تازہ ترین

سرینگر۔جموں شاہراہ مسلسل بند، سڑک نئی پسیوں کی زد میں

بانہال میں400مسافر درماندہ،صورتحال دگرگوں

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
بانہال // گذشتہ منگل کی شام سے مسلسل پسیوں اور پتھروں کے گرانے کی وجہ سے جموں ۔سرینگرشاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت پیر کو چھٹے روز بھی مکمل طور بند رہی۔ سوموار کو شاہراہ پر پرانی پسیوں کے ساتھ ساتھ کئی تازہ پسیوں اور پتھروں کو سڑک سے ہٹانے کا م جاری رہا لیکن ماروگ اور پنتھیال کے مقام پر ملبے اور پتھروں کی وجہ سے شام تک بھی ٹریفک کی بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔ ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے وے رام بن سریش شرما نے پیر کی شام سوا سات بجے کشمیرعظمی کو بتایا کہ کل دن کے تین بجے ماروگ میں بھاری پسی کو صاف کرکے سڑک کو ایک طرفہ ٹریفک کے قابل بنانے کا عمل دن بھر جاری رہا اور اس دوران صوبائی کمشنر جموں ، آئی جی پولیس جموں ، آئی جی ٹریفک ، نیشنل وئے وے اتھار ٹی اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے ماروگ کے مقام جاری بحالی کے کام کا جائزہ لیا اور متعلقہ تعمیراتی کمپنی کے افسروں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد شاہراہ کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر کوشش کے باوجود ماروگ اور پنتھیال کے مقام گرتے پتھراور ملبہ شاہراہ کی بحالی کے کام میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور شاہراہ کی بحالی کا کام بار بار بند کردینا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا ماروگ میں ابھی چند منٹ پہلے دوبارہ بھاری ملبہ سڑک پر گر آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو دن بھر ماروگ اور پنتھیال کے مقام پتھروں اور ملبے کے گر انے کا سلسلہ جاری رہا جبکہ سنیچر کے روز ماروگ کی پسی کو رات کے اوقات میں بھی صاف کرنے کیلئے فلڈ لائیٹیں نصب کی گئی ایس ڈی ار ایف کی ایک گاڑی بھی پتھروں کی زد میں آئی اور کئی اہلکار بال بال بچ نکلے۔
انہوں نے کہا کہ ماروگ کے مقام سڑک کی پچھلی طرف ہزاروں ٹن ملبہ لٹک رہا ہے اور پتھروں اور ملبے کے بار بار گرنے کی وجہ سے سڑک کی بحالی کا کام بار بار متاثر ہورہا ہے اور یہ سلسلہ پیر کی دیر شام تک جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ ماروگ اور پنتھیال کو چھوڑ کر شاہراہ قابل آمدورفت ہے اور گرتے پتھر آڑے ارہے ہیں۔ ادھرسنیچر کی رات جموں اور وادی کشمیر سے بانہال پہنچی چار سو سے زائد درماندہ مسافروں کو انتظامیہ کی طرف سے گند عدلکوٹ اور نوگام کے سرکاری مسافر خانوں میںٹھہرا گیا اور گنڈ عدلکوٹ کے مقامی لوگوں اور بانہال والنٹئیرس کے مقامی رضاکاروں نے ان کے کھانے پینے کا انتطام کیا تھا ، یہ مسافر اتوارکی صبح اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ کئے گئے۔ 
 
 

درماندہ 707مسافر ایئرلفٹ

جموں/یوگیش سگوترہ /ائر فورس کے خصوصی طیاروںنے دو پروازیں بھریں جس میں 200طلاب سمیت 707افراد کو جموں سے سرینگر پہنچایا گیا ۔ درماندہ مسافروں کے لئے بنائے گئے رجسٹریشن سنٹر میں افراتفری کے بعد فضائیہ نے درماندہ مسافروں کو ائر لفٹ کرنے کی کارروائی دوبارہ شروع کی اورفوج کی طرف سے بھیجے گئے آگرہ و دہلی کے ٹور پر گئے 200طلاب سمیت 707مسافروں کوسرینگر پہنچایا ۔ فوج کے جموں مقیم ترجمان لیفٹنٹ کرنل دیویندر آنند نے بتایا کہ دو C-17گلوب ماسٹر ائر کرافٹ نے دو اڑانیں بھریں ۔پہلی اڑا ن میں 301اوردوسری پروازمیں 406مسافروں کو لے جایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ فوج کی جانب سے درماندہ مسافروں کو کھانے اور پانی کے پیکٹ بھی فراہم کئے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل میں افراتفری کا ماحول پیدا ہونے کی وجہ سے ائر لفٹ کے کام میں تاخیر ہوئی ، پہلی اڑان شام 4بجے جب کہ دوسری 6بجے بھری گئی، اگر ماحول پر امن رہا ہوتا تو اس سے قبل بھی کئی اڑانیں بھری گئی ہوتیں۔ 
 
 

فضائی کمپنیوں کی لوٹ پر

جموں اور کشمیر کی تجارتی انجمنوں کو تشویش 

سرینگر//جموں چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کشمیر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک مشترکہ میٹنگ میں جموں سرینگر شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں درماندہ مسافروں کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے حکومت پرزوردیا گیا کہ وہ دہلی،جموں اور شاہراہ پر درماندہ مسافروں کی راحت کاری کیلئے فوری اقدام کریں۔میٹنگ میں حکومت کو اس سلسلے میں کچھ اقدام کرنے کی بھی سفارش کی گئی جن میں فضائی کرایہ کو کنٹرول کرنے کیلئے لازمی خدمات کے قانون اور مسافت کے حساب سے فضائی کرایہ کی وصولی جو ایک گھنٹہ کی پرواز کیلئے2500روپے اور30منٹ کی پرواز کیلئے1200روپے مقرر ہے،کولاگوکرنے پرزوردیا گیا۔بڑی تعداد میں ٹکٹیں خریدنااور پروازوں کو چارٹر کرنے کے علاوہ  ریاست کیلئے فضائی سفراور طیاروں کے ایندھن پر تمام ٹیکس واپس لینا بھی ان تجاویز میں شامل ہیں ۔اس کے علاوہ دہلی ،جموں اور سرینگر میں مسائل کو حل کرنے کیلئے مرکز قائم کرنے اور جموں سرینگر اور دہلی سمیت دیگر جگہوں پردرماندہ مسافروں کوقیام وطعام کی سہولیات فراہم کرنا  بھی ان تجاویز میںشامل ہیں ۔ جموں چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر راکیش گپتااور کشمیر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ناصر حمید خان کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ سرینگر جموں شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں سیاحتی شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شاہراہ پر ہفتوں سے درماندہ مال بردارگاڑیوں کی وجہ سے ضروری اشیائے ،ادویات اور ایندھن کی سپلائی بھی سرینگر اور جموں کے درمیان  متاثر ہوئی ہے ۔ 
 
 

درماندہ مسافروں کے تئیںسرکار غیر سنجیدہ

امداد فراہم کی جائے: میرواعظ

سرینگر// حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر۔جموں شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے درماندہ مسافروں کے تئیں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اپنے ٹویٹر ہینڈل پر میرواعظ نے کہاکہ ’’یہ ان لوگوں کی ذمہ داری ہے  جنہوں نے ہمیں دیگر دنیا سے جوڑنے کے قدرتی راستے کاٹ دئے اور اس ایک مصنوعی شاہراہ پر ہمیں منحصر بنا دیا جو سردیوں میں بیشتر اوقات بند رہتی ہے ۔یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں اور کم سے کم انہیں گھر پہنچنے کیلئے امداد فراہم کریں ۔میرواعظ نے کہاکہ درماندہ مسافروں کیلئے سرکار کی طرف سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔
 
 

ادویات کی کوئی قلت نہیں:صوبائی کمشنر

سرینگر//وادی میں ادویات کی قلت کے بارے میں بعض اخبارات میں شائع خبر کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر بصیرا حمد خان نے کمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی تاکہ وادی میں انسولین اورحیات بخش ادویات کی دستیابی کا جائزہ لیاجاسکے۔تاہم ایسوسی ایشن نے بتایا کہ وادی میں ادویات،خصوصاً انسولین کی کوئی قلت نہیں ہے۔ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اودی میں حیات بخش ادویات اورانسولین کا کوٹا ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے لئے کافی ہے کیونکہ اکثر ادویات فضائی راستے سے وادی پہنچ جاتے ہیں،اس لئے اخبارات میں ادویات کی قلت کے بارے میں خبر بالکل بے بنیاد ہے۔صوبائی کمشنر نے ایسوسی ایشن کو ادویات کی دستیابی کے بارے میں مسلسل طور جانکاری فراہم کرنے کی ہدایت دی۔