تازہ ترین

آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ

نائیڈوکا دِلّی میں احتجاج اور بھوک ہڑتال

12 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 کہا میری جدوجہد حق کے لئے ،خیرات کے لئے نہیں 

نئی دہلی//نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے خلاف جدوجہد کی کوشش کے طور پر آندھراپردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرابابونائیڈو نے دارالحکومت میں احتجاج اور ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ مسٹرنائیڈو جو آندھراپردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مطالبہ کو مرکز کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد مودی کے ساتھ لڑائی کے موڈ میں ہیں’ این ڈی اے حکومت کے خلاف پیر کو صبح 8بجے سے دہلی کے آندھرابھون میں احتجاج کا آغازکیا۔ اس ایک روزہ احتجاج کو انصاف کے لئے احتجاج کا نام دیا گیا ہے ۔مسٹرچندرابابو نائیڈو صبح راج گھاٹ پہنچے اور وہاں خراج کی پیشکشی کے بعد آندھراپردیش بھون گئے جہاں انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکرکے مجسمہ پر پھول نچھاور کئے اور اس احتجاج کا آغاز کردیا۔چندرابابونائیڈو اے پی سے ناانصافی کے خلاف بطور احتجاج سیاہ شرٹ پہنے ہوئے تھے ۔اس احتجاجی مقام پر گاندھی جی ، امبیڈکر اور تلگودیشم پارٹی کے بانی این ٹی راماراو کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ آندھراپردیش کے وزراء’ ارکان پارلیمنٹ’ ارکان اسمبلی’ ارکان کونسل’ ملازمین کی تنظیموں’ طلبہ تنظیموں سے وابستہ افرادبھی اس ایک روزہ احتجاج میں نائیڈو کے ساتھ ہیں۔نائیڈو 12فروری کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند سے بھی ملاقات کریں گے ۔چندرابابو نائیڈو جو این ڈی اے چھوڑنے کے بعد مودی کے کٹر مخالف ہوگئے ہیں’ مرکز کے خلاف تب ہی سے احتجاج کررہے ہیں۔ وہ قومی سطح پر بی جے پی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے میں آگے ہیں۔ مسٹر چندرابابونائیڈو کے دہلی میں احتجاج کے سلسلہ میں حکومت آندھراپردیش نے دو ٹرینوں کو کرایہ پر حاصل کیا تھا جس کے لئے ایک کروڑ روپئے سے زائد کی رقم دی گئی ہے۔ یہ ٹرینیں اننت پور اور سریکاکلم سے روانہ ہوئیں ۔ ساوتھ سنٹرل ریلوے سکندرآباد سے دو خصوصی ٹرینیں کرایہ پر حاصل کی گئی تھین۔ ہر ٹرین میں 20کمپارٹمنٹس تھے ۔ پہلی ٹرین اننت پور اور دوسری ٹرین سریکاکلم سے 10فروری کو دہلی کے روانہ ہوئی۔ ان ٹرینوں میں چندرابابو کے احتجاج میں شامل ہونے کے تلگودیشم کے دلچسپی رکھنے والے لیڈران کے ساتھ ساتھ مختلف تنظیموں’ این جی اوز کے رہنما قومی دارالحکومت روانہ ہوئے جنہوں نے دہلی میں چندرابابو کے احتجاج میں شامل ہوکر ان سے یگانگت کا اظہا رکیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چندرابابونا ئیڈو نے کہا ‘‘اگر آپ ہمارے مطالبات پورے نہیں کریں گے ،تو ہم یہ جانتے ہیں کہ کس طرح ان کو پوراکروایا جائے ۔یہ اے پی کے عوام کی عزت نفس کا معاملہ ہے ۔جب کبھی بھی ہماری عزت نفس پر حملہ ہوتا ہے توہم اس کو برداشت نہیں کرتے ۔میں اس حکومت بالخصوص وزیراعظم کو انتباہ دیتا ہوں کہ وہ انفرادی حملوں کو روک دیں۔ہم مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے یہاں آئے ہیں ۔وزیراعظم نے اس دھرنے سے ا یک دن پہلے اے پی کے ضلع گنٹورکا دورہ کیا ،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کی کیا ضرورت تھی’’۔ انہوں نے کہاکہ اے پی سے ناانصافی کی گئی اور اس کو خصوصی درجہ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں یہ بھوک ہڑتال کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا‘‘میری جدوجہد حق کے لئے ۔خیرات کے لئے نہیں ’’۔انہوں نے کہاکہ گودھرا واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیراعظم واجپئی نے واضح کیا تھا کہ حکمرانوں کو دھرما کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا تھا کہ گجرات میں اس دھرما کی خلا ف ورزی کی گئی ہے ۔ادھر سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اے پی سے کئے گئے وعدوں بالخصوص اے پی تنظیم نو قانون میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔مسٹر منموہن سنگھ، اے پی کو خصوصی درجہ اور اے پی سے انصاف کے مطالبہ پر وزیراعلی این چندرابابونائیڈو کی جانب سے دہلی کے اے پی بھون میں کی گئی ایک روزہ بھوک ہڑتال اور احتجاج سے یگانگت کااظہار کیا۔(یو این آئی)