کشمیر : حریت خواہی کا جنم داتا کون؟

پھول وادی میں اُگائے خار کس نے دَم بہ دَم

12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
بھارت  میں انتہا پسند سیاسی حلقے بھی یہ مانتے ہیں کہ کشمیر میں مزاحمت پسندی کا رحجان شدت اختیار کر گیا ہے ۔بھارتی سیاسی دھارا سے دوری کا احساس جو کہ ریاست جموں و کشمیر میں اکثریت مطلق میں پایا جاتا ہے اگر چہ ایک مانی ہوئی حقیقت بنتی جا رہی ہے لیکن اُس کے پس منظر و پیش منظر کے ضمن میں بھارتی احزاب میں اختلاف نمایاں ہے۔ پچھلے دنوں بھارتی پارلیمنٹ میں اس بارے میں زوردار بحث ہوئی جس میں کانگریس اور بھاجپا کا اختلاف بھی بخوبی منظر عام پہ آیا۔ جہاں کانگریس کا یہ خیال ہے کہ کشمیر میں بھارتی سیاسی دھارا سے دوری کا احساس بھاجپا کے دور وزارت میں شدت اختیار کر گیا ہے، وہاں بھاجپا اپنے دفاع میں خود کانگریس پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ کانگریس سرکاروں کی غلطیوں کی وجہ سے ریاستی عوام میں بھارت سے دوری کا احساس چھا گیا ہے۔ کانگریس اور بھاجپا کی آپسی تکرار میں کئی ایسے حقائق منظر عام پہ آئے ہیں جن کی اکثر نفی ہوتی رہی ہیں ۔ بھارت سرکار ہمیشہ ہی یہ دعویٰ کرتی رہتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں جمہوریت رواں و دواں ہے اور یہاں آزادانہ انتخابات میں ریاستی عوام اپنی مرضی کی حکومتیں چنتی آئی ہیں، لہٰذا یہاں کوئی ایسا سیاسی مسلٔہ نہیں جسے حل کرنے کی ضرورت ہو۔ 
بھارت کا یہ ماننا ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں کوئی مسلٔہ ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ( عرف عام میں’’ آزاد کشمیر‘‘) کہا جاتا ہے بھارت کی تحویل میں دیا جائے۔بھارت کا یہی دعویٰ گلگت بلتستان کے بارے میں بھی ہے۔گلگت بلتستان اگر چہ پاکستان کے زیرانتظام  ہے لیکن اُس کی ایک علحیدہ سیاسی نوعیت ہے اور وہ’’ آزاد کشمیر‘‘ انتظامیہ میں شامل ہی نہیں۔ پاکستانی زیر انتظام میں شامل ’’آزاد کشمیر‘‘ اور گلگت بلتستان کے بارے میں بھارت کا یہ ماننا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے جو الحاق بھارت سے کیا اُس کی بنیاد پر پاکستانی انتظام والے کشمیر کے علاقوں پر بھی اُس کاقانونی حق بنتا ہے۔ بھارتی دعوؤں کو پرکھا جائے تو دو پہلو سامنے آتے ہیں ۔ایک یہ کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جمہوریت کا بول بالا ہے، لہٰذا یہاں کوئی سیاسی مسلٔہ نہیں جو حل طلب ہو ، نیز چونکہ مہاراجہ آف جموں و کشمیر ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا ،لہٰذا 1947ء سے پہلے کی ریاست جموں و کشمیر من جملہ اُس کی ملکیت ہے۔بھارت کے یہ دونوں دعوے تجزیہ طلب ہیں، البتہ توجہ طلب یہ دعویٰ ہے کہ بھارتی انتظامیہ والے جموں و کشمیر میں جمہوریت رواں و دواں ہے ۔یہاں ہمیشہ ہی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر انتخاب کے بعد دنیا بھر میں یہ پروپگنڈا کیا جاتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، لہٰذا اسمبلی الیکشن میں عوام کی شرکت کو اہل ریاست کی جانب سے بھارتی جمہوریت پر ریاست جموں و کشمیر کے عوام  اعتماد کے رنگ میں رنگا جاتا ہے تاکہ اُس سیاسی مانگ کی نفی کی جائے جسے عالمی ادارے کے تحت استصواب رائے کہا جاتا ہے اور جو جموں و کشمیر میں مزاحمتی تحریک کا نصب العین ہے۔   
ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی جمہوری عمل کے ضمن میں بھارتی پارلیمنٹ میں جو بحث ہوئی اُس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ’’ پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے‘‘ سے چونکہ بحث کے دوران کانگریس اور بھاجپا کی باہمی چقلش میں جو کچھ بھی کہا گیا اُس سے جمہوری دعوؤں کی قلعی کھل گئی ۔کشمیر میں مزاحمتی تحریک کی قیادت ہو یا سول سوسائٹی کے ارکان ،اُن کا یہ ماننا ہے کہ بھارتی دعوؤں کے برعکس ریاست جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کے نام پر ہمیشہ ایک مذاق رواں رہا ہے۔پارلیمنٹ کی بحث میں اس حقیقت کی تصدیق ہو گئی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے بھاجپا منسٹری کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں یہ کہا کانگریس کی غلطیوں سے کشمیر کے عوام نے بھارت سے دوری اپنا ئی ہے۔اس دوری یا بھارت سے ناراضگی (alienation) کہتے ہیں عمیم الاثر ہے۔ ارون جیٹلی نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ناراضگی بھاجپا کے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار کی پیداوار ہے۔ اس سے پہلے راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام بنی آزاد نے بھاجپا پہ وارکرتے ہوئے کشمیر یوں کی ناراضگی کی ذمہ داری بھاجپا کے سر تھوپ دی تھی اور اسے بھاجپا کے دور اقتدار کا شاخسانہ گردانا تھا۔ ارون جیٹلی نے یہ کہا کہ کشمیری قوم کی ناراضگی کی اپنی ایک تاریخ ہے اور اس ضمن میں اُنہوں نے پچھلے کئی انتخابات کا ذکر کیا جس میں 1957 ،1962  و  1967ء کے الیکشن شامل ہیں ۔ اُنہوں نے یہ کہا کہ یہ انتخابات صاف نہیں تھے۔ اِس کے علاوہ یہ نکتہ بھی اُن کی بحث میں آیا کہ کانگریس ریاستی سرکاروں کو غیر مستحکم بنانے کے عمل کی بھی مرتکب ہوئی ہیں۔ ارون جیٹلی اگر چہ بھارت کی قومی جماعتوں کی باہمی چقلش کے ضمن میں کانگریس پر سیاسی وار کر رہے تھے لیکن وار کرتے کرتے وہ اس حد تک بہہ گئے کہ شاید اُنہیں خیال ہی نہیں رہا کہ وہ حرف بہ حرف وہی کہہ رہے ہیں جو جموں و کشمیر کی اکثریت مطلق کا دعویٰ ہے ۔
ارون جیٹلی کا دعویٰ یہ رہا ــکہ ’’ الیکشن اگر اُس انداز سے ہوں جو کانگریس کی روش رہی ہے تو یہ ناراضگی کے بیج بونے کے متراوف ہے، جہاں ریاست کے لوگوں پہ یہ احساس چھا گیا کہ اُنہیں الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں‘‘ کانگریس پہ وار کرنے کے عمل کو آگے لیتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا’’یہ وہ سیاست تھی جسے اقتدار میں بنے رہنے کیلئے آپ نے اپنایا‘‘ ! مرار جی ڈیسائی کے دور حکومت میںجو الیکشن 1977ء میں بہ عمل آیا اُس کے بارے میں ارون جیٹلی کا یہ کہنا تھاکہ وادی کے لوگ اسے آج بھی پہلا صاف اور آزاد الیکشن مانتے ہیں جب کہ نہرو کی قیادت میں کانگریس سرکار نے غلطیوں پہ غلطیاں کیں۔ اِس کے علاوہ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ ’’ آپ نے اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈالے تھے ‘‘اور اِس ضمن میں یہ بھی کہا کہ’’کانگریس سرکار کو اپنی پالیسی بدلنی پڑی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر شیخ عبداللہ کو گرفتار کرنا پڑا‘‘ ہم اپنے تجزیاتی عمل میں پہلے اسی نکتے کو اٹھاتے ہیں کہ پنڈت نہرو کی سر براہی میں بھارت کی کانگریس سرکار نے ایک ہی ٹوکری میں سارے انڈے ڈالے ۔اس کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ صرف اور صرف شیخ عبداللہ پہ بھروسہ کیا گیا ۔یہ بات شیخ کو ہی مد نظر رکھ کے کی گئی، یہ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِس کے بعد ہی ارون جیٹلی نے کہا کہ کانگریس سرکار کو اپنی پالیسی بدلنی پڑی اور شیخ  عبداللہ کو گرفتار کرنا پڑا۔ 
ارون جیٹلی کے بیان کے سیاق و سباق کو سمجھنے کیلئے یہ بات ذہن نشین کرنی پڑے گی کہ بھاجپا کی لیڈرشپ جس کے ایک اہم رکن ارون جیٹلی ہیں نہرو دشمنی میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ پنڈت نہرو کے خلاف بولتے ہوئے وہ بھارتی مفادات کو بھی بھول جاتے ہیں ۔بھارت کے نقطہ نظر کو تجزیہ کی میزان میں جانچا پرکھا جائے تو یہ عیاں ہوتاہے کہ بھارت اپنی جمہوریت کو کشمیر میں مثبت رنگ میں رنگنے کا خواہاں رہا ہے جبکہ پے در پے انتخابات میں دھاندلی کو منظر عام پہ لا کے بھاجپا کے ارون جیٹلی بھارتی جمہوریت کے اُس چہرے کو منظر عام پہ لے آئے ہیں جس کو کشمیر کے مزاحمتی حلقے اور سول سوسائٹی کے ارکان خوب پہچانتے ہیںثانیاََ نہرو دشمنی میں بھاجپا کے رہبر یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ شیخ عبداللہ نے اُس الحاق کو عوامی رنگ میں رنگنے کی سر توڑ کوشش کی جس پہ ڈوگرہ راج کے آخری مہاراجہ ہری سنگھ نے دستخط کئے تھے۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایسا شیخ عبداللہ نے پنڈت نہرو کی دوستی کے زعم میں کیا تھا۔ اِس بات کی تاریخی شہادت کشمیر کے بارے میں معروف مورخین کی رقم کی ہوئی کئی کتابوں میں ملتی ہیں کہ ہری سنگھ کی قید سے شیخ عبداللہ کو رہائی دلوانے میں پنڈت نہرو سردار پٹیل کے پیچھے لگے تھے۔قارئین کی یاد تازہ کرنے کیلئے یہ ذکر ضروری ہے 1946ء میں کوئٹ کشمیر کی تحریک شروع کرنے کے سلسلے میں شیخ عبداللہ ہری سنگھ کی قید میں تھے۔ اُن کا مقدمہ لڑنے کے لئے پنڈت نہرو جب کشمیر پدھارے تو کوہالہ پل کے مقام پہ اُنہیں آگے بڑھنے سے روک لیا گیا جسے گرفتاری سے تعبیر دی گئی، حالانکہ گانگریس صدر مولانا آزاد کے بلاوے اور وائسرائے ہند لارڑ ماؤنٹ بیٹن کی مداخلت پروہ واپس چلے گئے ۔اُس زمانے میں رام چند کاک ہری سنگھ کی سرکار میں وزیر اعظم تھے۔پنڈت نہرو کے تعلقات نہ ہی ہری سنگھ کے ساتھ نہ ہی رام چند کاک کے ساتھ ٹھیک رہے جب کہ سردار پٹیل کا ڈوگرہ شاہی کے دربار میں خاصا اثرورسوخ تھا ۔ پنڈت نہرو کے اصرار پہ سردار پٹیل نے شیخ عبداللہ کی رہائی کیلئے ڈوگرہ دربار کو قائل کیا اور یہ رہائی 29ستمبر 1946ء کو عملائی گئی ۔
  29ستمبر 1946ء سے پہلے کئی اور تاریخی اہمیت کے واقعات پیش آئے تھے۔ یکم اگست 1946ء کے روزگاندھی جی کشمیر آئے ۔مہاراجہ ہری سنگھ الحاق کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے رہے تھے جس سے کانگریس کی لیڈرشپ پریشان تھی ۔گاندھی جی ظاہراََ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے تھے لیکن اُن کے کشمیر میں پدھارنے اور واپسی کے فوری بعد  11؍اگست کے روز رام چند کاک کو وزارت عظمٰی سے فارغ کیا گیا ۔ٹھاکر جنک سنگھ کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا اور اُن کے دفتر کے باہر اُن کی جے جے کار کے ساتھ باغی عبداللہ کی جے کے نعرے بھی لگے۔شیخ عبداللہ کے حامی رام چند کاک کی بر طرفی کا جشن منا رہے تھے۔رام چند کاک کو کانگریسی احداف کی بر آوری میں بڑی رکاوٹ مانا جاتا تھا اور یہاں کانگریسی اہداف اور شیخ عبداللہ کی خواہشات کا سنگم عیاں ہوتا ہے۔ کانگریس کی لیڈرشپ کو یہ معلوم تھا کہ الحاق ہری سنگھ کے دستخط سے ہوگا لیکن وہ اِس الحاق کی حمایت کا عوامی مظاہرہ چاہتے تھے ۔ارون جیٹلی کا یہ کہنا کہ کانگریس ایک ہی ٹوکری میں سارے انڈے ڈال رہی تھی، خیال خام ہے اورحقیقت سے بالکل عاری کیونکہ جہاں پنڈت نہرو شیخ عبداللہ کو لبھانے میں مصروف تھے، وہی سردار پٹیل ڈوگرہ دربار کو سلجھانے کے درپے تھے۔ کانگریس کشمیر کو حاصل کرنے کیلئے کئی فرنٹ سنبھالے ہوئے تھی۔تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو گاندھی جی سے لے کر پنڈت نہرو اور سردار پٹیل تک سب ہی کہیں نہ کہیں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ تاریخ کی الٹی گنتی میں البتہ سردار پٹیل بھاجپا کے ہیرو ہیں اور پنڈت نہرو ویلن اور اُسی کے ساتھ ساتھ شیخ عبداللہ کو بھی ویلن مانا جاتا ہے جب کہ پنڈت نہرو کی دوستی میں وہ بھارتی اہداف کی آبیاری میں پیش پیش رہے۔ 
پنڈت نہرو کی رہبری میں کانگریس شیخ عبداللہ کو گرفتار کرنے پہ تب آمادہ ہوئی جب سنگھ پریوار سے جڑی تنظیموں کیلئے وہ نا قابل برداشت بن گئے۔ کانگریسی اہداف کی بر آوری کے صلے میں شیخ عبداللہ ریاست جموں و کشمیر کی خود مختاری چاہتے تھے جب کہ سنگھ پریوار کے آشیرواد سے پلنی والی سیاسی اکائی پرجا پریشد کے ارکان ایک پردھان،ایک ودھان اور ایک نشان یعنی ایک ہی پردھان منتری،ایک ہی قانون اساسی اور ایک ہی پرچم کا نعرہ لے کر سامنے آئی۔ انتہا پسندوں کا سیاسی دباؤ اتنا بڑھاکہ پنڈت نہرو اپنی یاری بھول گئے اور شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کر کے اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ قومی اہداف کی بر آوری میں ذاتی دوستی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔جموں و کشمیر کی صف اول کی سربراہی یہ بات سمجھائے نہیں سمجھ پائی ،چناںچہ اس ریاست کے صحنۂ سیاسی پہ کہیں اندرا عبداللہ ایکارڑ کہیں راجیو فاروق ایکارڑ اور کہیں مفتی مودی ایجنڈا آف الائنس نظر آتا ہے جب کہ یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی رہی کہ نہ ہی کوئی الائنس نہ ہی کوئی ایکارڑ دیر پا ثابت ہوا۔
سچ تو یہ ہے کہ کشمیر میں ناراضگی کی لہر کے پھیلاؤ میں سنگھ پریوار سے جڑی تنظیمیں بھی اتنی ہی ذمہ وارہے جتنی کانگریس ،اگر چہ اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں عوام الناس کی غالب اکثریت مسلٔہ کشمیر کا پر امن اور دائمی حل کی خواہاں ہے۔کشمیر میں ناراضگی کی باتیں چھیڑنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے متراوف ہے۔ بھارت کہنے کو تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور دیکھا جائے تو کئی خامیوں کے باوجود بھارت میں ایک جمہوری عمل رواں و دواں ہے، البتہ بھارت کے اس جمہوری عمل کا عشر عشیر بھی ریاست جموں و کشمیر میں کہیں نظر نہیں آتا۔یہاں جمہوری عمل کو ضرورت کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے اور جمہوری خوراک ناپ تول کے دی جاتی ہے جس سے یہ عمل مخدوش ہو جاتا ہے، لیکن پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصلی بحث بھارتی جمہوری عمل پہ مرکوز نہیں بلکہ مدعا و مقصد مسلٔہ کشمیر کا پُر امن اور دائمی حل ہے، جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ریاست میں تشدد وتخریب معمول بناہوا ہے اور معصوم و بے قصور جانیں ہر روز تلف ہو رہی ہیں۔
Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com 
 
 

تازہ ترین