تازہ ترین

نظمیں

17 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شب و روز گزرتے جاتے ہیں
لمحہ لمحہ بکھر جاتا ہے
کسک ہے کہ بنتی نہیں
سانسیں بھی چھپتی نہیں
قضا منظر ہے اس قدر پھر بھی
چند سانسوں کی بھیک
چند لمحوں کا ساتھ
اُمید بن کر میرے ڈھلتے وجود کو سہارا دیئے
میری بجھتی آنکھوں کو روشن رکھ کر
نہ جانے کب سے میرے انتظار میں
خاک ہو کر بھی ۔۔۔
زندہ ہے ابھی ۔۔۔
 
تبسم ضیاء
خاکہ بازار،حول،سرینگر، 9906627974
 
اس موسم کا حال نہ پوچھو
کرتا کیا ہے کمال نہ پوچھو
کانپ اُٹھی ہے دِلّی ساری
کیسا ہے بھوپال نہ پوچھو
آنگن، صحن، دیواریں، پانی
بن جائیگا زوال، نہ پوچھو
گھر میں سب کو قید کیاہے
چلا ہے ایسی چال، نہ پوچھو
برف کی چادر ہرسو دیکھو
کیسی لگے سُرتال نہ پوچھو
دُبکے بیٹھے چُھپ کے سارے
کھینچے سردی کھال نہ پوچھو
سب کو ہی یہ یاد رہے گا
کیسا ہوگا سال ، نہ پوچھو
خیر کرے بس خود ہی مولا
سحرؔ بُرے ہمارے اعمال نہ پوچھو
 
ثمینہ سحر مرزا،بڈھون راجوری
 
 
گلدستہ کشمیر
میں جس گلستاں میں جی رہا ہوں وہ کہیں بکھر گیا
گلوں کا رنگ اُڑ گیا ہے
میں جونہی دیکھتا ہوں اپنی بستی کی طرف کبھی
ساگر کی بستی جو تھی وہ ڈوب گئی ہے پھر سے
اشارہ تو نہیں کررہا ہے
وہ ظالم پھر سے میرے خون کو بہا رہا ہے
خدارا کوئی بہادے
میری محبت کی ندیاں کہ ہو
پھر سے چمن روشن
کوئی دوا سے، کوئی دعا سے کرے جو صدا
وہ آہٹ دور سے ہی جان لیتے ہیں
کہ مجھکو نہیں
حوس دولت و دوام کی
پھر آباد ہو کشمیر کی ویرانی
گر آئے جو کوئی باہر سے بھی کبھی
وہ کریں نہ کبھی دل جوئی میرے گلستاں کی
چلے آو پھر سے جی اٹھنا ہے
محبت،اخوت، دوستانہ رہے پھر سے
یہی پیغام ہی میرے زماں کا ہے
 
خالد ؔقمر
 موبائل نمبر9906527801
Khalidurdu.ku@gmail.com