تازہ ترین

درد ناک عذاب

3 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

میں کھو گئی تھی کس جہاں میں
خیالوں کے میدان میں
اچانک سے کیا ہوا
میں ڈر گئی سہم گئی
میں چیختی میں چلاتی
میں پوری دنیا کو بتلاتی
ہائے یہ کیا ہوگیا
میری آواز رک گئی
میری سانسیں تھم گئیں
آنکھوں سے خون بہنے لگا
دل بے تحاشا دھڑکنے لگا
وہ گود میں میرے پڑی
وہ بے تحاشا رو پڑی
ہائے میں لٹ گئی
میں زندہ کیوں ہوں مر کیوں نہ گئی
وہ آہ وزاری کرنے لگی
درد سے وہ تڑپنے لگی
زخم وہ گہرے تھے مگر
کسی کو نہ آئے نظر
سچائی سے تھے سب آشنا
سامنے کوئی نہ آسکا
دولت سے تھا انکا دبدبہ
ہمارے پاس تھا بس نامِ خدا
ہم ہار نہ جاتے ہرا ئے گئے
ہر موڑ پر ڈرائے گئے
سینے میں تب جو زخم لگا
وہ  ناسور اب بننے لگا
وہ یادیں ہمیشہ آتی ہے
وجود کو میرے بکھیرتی ہے
خون جب آنکھوں سے بہنے لگتا
ذہن میں میرے سوال ابھرتا
اے دل تو بتا یہ کیا ہے
وہ معصومانہ انداز میں کہتا ہے
کچھ نہیں ہے میری جان
یہ تو بس ایک درد ناک عذاب ہے
 
 
مسعودہ وانی
طالبہ ایم -اے-اردو
مانو-آرٹس اینڈ سائینس کالیج فار وومن ہمہامہ بڈگام
موبائل نمبر؛9086661163