے

وقت تو کتنا ظالم ہے
تجھے رحم کیوں نہیں آتا!
بےکس دلوں پر
بے خواب آنکھوں پر
پ مردہ زندگیوں پر
گھائل گھائل خواب ریشم سلجھانے والی انگلیوں پر
تو نے کبھی کسی پر رحم نہیں کیا
مگر دیکھ ہم پھر بھی تجھ سے دامن نہیں چھڑاتے
اس لئے نہیں کہ زندہ رہنا ہماری مجبوری ہے
بلکہ اس لئے کہ زندہ رہنا بہادری ہے
ہمارے جینے کا سبب ہے
ڈاکٹر کوثر رسول
 شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
 
 

تنہائی

کیسے تنہائی تمہیں دیکھوں  میں؟
کون ہے جو نہ جانتا ہو تمہیں؟
کس کے گھر تیرا آنا جانا نہیں؟
کس کے باطن میں بتا ہونہ بسی؟
تم سے بھی کیا ستم روا نہ رہے
سینکڑوں کالی بلائیں ہیں یہاں
سب کی سب منسلک تمہیں سے ہے
تم ہی سے تو جڑا ہے ان کا وجود
یہ بلائیں بھی تبھی تک ہیں یہاں
جب تلک تجھ سے واسطہ ہے میرا
پر کبھی سوچتا ہوں یہ میں بھی
ہم میں کوئی توہم نوائی نہیں !
جو بھی ہو، کوئی آشنائی نہیں!
مجھ میں کیوں تم نے کی تعمیر؟
خون آلودہ بربریّت گاہ
جس میں کیا کیا نہ دیکھتا ہوں میں
یہ بتا تو کہاں سے آئی ہے؟
اور کس جا پہ ہے گزر تیرا؟
مجھ کو بربادکرکے چھوڑو گی!
کیوں ہی آزاد کرکے چھوڑوگی!
 
واجدؔ عباس
سوناواری ،بانڈی پورہ۔ 7006566516