حکومت نے بجٹ کو انتخابی ہتھیار بناکر پیش کیا ہے :اپوزیشن

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//اپوزیشن جماعتوں نے عبوری بجٹ کو حکومت کا انتخابی بجٹ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس کی نیت درست ہوتی تو اس بجٹ کے مقبول اعلانات کو گزشتہ پانچ بجٹ میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ لوک سبھا میں پیر کو سال 2019-20 کے لئے عارضی بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اناڈی ایم کے کے تھمبي دورائي نے کہا کہ بجٹ میں اعلانات بہت کئے گئے ہیں لیکن حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ان مسائل پر توجہ نہیں دی ہے جن کے ذریعے اس بجٹ کو مقبول بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے اب تک پانچ بجٹ پیش کئے ہیں لیکن کسی کو اس طرح مقبول بنانے کا کام نہیں ہوا ہے ۔ اس میں کئے گئے اعلانات کا مطلب ہے کہ انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بجٹ کو تیار گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں یقینی طور پر بہتر ی کے اقدامات کئے ہیں لیکن سچائی بالکل اس کے برعکس ہے ۔ ملک میں بے روزگاری چوٹی کی سطح پر ہے اور مودی حکومت میں، بے روزگاری 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ زرعی شعبے کے لئے بھی حکومت نے بجٹ میں اقدامات کئے ہیں لیکن ملک میں تین لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے اسے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ بجٹ میں کسانوں کو چھ ہزار روپے ہر سال دینے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ رقم بہت کم ہے اور اس کو کم از کم ڈبل کیا جانا چاہئے ۔انا ڈی ایم کے کے لیڈر نے کہا کہ گاؤں میں لوگوں کو روزگار دینے کے لئے منریگا ایک اہم منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اس کو مناسب طریقے سے نفاذ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس کا پیسہ ٹھیکیدار کھاتے ہیں اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس کو روکنے کے لئے کیوں اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں۔ حکومت نے میک ان انڈیا، جیسے پروگرام شروع کیے ہیں لیکن چین اور بنگلہ دیش کے سامان سے بازار بھرا پڑا ہے ۔ اس کو روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔مسٹر تھمبی دورائی نے الزام لگایا کہ حکومت بجٹ کو مقبول بناکر انتخابی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ریاستوں کو اس کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تامل ناڈو کے مختلف اسکیموں کے تقریبا 13 ہزار کروڑ روپے مرکزی حکومت کے پاس پھنسے ہوئے ہیں اور مسلسل مطالبہ کیا جارہاہے ، لیکن مرکزی حکومت ریاست کی مطالبات پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایم پی فنڈ کا پیسہ بھی نہیں ادا کررہی ہے جبکہ اس فنڈ کی حوصلہ افزائی کرنے والے سابق صدر پرنب مکھرجی کو بھارت رتن دے رہی ہے ۔مسٹر مکھرجی نے اس فنڈ کو مضبوط کرنے میں بطور وزیر مالیات بڑی مدد کی تھی اور ان کے احترام کے پیش نظر اس فنڈ پر دھیان دیا جانا چاہئے ۔ حکومت کو اس کی طرف سے کئے جانے والے ترقیاتی کام کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے ۔کانگریس کے رہنما ویرپا موئیلی نے کہا کہ حکومت نے عبوری بجٹ کو انتخابی ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے لیکن ملک کے عوام اس حکومت کی چال کو سمجھتے ہیں۔ پانچ برسوں کے دوران حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور عبور بجٹ میں بہت سے مقبول اعلانات کیے ۔ اس کا جواب ملک کے عوام اس حکومت کو دیں گے ۔انہوں نے رافیل کے بہانے حکومت پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ دفاعی بجٹ میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ حکومت نے رافیل طیارے کے معاہدے میں ایک گھپلہ کیا ہے اور وزیر اعظم اس میں براہ راست مجرم ہیں۔ وہ اپنی حکومت میں رہتے ہوئے بچ نہیں سکتے ، لیکن ایک دن انہیں جال میں پھنسنا ہی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں گھپلہ ہوا ہے اور مسٹر مودی اس معاملے میں پھنس گئے ہیں، لہذا لوک پال قائم نہیں کیا جارہا ہے ، جبکہ لوک پال پارلیمنٹ میں پاس ہوچکا ہے ۔ مسٹر موئیلی نے کہا کہ وزیر اعظم نے رافیل کے معاہدے میں عوامی شعبے کی فضائی کمپنی کو کانگریس حکومت نے مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا تھا لیکن اس حکومت نے اس کو برباد کر دیا ہے ۔ کمپنی کے پاس اپنے ملازمین کو ادا کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے ۔ حکومت کی بدعنوان پالیسی کی وجہ سے کمپنی بحران میں آ گئی ہے ۔مسٹر موئلی نے بجٹ کو انتخابی نیا پار کرنے کے لئے حکومت کی اشتہاری دستاویز قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو ملک کی معتبریت کا کوئی خیال نہیں ہے ۔ انہوں نے قومی شماریاتی کمیشن کے ارکان اور کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے استعفے کا ذکر کیا اور کہا کہ روزگار پر تیار کی گئی آخری رپورٹ میں چھیڑ چھاڑ کی گئی جس کے لئے ذمہ دار افراد کو سزا دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار سے کھیلنے کا الزام لگایا گیا۔