تازہ ترین

قومی اقلیتی کمیشن ’اقلیت‘لفظ کی تشریح کرے :سپریم کورٹ

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے قومی اقلیتی کمیشن کو تین ماہ کے اندر لفظ ‘اقلیت’ کی ازسر نو تشریح کرنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت عظمی نے قومی اقلیتی کمیشن سے لفظ ‘اقلیت’ کی تشریح اس لئے کرنے کو کہا ہے تاکہ اقلیتی فرقہ کے افراد کو حکومت کی فلاحی و بہبودی اسکیموں کا فائدہ مل سکے ۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے آج بی جے پی کے سینئر لیڈر اورسینئر وکیل اشونی اپادھیائے کو اقلیتی کمیشن کے پاس دوبارہ اپنی درخواست پیش کرنے کے لئے کہا تاکہ تین ماہ کے اندر قومی اقلیتی کمیشن اس سلسلے میں فیصلہ کرسکے ۔بی جے پی لیڈر نے سپریم کورٹ سے اقلیت کی تشریح کرنے اور ریاستی سطح پر ان کی شناخت کے لئے ایک رہنما خطوط جاری کرنے کی اپیل کی ہے ۔مسٹر اپادھیائے نے اپنی عرضی میں کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں ہندووں کی تعداد صرف دو سے آٹھ فیصد ہے ۔ا س کے باوجود انہیں اکثریتی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے جب کہ عیسائیوں کی تعداد اسی سے نوے فیصد تک ہے جنہیں اقلیت کا درجہ حاصل ہے اور انہیں بہبودی اسکیموں کا فائدہ ملتا ہے ۔عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت 90 دن بعد کرے گی۔(یو این آئی)
 
 
عدالت عظمیٰ کا شاردا 
چٹ فنڈ گھوٹالہ کی نگرانی کرنے سے انکار
کلکتہ//شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ کی نگرانی کرنے سے متعلق عرضی کو سپریم کورٹ نے خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت سی بی آئی جانچ کی نگرانی نہیں کرے گی۔چیف جسٹس رنجن گگوئی وار جسٹس سجے کھنہ کی قیادت والی بنچ نے نگرانی سے معلق عرضی کی سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ کی نگرانے کیلئے کمیٹی بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے 2014میں شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کے سپرد کیاتھا۔2013میں چٹ فنڈ گھوٹالہ سامنے آنے کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت نے ایس آئی ٹی قائم کی تھی۔مگر سپریم کورٹ کے ہدایت کے بعد ایس آئی ٹی پورے معاملے کو سی بی آئی کے حوالہ کردیا تھا۔سی بی آئی کا الزام ہے کہ ایس آئی ٹی کے ممبران نے جانچ کے دوران کئی اہم ثبوتوں کو تلف کردیا ہے ۔اسی کے پیش نظر سی بی آئی گزشتہ تین دنوں سے کلکتہ پولس کمشنر راجیو کمار سے پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔یو این آئی۔