تازہ ترین

آہ !مرحوم عبدالرحیم لنگو آف سوپور

16 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

میر غلام حسن
قصبۂ سوپور کو کشمیر کی تاریخ میں خاص اہمیت ہے ۔شمالی کشمیر میں واقع یہ قصبہ سیاسی طور پر حساس مانا جاتا ہے۔ قصبے میں اب تک بہت ساری اولوالعزم علمی ،ادبی ، سیاسی ، سماجی اور تحریکی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جن کی غیر معمولی خصوصیات کے لوگ رہین ِ منت ہیں ۔ مرحوم حاجی عبد الرحیم لنگوصاحب ان میں ایک اہم شخصیت تھے ۔ سوپور کے ایک با اثر خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم صاحب عنفوان شباب سے دینی خدمات کو اپنی زندگی کابہتر مصرف سمجھے تھے ۔ قصبۂ سوپور میں مرحوم نے دینی ، سماجی اور فلاحی 
 حیثیتوں سے نیکو کاری میں سبقت حاصل کی ۔ جماعت اسلامی کی دعوت عام کرنے میں آپ نے سوپور میں کلیدی رول ادا کیا ۔ جماعت کی مقتدر شخصیات کے ساتھ آپ کے گہرے تعلقات رہے ۔ اچھا پڑھا لکھا ، کافی ذہین اور معاملہ فہم ہونے کے علاوہ آپ علم کے دلدارہ تھے ۔ جن دنوں میں گرلز ہائی اسکول مسلم پیر میں مدرس تھا، مرحوم اپنے ذاتی کا م چھوڑ کر محض فی سبیل ا للہ اسکول آکر بچیوں کو درس دیتے اور انہیں آداب واخلاق سکھاتے ۔ سوپور کے دو اہم ادارے انجمن معین الاسلام اور ٹریڈرس فیڈریشن کو سنبھالا دینے میں مرحوم کا کلیدی رول رہا۔ ٹریڈرس فیڈریشن کی قیادت کے علاوہ انجمن معین الاسلام سوپور کو نئے سرے سے اپنے ڈگر پر لانے میں آپ نے ادارے کو ہمیشہ اپنے زریں مشوروں سے نوازا۔ مرحوم کو تخریب اور جھگڑوںسے نفرت تھی اور مزاجاً صلح پسند تھے ۔ نوجوانوں کو اسلامی فکر میں ڈوبا اور سوپور کو خوشحال دیکھنے کے آرزو مندتھے ۔غصب اور جبر سے مغائرت تھی، کسی کی حق تلفی قبیح سمجھتے، غلبۂ حق کے لئے کوشاں رہتے ، جوانی سے لے کر پیری تک نظام اسلامی کے قیام کی جدوجہد کی ، ملنسار ی ،  شگفتہ مزاجی ، سنجیدہ کلامی، مہمان نوازی اور دردل جیسے اوصاف سے متصف تھے ۔ اہالیان ِسوپور نے  مرحوم لنگو صاحب کو پرنم آنکھوں سے وداع کیا لیکن ان کی یاد یں آج بھی ان کے قلب وجگر میں ترو تازہ ہیں۔ جتنا انہیں اسلام مخالف عناصر نے کافی ستایا اتنا ہی اللہ نے مرحوم کو صبر وثبات ا ور عزم و حوصلہ بھی عطاکیا تھا ۔ آپ علامہ اقبال کے ان فرمودات کے گویا نمونہ تھے   ؎
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق 
نہ ابلہۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے بے گانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند 
مختصراً مرحوم عبدالرحیم کی دینی اور عوامی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی مخلصانہ خدمات کو اپنے دربار میں قبول فرماکر اُنہیں اعلیٰ علین میں جگہ دے، اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل دے اور قصبہ ٔ سوپور کو ان کانعم البدل عطا کرے ۔ آمین 
9596483484