تازہ ترین

باپو اور گوڈسے

ایک خیالی گفتگو

7 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

احساس نایاب۔۔۔۔شیموگہ، کرناٹک
 میں  نتھو رام گوڈسے ہوں، ہندوستان کا وہ دہشت گرد و غدار جس نے بابائے ہند کہلانے والے گاندھی کو گولیاں مارکر ایک ناقابل معافی جرم کیااور ہندوستان کے گلستان میں نفرت کا زہر گھول دیا ،میرے اس کام میں میرا ساتھ دینے والے میرے ہی ہم خیال، ہمسایہ میرے گرو ساورکر اور ہندوتوا کے وہ سارے دلال تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کی مخبری کیا کرتے تھے۔قدم قدم پر انہی کی حوصلہ افزائی نے مجھ میں ایسی سیاہ روح پھونک دی جس نے مجھے ایک نہتے اور اَہنساوادی انسان ۔۔۔باپو۔۔۔ پر گولیاں چلانے کی ترغیب دی ۔ یہ جرم کر تے ہوئے ایک پل کے لئے بھی میرے ہاتھ کانپ نہ اُٹھے۔ میری پرورش بھی ایک حد تک میری شخصیت کی ذمہ دار تھی۔میری پیدائش 1910 میں ہوئی، میں اپنے ماں باپ کا پہلا بیٹا تھا جو زندہ رہا، مجھ سے پہلے میرے تین بھائی بچپن ہی میں مرگئے ۔اس وجہ سے میرے والدین نے میری پرورش لڑکیوں کی طرح کی کیونکہ ان کااَندھ وشواس تھا کہ لڑکیوں کی طرح پرورش کرنے سے میری جان بچ جائے گی ۔ میری پیدائش کے وقت میری ماں نے بھگوان کے آگے ایک بےتکی سی منت مانگی تھی کہ اگر میری کوکھ سے لڑکا پیدا ہوا ،وہ زندہ رہے تو اُس بچے کی ناک میں نتھ ڈالوں گی ۔ بدقسمتی سے میں لڑکے کی شکل میں پیدا ہوا اور ما ں کی منت کے مطابق میری ناک چھید کر ا س میں نتھ ڈال دی گئی ۔اس وجہ سے میرا نام رام چندر سے ناتھورام گوڈسے پڑگیا ۔ طویل عرصہ تک میری پرورش لڑکیوں کی طرح ہی کی گئی ،یہاں تک کہ کئی دوست احباب بھی اس حقیقت سے بےخبر تھے کہ میں اصلاً لڑکا ہوں۔ وقت گزرتا گیا اور میرے اور تین بھائی دنیا میں آئے مگر میری پرورش نے میرے ذہن پربہت گہرا اثر ڈالا ،اس وجہ سے میں دوسرے بھائیوں سے مختلف تھا۔ میں ہمیشہ گھنٹوں گھنٹوں مورتی کے سامنے بیٹھے پوجا دھیان میں اپنا وقت گذارتا، لوگوں سے میل جول پسند نہیں تھا اور جیسے جیسے بڑا ہونے لگا تومیرے اندر غصہ بھی بڑھتا گیا۔ میں اپنے اندر دبی مردانگی کو ظاہر کرنا چاہتا تھا مگر بچپن میں میرے حالات اور میرے ساتھ لوگوں کا جو رویہ تھا اُس کے چلتے کبھی کھل کر جی نہ پایا ، میری یہ گھٹن میرے اندر لاوے کی طرح عمر بڑھنے سے پکنے لگی۔جوانی کے عالم میں بھی میری ذہنی کیفیت میں کوئی سدھار نہ ہوا، مجھے عورتوں سے سخت گھن آتی، رگ رگ میں سماج کے لئے نفرت تھی، میں سب سے علیحدہ رہنے لگا ۔پونے میں اسکول کی تعلیم حاصل کی مگر میرا من اسکول کی پڑھائی میں کبھی نہ لگا بلکہ زیادہ  وقت دھارمک گرنتھوں اور تاریخ کا مطالعہ کرتا۔ اس بنا پر انگریزی میں فیل ہونے سے میٹرک پاس ہی نہ کرسکا۔ کچھ وقت تک تُرکھانی کا کام سیکھنے لگا۔ اسی دوران میرے والد کا ٹرانسفر رتناگری میں ہوا ، یہ میری زندگی میں ایک نیا موڑ تھا۔۱۹۲۹میں رتناگری میں میری ملاقات ساورکر سے ہوئی، اُس وقت میری عمر سولہ سترہ سال تھی ، میں اکثر اُس کے پاس آیاجایا کرتاکیونکہ ساورکر کی شخصیت سے میں بہت متاثر ہوچکا تھا ۔ا س کی باتیں میرے اندر کی گھٹن میں جان بھر دیتی ۔اس کاپورا نام وینایک دامودر ساورکر تھا ، انگلینڈ میں قانون میں ڈگری کی تھی ۔اُسی دوران ساورکر پر بر طانیہ کے خلاف سازش کے الزام میں کالے پانی کی سزا سنائی گئی۔ جیل میں ساورکر نے ہندو دھرم پہ کئی کتابیں لکھیں ۔ ہندوتوا کے بانی یہی ساورکر تھے۔کئی سال جیل کے بعد انگریزوں نے اس وعدے پر اُسے رہا کیا کہ وہ کبھی سیاسی معاملات میں دخل نہ دے گا۔ رہائی پانے کے بعد ساورکر کی ہندوتوادی سوچ نوجوان نسل کومتاثر کرنے لگی ۔ مجھے ساورکر کے اردگرد کئی ایسے نوجوان ملے جن کی سوچ ہوبہو مجھ جیسی تھی ، ہماری نظر میں ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک تھا۔ یہاں پر کسی بھی ودسرے مذہب کے لوگوں کا رہنا ہم سے برداشت نہیں ہوتا ،ہمارا ماننا تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا استھان ہے ،یہاں کی دھرتی پر صرف ہمارا حق ہے۔ یہ سوچ ہمارے اندر گھر کر چکی تھی۔ ساورکر کی موثر گفتگوؤں کی بنا پر ہم سب نےان کو اپنا گرو بنادیا ۔ میں بھی انہیں اپنا گرو ماننے لگا، لیکن ہندوستانیوں پر دن بہ دن گاندھی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ لاکھوں لوگ گاندھی کی اَہنسا وادی سوچ اور ستیہ گرہ سے جڑ رہے تھے،۔میں بھی 20 ؍سال کی عمر میں کچھ دنوں کے لئے اُس ہجوم کا حصہ بن گیا، چھوت چھات کے خلاف کام کیا لیکن میں اس ہجوم میں زیادہ دیر نہ رہ سکا اور 1932 میں ڈاکٹر ہیڈ گیواڑ کی تقریر سے متاثر ہوکر سنگھ پریوار سر جڑ گیا۔ کئی سال مہاراشٹر میں سماجی کاموں میں حصہ لیا ،کچھ دن بعد مجھے احساس ہوا کہ اب ہندوؤں کے ساتھ انصاف اوراُن کے حقوق کا تحفظ کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس مقصد سے میں ہندومہاسبھا کا ممبر بنا مگر میں نے کبھی آر ایس ایس کو نہ چھوڑا نہ کبھی  ا س سےاستعفیٰ دیا ۔ ہاں، ہندومہاسبھا سے جڑ جانے کے بعد سنگھ کو زیادہ وقت نہ دے سکا مگربیک وقت آر ایس ایس کا وفادار بھی بنارہااور ہندومہاسبھا کی سرگرمیوں میں بھی لگا رہا۔  1938 میں حیدرآباد کے نظام او ررضاکاروں کے خلاف مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن گرفتار ہوکر پورا ایک سال جیل میں گزرا۔ اس بیچ میری نفرت میں اور شدت آنے سے میں کٹروادی بنتا گیا ۔ جیل سےرہا ئی ملی تو مسلمانوں سے جلن ہوئی اور گاندھی کی ہندو مسلم ایکتا کامخالف بنا۔ اُدھر 1942 میں گاندھی نے انگریزوں کے خلاف بھارت چھوڑو آندولن کی شروعات کردی ، کانگریسی نیتاؤں کی د ھڑا دھڑگرفتاریاں ہونے لگیں، کانگریسی نیتاؤں کی غیرموجودگی میں جنگ عظیم دوم برٹش کا ساتھ دینے کے فیصلے سے جناح کو انگریزوں سے تعلقات اچھے بنانے کا موقع ملا ،ا س سے مسلم لیگ کی طاقت بڑھتی گئی ۔ یہ ہمارے لئے ناقابل برداشت بات تھی۔ ہماری نظر میں اس صورت حال کی ذمہ دار گاندھی اور کانگریس کے نیتا تھے۔ اس لئے ساورکر نے طیش میں آکر گاندھی کو کمزورا ور ڈرپوک کہنا شروع کردیا ، حالانکہ گاندھی کی ایک آواز پہ سارا ہندوستان اکھٹا ہوجاتا ،گاندھی کے اَہنسا واداور ستیہ گرہ کو ہندوستانی عوام اور انگریز ان کی بڑی طاقت مانتے تھے ۔ یہ بات مجھے اور میرے سنگھٹن کو ناگوار لگتی تھی ۔ مسلمانوں کے لئے گاندھی کا نرم رویہ میرےا ندر بسی نفرت کی آگ کو سلگانے کا کام کررہا تھا ۔گاندھی کا وجود ہماری آنکھ کا شہتیر بن رہا تھا ، باپوکی باتیں، اُن کے نام کی جئے جئے کار مجھے اور میرے ساتھیوں کے دل وجگر میں کانٹے کی طرح چبھ جا تی ۔اسی دوران ہندوستان کو آزادی تو مل گئی مگر ساتھ ہی بٹوارے اور پاکستان کو 55 کروڑ روپے کی شرط سامنے آئی جو ہمارے لئے کسی صورت منظور نہیں تھی۔ اُسی وقت ہم نے ایک اہم فیصلہ لیا ۔ جہاں بٹوارے کی وجہ سے سارا ہندوستان جل رہا تھا تو گاندھی نے فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لئے لوگوں سے امن چین کی اپیل کی اور اعلان کیا کہ دنگے فساد نہ رکے تو وہ اَن شن پہ بیٹھیں گے۔ جیسے ہی یہ خبر ملی تو ہندومہا سبھا کے آفس میں میرے ساتھیوں نے مجھ سے مل کر اَن شن( بھوک ہڑتال ) ہی کے دن گاندھی کے قتل کا اٹل فیصلہ لیا ۔ سازش کے مطابق 30 ؍جنوری کو جب گاندھی اَن شن پہ تھے، میں نتھو رام گوڈسے،ساورکر اور آپٹے وہاں برلابھون پہنچے لیکن ہمیشہ 5 بجے پرارتھنا سبھا میں آنے والے گاندھی آج وقت سے 16منٹ تاخیر سے آگئے ۔ میں نے اپنے ارادے کو کمزور ہونے نہ دیااور جیسے ہی شام 5 بج کر 16 منٹ کو گاندھی، منوبین اور آبھا کے ساتھ پرارتھنا سبھا کے قریب آئے، لوگ ان کے لئے راستہ دینے لگے ۔اُس وقت میں اُن کے قریب پہنچا، اُنہیں پرنام کرتے ہوئے مندوبین کو دھکا دے کر پستول سے تین گولیاں گاندھی کے سینے میں داغ دیں ،وہ اسی وقت ہمیشہ کی نیند سو کر امر ہوگئے۔ گاندھی کے قتل کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے پہ لٹکایا گیا مگر میں جانتا تھا کہ میرے جانے کے بعد بھی میرے جیسے کئی اور نتھورام گوڈسے جنم لیتے رہیں گے جو میری ہندتووادی سوچ کو آگے بڑھائیں گے ۔ آج میرا خواب سچ ہوچکا ہے کیونکہ ہندوستان کے کونے کونے میں ہندوتوا گونج رہا ہے۔یہ لوگ میرے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے دلوں میں نفرت کے انگارے لئے ملک میں انتشار پھیلارہے ہیں۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت 61 سال بعد دوبارہ علی گڑھ میں ہندومہاسبھا کے نیتاؤں کے ہاتھوں گاندھی کے پتلے پر گولیاں چلانےسے اُن کی آتما کو گھائل کیا گیا ۔ یہی حرکات مرنے کے بعد بھی مجھے زندہ رکھے ہوئی ہیں جو ہندوستان میں کبھی امن چین قائم ہونے دیں گی ،نہ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھنے کے موقع دیں گے۔آزادی کے پہلے سے ہی ہمارا مقصد طے تھا کہ ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانا ہے۔اس مقصد کے چلتے ہم نے ہر موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھایا ، انگریزوں کی’’ تقسیم کرو اور راج کرو ‘‘کی جو چنگاری سلگائی تھی ،اُس کو وقتاً وقتاً ہوا دے کر ہم شعلے بھڑکائے  جارہے ہیں، میرے ہم خیال اور میرے بھگت اس کار خیر کو انجام دیتے رہیں گے، بھلے ہی اس کے لئے ہمیں نفرتوں، تقسیموں ،فرقہ وارانہ فسادوں کی آگ سے بھارت ورش کو کیوںنہ خون کے دریاؤں میں ڈبونا پڑے۔کل ہماار ہدف گاندھی تھا، آگے کوئی بھی ہمارا نشانہ ہوسکتا ہے۔ یہی نشانے میری زندگی کے لئے سانسیں ہیں ۔