تازہ ترین

یوم مقبول بٹ :مکمل ہڑتال سے معمولات متاثر

مزاحمتی قیادت خانہ و تھانہ نظر بند،لالچوک اور ترہگام میں احتجاجی جلوس،متعدد گرفتار

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// مرحوم محمد مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکانے کی35ویں برسی کے موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پروادی میںہمہ گیر ہڑتال کے بیچ پولیس نے لالچوک میں مزاحمتی جلوس کو ناکام بناتے ہوئے متعددمزاحمتی کارکنوں اور لیڈروں کو حراست میں لیا۔اس دوران کپوارہ کے ترہگام میں جلوس میں شرکا ء نے مرحوم کے باقیات کی واپس کا مطالبہ کیا۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں تیسرے روز بھی مزاحمتی لیڈر اور کارکن تھانہ و خانہ نظر بند رہے۔جبکہ ریل سروس بھی معطل رہی۔

 ناکہ بندی جاری

سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مرحوم محمد مقبول بٹ کی35ویں برسی کے موقعہ پر مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی۔تجارتی مراکز اور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود ہوکر رہ گئی۔سرینگر کے مصروف بازاروں میں سناٹا رہا۔سرینگر اورشمالی کشمیرکے بعض علاقوں میں پابندیوں اور حساس مقامات پر فورسز کی بھاری تعیناتی نظر آئی۔پائین شہر میں ایک مرتبہ پھر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،جبکہ حساس علاقوں میں سڑکوں کی تار بندی کی گئی تھی۔ سرینگر کی اہم سڑکوں ،پلوں اور چوراہوں پر ناکے بٹھاکر متعدد سڑکوں کوسیل رکھا گیا۔ امکانی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر کے بیشتر علاقوں میںپولیس اور نیم فوجی دستوں نے جگہ جگہ ناکے بٹھائے تھے ۔مزاحتمی تنظیموں کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے لالچوک،مائسمہ،گائو کدل، مدینہ چوک، ریڈکراس روڑ،بر بر شاہ، گھنٹہ گھر، آبی گذر، ریگل چوک ، بڈشاہ چوک اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی اور انہیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔سیول لائنز کے حساس پولیس تھانہ مائسمہ کے حدود میں بھی لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جس کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی تعداد سڑکوں پر تعینات رہی۔سول لائنز کے لال چوک ، بڈشاہ چوک، ریگل چوک ، مولانا آزاد روڑسمیت دیگر علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کیا گیا تھا اور بڈشاہ چوک میں واقع اکھاڑہ بلڈنگ کے اردگرد بھی پولیس اور سی آر پی ایف کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا۔
کپوارہ،سوپور اور شمالی کشمیر کے کئی دیگر حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی جبکہ چند مقامات پرممکنہ احتجاج کے پیش نظر کرفیوجیسی پابندیاں عائد رہیں ۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق لبریشن فرنٹ کے بانی محمدمقبول بٹ کی35ویں برسی پر کپوارہ ضلع میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا جبکہ سڑکوں پر گا ڑیو ں کی نقل وحرکت بھی متاثر ہی جبکہ سرکاری و غیر سرکاری ادارو ں میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔نمائندے کے مطابق ترہگام قصبہ میں فورسز کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا۔اگرچہ کرفیو کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم پورے قصبہ میں کرفیو جیسا سما ںتھا۔فورسز نے مقبول بٹ کے گھر کو جانے والی تمام چھو ٹی بڑی رابطہ سڑک پر ناکہ لگا کر کسی کو بھی وہا ں جانے کی اجازت نہیں دی اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی روک کر انہیں وہا ں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔لوگو ںنے مقبول بٹ کے گھر پہنچنے کے لئے متبادل راستو ں کو اختیار کیا اور وہا ں منعقدہ تعزیتی تقریب میں شرکت کرکے فاتحہ خوانی میں حصہ لیا۔کپوارہ کے دیگر علاقوں جن میں لنگیٹ ،کرالہ گنڈ ،چوگل ،کولنگام ،کرالہ پورہ ،کپوارہ ،لال پورہ اور ہندوارہ میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے دکانیں بند رہیں اور تمام کارو باری ادارو ں میں کام کاج متا ثر رہا جبکہ گاڑیو ں کی نقل و حرکت بھی متا ثر رہی۔ اس دوران پورے ضلع میں سیکورٹی کے سخت انتظام کئے گئے تھے اورکپوارہ ،کاواری ،برنواری ،ترہگام اور کرالہ پورہ کے علاوہ ترہگام میں مختلف مقامات پر فورسز نے عام راہگیرو ں اور گا ڑیو ں کی تلاشی لی۔ ادھرنامہ نگار غلام محمد کے مطابقسوپور میں دوسر ے روز بھی فورسز اور پولیس کے اضافی دستے تعینات کئے گئے تھے جس کی وجہ سے قصبہ میںمعمولات زند گی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔بارہمولہ میںممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پہلے ہی حساس علاقوں میں پولیس اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے تھے جس دوران دکانیں ،کاروباری ادارے و دفاتر بند رہنے سے ان علاقوں کی سڑکوں پر سکوت رہا اور بازار ویران پڑے رہے۔
نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈ ی پور ہ ،سمبل ،حاجن،صدر کوٹ بالا اور دیگر مقا ما ت پر ہڑ تال کی وجہ سے عام زند گی متا ثر رہی   ۔جنوبی کشمیر کے بیشتر قصبہ جات اور اضلاع میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پہلے ہی حساس علاقوں میں پولیس اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے تھے ۔ نامہ نگار ملک عبدلسلام کے مطابق اننت نا گ ،اچھ بل ، ویری ناگ ، ککرناگ عشمقام ،آرونی اورڈورو میں مکمل بند رہا جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔کولگام کے علاوہ کھڈونی ،کیموہ ،یاری پورہ ،دیوسر ،قاضی گنڈ اور دھمال ہانجی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی اور فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ پلوامہ ،پانپور، کھریو، شوپیان، ترال، اونتی پورہ ، پلوامہ ،لاسی پورہ شاہورہ ا ور کاکہ پورہ وغیرہ  مقامات پردکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر ہوکر رہ گئی تھی ۔نمائندے کے مطابق ضلع شوپیاں میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کا کاروبار مفلوج ہو کر رہ گیا۔ادھر وادی کے دیگر قصبہ جات میں بھی دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سرکاری ونیم سرکاری اور پرائیویٹ دفاتروں میں کوئی کام وکاج نہیں ہوسکا ۔

احتجاج

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے سرینگر میںمرحوم محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گوروکے باقیات کی واپس کے مطالبے پر جلوس برآمد کیاگیا۔ مائسمہ میں لبریشن فرنٹ کے دفتر سے جلوس برآمد ہوا ،اور لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اس احتجاج کو روکنے کیلئے لال چوک اور گردونواح کے علاقے سیل کردئے تھے اور خار دار تار اور رکاوٹیں کھڑی کرکے سارے آنے جانے کے راستے بند کردئے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں محمد مقبول بٹ اورمحمد افضل گورو کی تصاویر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جبکہ وہ تہاڑ جیل میں تختہ دار پر چڑھانے والے دونوں کشمیریوں کے باقیات کی واپسی کیلئے نعرے بلندکررہے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مظاہرین کے بڈشاہ چوک کے قریب پہنچے تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد نے ان کا راستہ روک لیا اور سخت مزاحمت کے بعد احتجاجی مظاہرے میںشامل شیخ عبدالرشید ، مسلم خواتین مرکز کی سربراہ یاسمین راجہ ،عبدالرشید لون،امتیاز احمد شاہ،پروفیسر جاوید،جاوید احمد بٹ،فیاض احمد لون،عبدالرشید لون، ارشد عزیز،شاکر احمد آہنگر،مختار احمد اور امتیاز احمد گنائی کے ساتھ ساتھ کئی خواتین جن میں،دلشادہ اختر،افروزہ بانو، نسیمہ اختر کو حراست میں لیکر کوٹھی باغ تھانہ پہنچایا۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق محمد مقبول بٹ کی برسی پر ایک روز قبل ہی تیاریو ں کا سلسلہ جاری تھا اور اتوار کی شام گئے دیر لوگو ں کی ایک بڑی تعداد نے جن میں مردو زن شامل تھے، نے ایک مشعل بر دار جلوس نکالا جو رات گئے تک جاری ہے۔پیر کونماز ظہر کے ساتھ ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بشمول خواتین نے مقبول بٹ کے گھر سے ایک جلوس نکالا اور اسلام اور آ زادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔جلوس میں شامل لوگوں نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی تا خیر کے بغیر محمد مقبول بٹ کی جسد خاکی کو لواحقین کے حوالہ کریں۔جلوس ترہگام بازار سے ہوتے ہوئے مین چوک پہنچا اور وہاں مقررین نے محمد مقبول بٹ کی سوانح حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جن میں انجینئر خورشید احمد خان ،انجینئر فاروق احمد خان غلام نبی وار اور غلام نبی وسیم ،پیر عنایت اللہ ،ابراہیم ،توصیف احمد اور ڈیموکریٹک پارٹی کے عمران احمد خان نے بھی لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی برسی پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔

مزاحمتی خیمے کا کریک ڈائون

 مزاحمتی خیمے کی کال کے پیش نظر پیر کو بھی بیشتر مزاحمتی لیڈر و کارکنوں کو خانہ و تھانہ نظر بند رکھا گیا۔ سید علی گیلانی جہاں بدستور خانہ نظر بند رہے،وہیں میرواعظ عمر فاروق،محمد اشرف صحرائی بھی خانہ نظر بند رہے،تاہم لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو کئی روز قبل ہی گرفتار کیا گیا تھا۔شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال،مشتاق اجمل،محمد یاسین بٹغلام رسول ڈار،محمد سلیم ننھا جی،پیپلز لیگ نائب چیئرمین محمد یاسین عطائی، ظفر اکبر بٹ، تحریک حریت کے امتیاز حیدر،لبریشن فرنٹ کے گلزار احمد پہلوان، بشیر احمد بویا ، مسلم لیگ کے بشیر بڈگامی،فیاض احمد،محمد یوسف،، شکیل؛ احمد بٹ،مختار احمد وازہ، ہلال احمد وار اور محمد اشرف لایا کو خانہ و تھانہ نظر بند رکھا گیا۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر ہڑتال کے باعث محکمہ ریلوئے نے سوموار کو ایک مرتبہ پھر وادی کشمیر میں ریل خدمات معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ۔ اس ضمن میں کشمیر ریل حکام نے بتایا ہے کہ قاضی گنڈ، بانہال ، قاضی گنڈ سرینگر اور بارہمولہ ریل سروس کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔
 
 

مرحوم مقبول تحریک مزاحمت کا بنیادی ستون :یاسین ملک

 سرینگر// لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے 11؍ فروری ‘ یوم مقبولؒ کے سلسلے میں اپنے پیغام میں کہاہے کہ محمد مقبولؒ بٹ کی جدوجہد و قربانیاں دنیا بھر کی مظلوم و مقہور اقوام و ملل کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ ان کی ذات ناجائز تسلط اور جبر کے خلاف ہماری تحریک مزاحمت کا بنیادی ستون ہے۔ اپنے ایک بیان میں یاسین ملک نے کہاکہ مرحوم مقبول بٹ کی تابناک زندگی کا ہر ہر پہلو ہمارے لئے نشان راہ ہے اور یہ قوم اپنے عظیم قائد کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش یا نظر انداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم قائد کو تختہ دار پر لٹکا کر بھارت اس گمان باطل میں تھا کہ اُس نے کشمیریوں کی تحریک آزادی و مزاحمت کو کچل دیا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے بھارت ان کی ابدی حیات کے تصور کو بھو ل گیا ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم مقبولؒ کی شہادت نے کشمیر کے ہر گھر اور ہر محلے سے نئے مقبول پیدا کئے جو آج بھی کشمیر کی وادیوں ، جنگلوں ،شہروں اور گائوں جات کے اندر اپنا لہو بہا کر مشعل آزادی کو فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔