تازہ ترین

پی ڈی پی کا باقیات کی واپسی کا مطالبہ ڈرامہ :انجینئر رشید

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے پی ڈی پی کی جانب سے وزیر اعظم کو افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کی واپسی کیلئے خط لکھنے کو بے سود بتاتے ہوئے پی ڈی پی کو اس طرح کی ڈرامہ بازی سے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا ’’اگر پی ڈی پی واقعی اس بارے میں سنجیدہ ہوتی تو پھر اس نے افضل گورو کی معافی کیلئے اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے وقت اسکی حمایت کی ہوتی یا پھر اقتدار میں آنے کے بعد گورو کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہوتا۔آج جو اچھل کود پارٹی کررہی ہے اس سے اسے کچھ حاصل تو نہیں ہوگا بلکہ الٹا اس پارٹی کا چہرہ مزید بے نقاب ہورہا ہے۔اگر یہ پارٹی چاہتی تو بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے کیلئے معاہدہ کرتے وقت اس نے افضل گورو کی باقیات کا مطالبہ کیا ہوتا لیکن اب جبکہ اسکے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اس نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوششوں میں گورو کی باقیات پر بھی سستی سیاست کرنا شروع کیا ہے لیکن اسے جان لینا چاہیئے کہ ایسے میں اسکی پہلے سے خراب شدہ شبیہ مزید مجروح ہوجائے گی‘‘۔انجینئر رشید نے پی ڈی پی اور دیگر مین اسٹریم جماعتوں کو یاد دلانا چاہا کہ نئی دلی نے کشمیریوں کے جذبات و احساسات کو دبانے کیلئے ایک بڑا کوڈ ے دان میںرکھا ہوا ہے جس میں اٹانومی کے شوشے کو بھی دبایا جاتا ہے اور یقیناََ پی ڈی پی کی وہ درخواست بھی اسی کوڈے دان میں جانے والی ہے کہ جس پر اس نے ابھی سے سیاست کرنا شروع کیا ہے۔انجینئر رشید نے تاہم کہا کہ اگر پی ڈی پی واقعی سنجیدہ ہے تو پھر اسے افضل گورو کی باقیات کے واپس مل جانے تک پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ایسا کرے تو عوامی اتحاد پارٹی اس اقدام کی حمایت کرنے پر تیار ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ بصورت دیگر پی ڈی پی جو بھی اچھل کود کررہی ہے اس سے اسی کا نہیں بلکہ پوری مین اسٹریم کی سیاست اور افضل گورو و مقبول بٹ کے لواحقین کے درد کا مذاق بن جاتا ہے۔اس دوران انہوں نے جموں میں درماندہ کشمیریوں پر اپنے آپ کو سب سے زیادہ قوم پرست کہلانے والوں کی طرف سے حملہ کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کو کشمیریوں پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی بجائے نئی دلی سے سوال کرنا چاہئے کہ وہ 1947سے لیکر ابھی تک ایک کارآمد سڑک تعمیر کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔