تازہ ترین

مقبول مرحوم اور افضل مرحوم

آندھیوں میں بھی ہیں ر وشن زندگی کے یہ چراغ

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ    )

محمد یاسین ملک
۶؍ اگست  ۱۹۹۰ء کو مجھے اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ اس سے کچھ ماہ قبل ہی میں ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ نکلا تھا لیکن ابھی پرانے زخم مندمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ نئی آفات کا سامنا کرنا پڑا۔ گرفتاری کے بعد مجھے اور میرے ساتھیوں کو کیسے کیسے اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا ‘ اس داستان کا شاہدگو گو لینڈ سری نگر کا وہ بدنام زمانہ تعذیبی مرکز ہے جس کے در و دیوار میں زیر عتاب کشمیر ی نوجوان کی فلک شگاف چیخوں اور ہمالیہ کو ہلانے والی سسکیوں کی  صدائے بازگشت آج بھی سنا رہے ہیں ۔ ۸؍اگست۱۹۹۰ء کو عذاب و عتاب سے نڈھال میرے خاکی وجود کو گوگو لینڈ انٹروگیشن سیل سے نکال کر جہاز میں ڈال دیا گیا ، آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بند ھی تھیں، جسم کا رُواں رُواں درد سے چُور ہورہا تھا ، نیم بے ہوشی کی حالت میں دل غم و اضطراب میں غوطہ زن تھا۔ کچھ دیرمیں دست بستہ وپابستہ جہاز پڑا رہنے کے بعد جہاز نے کسی نامعلوم منزل کی طرف اڑان بھر لی ۔ جب میری نیم بے ہوشی کچھ زائل ہوئی تو اپنے آپ کو کہیں 4/6فٹ کے ایک آہنی پنجرے میں مقید پایا۔ اس فولادی پنجرے کے باہر جتندر نامی ایک بوڑھا سپاہی بندوق تانے ڈیوٹی پرکھڑا تھا۔ میں درد سے کراہ رہا تھا، سرد آہیں بھر رہاتھا، دل کی دھڑکن بڑ ھ رہی تھی ، نامعلوم قید خانے کا اجنبی ماحول میری وحشت میں پل پل اضافہ کررہا تھا۔ مایوسی اوردرد و غم سے لبریز آہوں اور سسکیوں کو سن کر سپاہی جتندر پنجرے کے قریب آیا اور طنزیہ انداز میں کہنے لگا :’ ’سنا تھا تم مقبولؒ بٹ کی جماعت کے کمانڈر ہولیکن تمہیں اس سے شیر سے کیا نسبت جو ۱۲؍ برس اسی جیل میںہنستے مسکراتے گزار گیا اور تختۂ دار پر کسی دولہے کی مانند جھول گیا۔ ‘‘ عمر رسیدہ سپاہی کے طنزیہ الفاظ نشتر بن کر میرے کانوں کے پردے  چیرتے ہوئے میرے دل میں پیوست ہو گئے ۔ میں نیم جان اس پنجرے میں کھڑا ہونے کا حوصلہ پاکر سپاہی سے مخاطب ہوا:’’ ان شاء اللہ ‘ آپ مجھے اپنے مصلوب قائد کا سچا سپاہی پائو گے۔‘‘ بزرگ سپاہی کے ایک چھوٹے سے طنزیہ جملے نے جہاں میری مایوسی اور دل شکنی کی حالت کو اُمید ِفردا اور زخموں سے اُٹھنے والے درد کو صبر وہمت میں بدل دیا ، وہیں اس جملے میں محمد مقبول بٹ ؓ کی ناقابل تسخیر شخصیت ، شعوری جدوجہد اور قربانی کی ساری داستان سموئی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے لفظ لفظ سے مقبولؒ بٹ کی مسحور کن ذات میںجذب انقلابی اوصاف کی مہک بھی ٹپکتی نظر آئی ۔ عربی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے :’’ بڑائی وہ ہوتی ہے جس کا اعتراف دشمن کریں‘‘۔اس مقولے کے مصداق کشمیر کاز کے اولین ہیرو مقبول بٹؒ کے شخصی اوصاف اتنے جاذب نظر تھے کہ اس کا کھلا اعتراف  اپنے تو اپنے غیروں کو بھی رہاہے۔ محمد مقبول بٹ مرحوم اپنے وطن کشمیر کے عاشق ومحب ہی نہ تھے بلکہ اس کی سربلندی اور سرفرازی کے خوب دیکھنے والے دانش ور اور دلی تڑپ رکھنے والے نظریہ ساز بھی تھے ۔ وہ arm-chair انقلابی نہ تھے بلکہ میدان ِ عمل میں کود کر اپنی تحریک نوازی سے نہ صرف وقت کے پیر و جواں کو متاثر کیا بلکہ خار زاروں کی لمبی مسافتیں طے کر تے کر تے آنے والے وقتوں کے لئے بھی کشمیریوں کی اُمنگوں ،احساسات، جدوجہد اور قربانیوں کا جلّی عنوان بن گئے۔
مقبولؒ بٹ کون تھے ؟ ان کے نظریات کیا تھے؟ انہوں نے کب جنم لیا؟ کس فضا میںشعور کی آنکھ کھولی؟ اپنا شباب کہاں گزارا ؟ اپنی سیاسی جدجہد کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ صلیب پانے کے بعد کس مٹی کو مرقد کی صورت میں مہکایا؟ کس طرح کشمیری قوم کے قلب وجگر میں بس گئے ؟ یہ سب ایک کھلی کتاب کی مانند سب پر عیاں ہے اور یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر لکھنے والے روز خامہ فرسائی کر تے رہتے ہیں ، نیز سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ چیزیں اب کسی سے مخفی بھی نہیں، لیکن غور طلب ہے کہ مقبولؒ کی سحر انگیز شخصیت نے غیروں کا قلب و نگاہ بھی متاثر کر کے اُنہیں اپنا گرویدہ بنا کر چھوڑا ۔اس کا تھوڑا سا تصور مرحوم قائد کے ہمراہ تہاڑ میں اسیری کے ایام کاٹنے والے بابا رنجیت سنگھ کے تاثرات سے بھی اخذ ہوتا ہے ۔ بابا صاحب امرتسراکال تخت کے جھتے دارہیں۔ مقبولؒ صاحب کے متعلق ان کا کہنا ہے :’’جب میں اُن کے روبروحاضر ہوا تو یہ احساس ہوا کہ جیسے میں اُن سے صدیوں سے واقف ہوں، حالانکہ میں ان سے پہلی مرتبہ مل رہا تھا۔ عجیب پرکشش شخصیت تھی ۔ باتوں میں خاص قسم کی کشش اور ملا ئمت تھی ۔ کیا ہی حلیم اور سادہ لوح طبیعت پائی تھی ۔ایسی روحانی شخصیت سے جو کوئی بھی ملتا، متاثرہوئے بغیر نہ رہتا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُن کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا ۔‘‘
  محمدمقبولؒ بٹ کو جن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ،وہ کشمیر سے منسوب تھے لیکن ۱۹۷۶ء میں اُنہیں گرفتار کرکے فوراً تہاڑ جیل دہلی منتقل کردیا گیا ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی اور کشمیر میں اس کے مددگار و وظیفہ خوار مقبولؒ کی پرسنلٹی سے کس قدر خائف تھے۔۱۲؍ برس تک ان کے خلاف سرینگر کی عدالتوں میں مقدمات چلتے رہے لیکن’’ جمہوریت نواز‘‘ دلی نے ایک مرتبہ بھی انہیںسرینگر کی مجاز عدالت میں پیش نہ کیا۔ شب وروزکی یہ گردش جاری تھی کہ ایک روز لندن میں بھارتی سفارت کار مہاترے کو اغوا ء کرنے کے بعد قتل کیا گیا، نئی دلی یکایک اس قتل عمد کا نزلہ محمد مبقول بٹ ؒ پر گرانے پر کمر بستہ ہوئی۔ آناً فاناً وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی حکومت نے کابینہ اجلاس میں مہاترے کے قتل کا ہدف ۱۲؍ برس سے تہاڑ میں مقید مقبول بٹ ؒ ٹھہرے۔ موصوف کو تختۂ دار پر لٹکانے میں مانع ہر قانونی رُکاوٹ کو بلا تکلف ہٹایا گیا۔ چونکہ قانون کی رُوسے ان کے خلاف کشمیرمیں زیر سماعت مقدمات کے پیش نظر اُنہیں پھانسی دینا ممکن ہی نہ تھا، اس لئے دہلی نے اپنے مقامی چہیتے اور وقت کے وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بیک جنبش قلم یہ قانونی بندش ہٹاکر مقبولؒ کے عدالتی قتل کی راہ ہموار کر دی۔ یوں ۱۱؍ جنوری ۴۸ء کو تہاڑ جیل میں علی الصبح مقبولؒ ہنستے ہنستے تختہ ٔدار چوم کر تاروز قیامت زندہ رہنے کا اعزا زپاگے ۔کشمیریوں کے تئیں سیاسی انتقام گیری کا یہ سلسلہ اسی پر نہیں تھما بلکہ مقبول بٹؒ کے جسد خاکی کو جیل میں دفن کر کے مرحوم کے اہل خانہ سے ہی نہیں بلکہ کشمیری قوم سے بھی نا انصافی کی گئی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ قبل ازیں مصلوب قائد کے برادر ِاصغر غلام نبی بٹ جب دلی جاکر اپنے بردر اکبر سے آخری ملاقات کر نے اور جسدخاکی وطن لانے کے لئے سری نگر کے ائر پورٹ پہنچے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا ، مرحوم کے وکلاء کو بھی تہاڑ جیل کے احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا۔ خود بھارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھانسی سے قبل بھی مقبول بٹ  ؒ کو اپنے عزیز و اقارب سے ملنے نہ دیا گیا اور بعداز پھانسی جیل کو ہی ان کا مدفن بناکر انہیں اپنے عزیز کے آخری دیدار سے بھی محروم کیا گیا۔
   حریت پسندکشمیریوں کے خلاف یہ انتقامی کھیل ۱۹۸۴ء کو کھیلا گیا تو باور یہ کیا جاتا تھا کہ یہ ظالمانہ تاریخ اب کبھی دہرائی نہ جائے گی لیکن تاریخ کی اشک بار آنکھ نے اس اذیت ناک تاریخ کا اعادہ ۹؍ فروری ۲۰۱۳ء کو محمد افضل گورو کی پھانسی کی شکل میں دیکھا۔ ’’اجتماعی ضمیرکی تشفی ‘‘ کی اصطلاح وضع کر کے ایک اورکشمیری کو انتقامی جذبے سے اور الیکشن سودوزیاں کی نذر کر کے عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ کشمیر کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ آر پار کی سیاسی قوتوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اپنے لئے ووٹ بٹورنے کا ذریعہ بناڈالا۔ خاص کر بھارت میں سیاست دانوں کا کشمیریوں کے تئیں نفرت اور سخت گیریت کے جذبات اُبھار کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنا پرانا مشغلہ رہا ہے۔ اگر ہم پچھلے پانچ برس کے دوران کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بے انتہا مظالم کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گاکہ بی جے پی حکومت نے اپنے دیرینہ موقف اور اعلانات کے عین مطابق کشمیریوں کو بزورِ طاقت زیر کرنے کی ڈھیر ساری نامراد کوششیں کیں جو ہنوز جاری وساری ہیں۔ اس مختصر سے عرصہ میں سینکڑوں کشمیری تہ تیغ کئے گئے ،جب کہ ہزاروں کو زینت ِزندان بنایا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میںبینائیوں سے جزوی یا مکمل طور پر محروم کردیا گیا ۔ ایک عام مشاہدہ یہ ہے کہ جب جب دلی کے حکمرانوں کے لئے بھارتی عوام کو درپیش مسائل حل نہ کرنے کا حساب دینے کی باری آتی ہے تو وہ عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لئے کشمیریوں کی گردنوں کی جانب اپنا دست ِ تظلم مزید بڑھاتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کا نزلہ چن چن کر کشمیریوں پر گر اتے ہوئے خود کو دیش بھگت جتلاتے پھرتے ہیں۔ محمد افضل گورو کے معاملے میں بھی یہی سیاست کارفرما رہی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھارتی سپریم کورٹ نے محمد افضل گورو کو ’’بھارتی عوام کے اجتماعی ضمیر کی تشفی‘‘ کی اصطلاح گھڑ کر انہیںدارورسن کی سزا سنائی تو اُسی وقت سرینگر اور دوسرے اضلاع میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال ہوئی ،ہم فوراً سڑکوں پر احتجاجاًنکل آئے۔ دوسرے دن میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سوپور پہنچا ، وہاں عوام الناس کے ساتھ اس عدالتی فیصلہ کے خلاف دھرنا دیا ۔تیسرے دن میں نے دہلی کی راہ لی اور محمد افضل گورو کے کم سن بیٹے غالب افضل کے ساتھ دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گیا۔ اس احتجاج میں میرے ساتھ کچھ پارلیمنٹ ممبران اور سول سوسائٹی اراکین جن میں نرملا دیش پانڈے، ارون دھتی رائے، ظفر الاسلام خان ، پروفیسرعبدالرحمن گیلانی، بھارت کے معروف مصلوب آزادی پسند بھگت سنگھ کے کچھ قریبی رشتہ دار اور کئی سرکردہ مردوزَن بھی بیٹھے رہے۔ دھرنے کے مقام سے ہی میں نے ایک معروف بھارتی صحافی اور سول سوسائٹی رُکن کے ذریعے وقت کے بھارتی وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ کو پیغام بھیجا کہ ۱۹۸۴ء میں محمد مقبولؒ بٹ کو تختہ ٔدار پر لٹکاکر بھارت نے ہزراوں کشمیریوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کیا تھا، اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ افضل کی پھانسی کا فیصلہ روک دیا جائے۔ ہمارا پیغام بھارتی وزیراعظم کو پہنچادیا گیا تو اس کے جواب میں ہمیں یقین دلایا گیا کہ افضل کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جائے گا کیونکہ بھارتی وزیر اعظم خود اس معاملے کی نزاکت اور اس کے مضمرات سمجھتے تھے۔ اس کے بعد میںپروفیسرعبدالرحمن گیلانی کے ہمراہ جملہ بھارتی اپوزیشن قیادت سے ملا ۔ہم بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے دونوں دھڑوں کے سیکریٹری جنرل اے بی بھردن اور پرکاش کراڈ سے ملے۔ سماج وادی پارٹی کے اُس وقت کے جنرل سیکریٹری امر سنگھ سے بھی ملے، یہاں تک کہ وقت کی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی اور ا ن کے قریبی صلاح کار برجیش مشراتک سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کر کے محمد افضل گورو کو شفاف ٹرائل نہ ملنے، اُن کی پھانسی رُکوانے اور انہیں پوراپوراانصاف دلانے پر اصرار کیا۔ میں بحیثیت ایک ذمہ دار انسان کہوں گا کہ ہر شخص اور ہر جماعت نے ہمیں اس معاملے میں مثبت اشارے دئے اور ہمارے موقف کی صداقت تسلیم کرتے  ہوئے افضل کو تختہ دارپر لٹکا ئے جانے کی نفی کر دی لیکن جیسا کہ اوپر کی سطور میں کہا گیا کہ بھارتی سیاست دانوں کیلئے اپنی گھریلو مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ کشمیریوں پر مظالم ڈھانا ہی ہوتا ہے۔ اس لئے جب   پارلیمانی الیکشن کا خمار ایک بار پھرسیاسی پارٹیو ں پر چڑھ گیا تھا اور حکمرانوں نے ملکی پیمانے کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے ازسرنو کشمیریوں کو تکلیف دینے کی ٹھان لی اور اس کے لئے محمد افضل گورو کو تختہ ٔدار پر لٹکانے کا اقدام کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے لئے سیاسی فوائدسمیٹنے کی غرض سے افضل کو صیلب دینے والوں کو انتخابات میں منہ کی کھانا پڑی اور جس الیکشن کی کامیابی کے لئے افضل گورو کی بلّی چڑھائی گئی تھی، اس میں انہیں تاریخی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس پھانسی سے کشمیریوں کو ایک اور ناقابل مندمل زخم دیا گیاجسے مظلوم کشمیری عوام اپنے عزم وایثار کے بل پرحق خودارادیت کی منزل تک پہنچنے تک کبھی بھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔
 بلاشبہ مقبولؒ اور افضلؒ دونوں کی کہانی اس لحاظ سے الگ الگ ہے کہ اوّل الذکرایک نظریہ ساز رہنما تھے اور ثانی الذکر ایک آزادی پسند مظلوم کشمیری نوجوان لیکن جس انجام تک انہیں پہنچایاگیا ،اس کی رُوح باہمی طور مشابہت ومشارکت رکھتی ہے۔ دونوں بھارتی سیاست دانوں کی الیکشن اور انتقامی سیاست کا نشانہ بنائے گئے، دونوں کو لبرل اور بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے پر فخر جتلانے والی کانگریس پارٹی نے اپنی انتخابی سیاست کے لئے سزائے موت د لائی، دونوں کے حق میں عدل کے ایوان سے انصاف کے بجائے انتقام کا فتویٰ صدار ہوا، دونوں کے اہل خانہ کو اپنے عزیزوں سے دنیا ئے فانی سے رخصت ہوتے وقت بھی آخری ملاقات سے محروم کیاگیا،تختۂ دار پر لٹکانے کے بعد دونوں کے جسد ہائے خاکی جیل میں ہی دفن کئے گئے ، حتیٰ کہ ان کی ذاتی اشیاء کو بھی حکمرانوں نے ضبط کر کے رکھ لیا ۔ یہ سب  چیزیں بھارتی جمہوریت پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں ۔بہرحال نئی دلی کشمیر کاز کو کچلنے کے لئے بشری حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں کیا کیا نہیں کر گزرتی ہے مگر اس ملک نے خود برطانوی استعمار کے خلاف ۲۰۰؍ برس تک جدوجہد کرکے آزادی حاصل کی تھی ۔ آزادی کی تلاش میں بھارتی قوم نے تکالیف اُٹھائیں، ایک جلیانوالہ باغ کا درد سہا ،بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی تختۂ دار پر لٹکتی لاشیں وصول کیں لیکن وقت کا کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ آزادیٔ ہند پر دہائیاں بعد برطانوی حکمرانوں کو اپنے سیہ کرتوتوں پر بھارت آکر معافی مانگنا پڑی۔ کہتے ہیں کہ وقت کا پہیہ گھوم گھوم کرایک نہ ایک دن واپس اپنے اصل مقام پرہی آتا ہے اور یہ کہ تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے۔ اس لئے میرا پختہ ایمان ہے کہ تاریخ کا بے لاگ سچ کشمیریوں کے حق میں بھی ضرور سچ ثابت ہوکر رہے گا اور ایک دن ضرور آئے گا کہ جب بھارتی حکمرانوں کو بھی محمد مقبولؒ بٹ اور محمد افضل گورو کے عدالتی قتل پراہل کشمیر سے معافی مانگنا پڑے گی، جب کشمیر میں رچائے گئے متعدد جلیانوالہ باغوں پر انہیں شرمندگی اُٹھانا پڑے گی ،جب اُن کیلئے ریاستی عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا منصفانہ وقابل قبول حل تصفیہ کردینے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔ قانون ِ قدرت ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ بقول فیض   ؎
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
yasinmalikofficial@gmail.com 

تازہ ترین