تازہ ترین

ادھورا سفر ادھورے قصّے

کہانی

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایف آزاد ؔدلنوی
سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے گاڑیاں رک رک کر چل رہی تھیںغالباََ سال کی پہلی برف ہورہی تھی کچھ مسافت طے کرتے ہی   گاڑیاںاچانک رک گئیں۔ایک آواز آئی۔
’’سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی لڑھک گئی ہے۔‘‘
یہ سن کر سب پریشان ہوگئے۔موسم پریشانیوں میں برابر اضافہ کرتا جرہا تھا اور چاروں طرف ٹھنڈی برفیلی ہوائیں چلنے سے بس کے اندر موجود لوگ ٹھٹھرنے لگے۔بس سواریوں سے کھچا کھچ بھری پڑی تھی اور اس کے اندر بالکل بھی ہلنے ڈھلنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اب ٹھنڈکے ستائے پرندے بھی اُڑ اُڑ کر گھونسلوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے تھے اور کتوں کی بھاگ دوڑ بھی مسدود ہوچکی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا چھا گیا۔ مسافر بس کے اندرکھسر پھسر کرنے لگیں۔ کچھ کھڑکیوں کے پٹ چڑھا کر آگے کا حال جاننے کی کوشش کرتے رہے مگر اندھیرا اور گہرا ہوگیا تھا،لہٰذا اس گپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بس کے اندر جمگھٹے میں کسی ایک شخص نے آواز دی۔
’’کھڑ کیاں بندکر دو۔سردی آرہی ہے۔‘‘
میں نے ادھر ادھر تاک جھانک کرکے دیکھاتو وہ شخص دکھائی نہیں دیامگر میری نظریں ایک خوبصورت لڑکی پر پڑیں جس کا نرم و نازک بدن سردی سے ٹھٹھررہا تھا۔میں اس شخص کی بات کی تائید کرتے ہوئے بولا۔
’’ہاں بھئی کھڑکیاں بند کردو۔بس میں کچھ نازک لوگ بھی بیٹھے  ہیں۔‘‘
یہ سن کر لڑکی کے ہونٹوں پرتبسم پھر گیااور بار بار میری طرف دیکھتی رہی۔ میں نے سوچاکہ کیوں نہ کچھ دیر کے لئے اس سے گپ شپ کی جائے۔ اس طرح ہنستے مسکراتے وقت بھی گزرے گا۔میں اس کی طرف بڑھنے لگاتواس شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر نہایت تند لہجہ میں کہا۔
’’میرا مذاق اُڑاتے ہو۔مجھ پر طنز کرتے ہو۔‘‘اس نے مجھے دھکا دیا اور کھری کھوٹی سنانے لگا۔مجھے یہ شعر یاد آیا۔
دستار کو پکڑے رہو ہوا تیز ہے   
گر نہ جائے کہیں خزاںکے پتوں کی طرح
میں اس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔’’میں نے آپ پر کوئی طنز نہیں کسا ہے۔‘‘مگر اس نے ایک نہ سنی وہ بدستور غصہ کئے جارہا تھا۔اس حالت میں اگر اس کے غصے کوتھوڑی سی ہوا دی جاتی توبس کا فرش ہی میدان جنگ بن جاتا۔خیر میں نے خاموشی اختیار کی ۔کہتے ہیں کہ خاموشی لاکھ بلائوں کو ٹال دیتی ہے اس بیچ اس کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔میں من ہی من میں سوچتا رہا
’’اگر اس شخص سے میںزبان چلاتاتو یہ میری عزت کی دھجیاں اُڑاتا۔ کل اخباروں میں خبر آجاتی کہ وادی کے معروف قلمکار کی پٹائی۔ ہزار طرح کی باتیں ہوتیں اور میں ادبی دنیا میں بھی اعتبار کھو جاتا۔ یہ بھلا ہو میرے ساتھی کا جس نے چٹکی لیتے ہوئے مجھے چپ رہنے کے لئے کہا۔‘‘
 اتنے میںڈرائیور نے ہارن بجا دی ا ور بس نکل پڑی سب باتوں میں مصروف ہوگئے۔ میں اپنے ساتھی میاں عظیم سے بولا
’’یہ شخص توگلے ہی پڑ گیا تھا۔‘‘
’’بھائی خدا کا شکر کروکہ عزت بچی۔ کل ٹی وی پر جہاں لوگ ہمارا پروگرام دیکھتے وہیں یہ خبر بھی آجاتی کہ قلمکار پٹ گیااور عزت خاک میں مل جاتی۔‘‘
ہم محو گفتگو تھے کہ بس رک گئی اور ایک سواری دھکم پیل کر کے اتر گئی۔ میں چند قدم آگے کی طرف کھسک گیااور اس لڑکی سے‘جس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں‘مخاطب ہو کر بولا
’’آپ پریشان لگ رہی ہیں خیریت تو ہے۔‘‘
’’دیکھئے نا۔۔بس سست رفتار سے چل رہی ہے گھر سے باربار فون آرہا ہے۔‘‘
’’ویسے آپ کو جانا کہاں ہے۔‘‘
’’مجھے بہت دور جانا ہے۔‘‘اسی اثنا میں پھر فون کی گھنٹی بج گئی اور وہ دوسری جانب منہ پھیر کر باتیں کرنے لگی۔ اس بیچ ایک جوان مجھے گھورتا رہا۔ اس کی چمڑی سر سے پائوں تک ساری سرخ تھی اور بال سفید تھے۔ اس میں کوئی جینٹک پرابلم لگ رہی تھی۔ ایسے لوگ اندھیرے میں چاق چوبند لگتے ہیں۔ میں اُسے دیکھ ہی رہا تھا کہ اس نے اچانک اپنی جیبیں ٹٹولنی شروع کردیں اور پھر اونچی آواز میں چلایا۔
’’ہائے میرا موبائیل فون۔میرا موبائیل  فون نہیں مل رہا ہے‘‘
ہم اس کے نزدیک ہی کھڑے تھے ۔میں میاں عظیم سے بولا’’یار یہ ہمیں دیکھ رہا ہے کہیں جامہ تلاشی نہ کرے۔خدا خیر کرے ‘‘
اتنی دیر میں وہ بولا۔’’سر ذرا آپ اپنا موبائیل فون دیں میں اپنے نمبر پر کال کروں ۔‘‘
میں نے جھٹ موبائیل نکال کر دیا اور وہ اپنا نمبر ڈائیل کرتا رہا مگر موبائیلsilent آرہا تھا۔ اس نے لائٹ جلا کر سیٹوں کے نیچے بھی دیکھامگر موبائیل فون نہیں ملا۔سب کو اس پر ترس آیا ایک شخص بولا۔
کہیں آپ نکلتے وقت موبائیل فون گھر پر مت بھول آ ئے ہیں۔‘‘
اس نے گھر فون کرکے کسی سے پوچھا۔مگر وہاں سے بھی نفی میں جواب ملا۔ پھر طرح طرح کی باتیں ہوئیں۔اتنے میں اس نے ایک شخص کی طرف انگلی اٹھا کر کہا۔
’’آپ میرے نزدیک کھڑے تھے اگر آپ برا نہ مانیںتو میں آپ کی تلاشی لوں ۔‘‘
اس شخص کے چہرے کا رنگ ہی بدل گیا۔ وہ ہکا بکا ہوکر رہ گیا۔ اس ٹھنڈمیں بھی اس کے ماتھے سے پسینہ پھوٹنے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر جوان نے کہا 
’’آپ چہرے سے شریف لگ رہے ہیں مجھے معاف کر دیجئے۔‘‘
اس بے چارے کی جان میں جان آگئی۔ پھر وہ میری طرف ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا۔میں اندر ہی اندر دم بخود ہوکر سوچنے لگا۔
’’کہیں یہ میری جامہ تلاشی نہ لے ۔اتنی بھری بس میں شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔‘‘
وہ ایک قدم میری طرف چل کر بولا ۔’’سر یہ لیجئے اپنا موبائیل فون۔‘‘
میرا موبائیل فون لوٹاتے ہی وہ آگے کی طرف کھسک گیا۔ اب سب کچھ نارمل ہو گیا مگر موسم کی نیت بدستور خراب لگ رہی تھی۔ برف زوروں سے گرنے لگی تھی یہ دیکھ کر وہ لڑکی زیادہ پریشان ہونے لگی اس نے میری طرف مڑ کر کہا۔
’’ذرا بس رکوا دیجئے‘‘
’’کیوں کیا بات ہوئی۔سب ٹھیک ہے نا۔‘‘
’’ہاں ہاں  ۔میں سوچ رہی ہوں کہ مجھے اتر نا چاہیے۔ میں رات کو ماسی کے گھر ٹھہروں گی ۔‘‘
یہ سن کر میرا موڈ خراب ہوگیااس پر میرے ساتھی نے جلے پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا۔
’’بھیا جی بس رکوا دیجئے۔‘‘اور وہ مسکراتا رہا۔     
مجبوراً بس روک دینی پڑی اور اتر تے ہوئے میں نے اس سے  فون نمبر مانگا۔اس نے جونہی موبائیل فون ہاتھ میں لیاتو  اچانک اس جوان کی آ وازآئی۔
’’یہ میرا موبائیل فون ہے۔‘‘
 یہ سنکرلڑکی اس پر برس پڑی’’ یہ آپ کا موبائیل فون ہے ‘‘ اور بار بار اس کودکھاتی رہی۔
’’سوری بہن جی میراموبائیل فون بھی ایسا ہی ہے‘‘اور وہ اتر گئی۔
 یہ دیکھ کر میاں عظیم بولا۔ ’’چلو یار ٹھیک ہی ہوا، اب ہم کچھ اپنی بات کریں گے۔‘‘
ہم آپسی گفتگو میں مصروف ہوگئے بس سڑک پر دوڑتی رہی پھر کچھ دیر بعد بس پھر سے رک گئی۔ڈرائیور نے آواز دی 
’’بس آگے نہیں جا سکے گی۔‘‘بس میں شور اُٹھا۔اس شور میںوہ جوان چلا کر بولا ۔
’’سر ذرا وہ لفافہ دیجئے۔‘‘
میں نے جونہی لفافہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا وہ  بڑی پھرتی سے اتر کر ایک جانب دوڑ گیا۔ اس نے چھاتہ کھولا اورجاتے ہوئے اس کی جیب میں موبائیل فون کی گھنٹی بھی بجنے لگی۔ اس جمگھٹے میں آواز آئی
’’ہائے میرا موبائیل فون ۔۔ہائے میرا چھاتہ۔‘‘
ایک شخص پھرتی سے اترکر اس جوان کے پیچھے دوڑاجو اند ھیرے میں بھا گے جارہا تھا۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847