تازہ ترین

مسلمان ا غیار کا نقال نہیں !

جہاں ایمان وہاں قرآن

11 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مر سلہ : سجاد احمد خان
جب   تک مسلمان اپنی زندگی میں قرآن و سنت پر عمل کرتے رہے اور سیرت ِ طیبہ صلی ا اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے میں ہی اپنے لیے فخر محسوس کرتے رہے‘ تب تک وہ دنیوی اعتبار سے بھی ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور آخرت بھی سنور تی چلی گئی۔ اہل اسلام نے اپنے دین و شریعت ، اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر حکومت کی اور یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کی دیگر قومیںمسلمانوں کی نقالی کرنے میں اپنے لیے فخر محسوس کرتی تھیں اور یہ صورت حال تھی کہ مسلمان موثر تھے اور باقی اقوام متاثر تھیں۔
مسلمان اسلام کے ساتھ قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں گئے‘ انہوں نے دنیا کی متمدن کہلانی والی اقوام کی تہذیب و ثقافت بھی دیکھی اور انہوں نے وہ تاریخی شہر بھی فتح کیے جنہیں اپنی سینکڑوں سالہ پرانی شناخت پر بڑا ناز تھا لیکن جو آنکھیں سیرت ِ طیبہؐ کے سرمۂ بصیرت سے روشن ہو چکی تھیں اور جن دلوں نے جمالِ محمدیؐ کی جھلک جذب کر لی تھی‘ وہ دنیا کے کسی فیشن سے متاثر ہوئے‘ نہ کفار کی ظاہری شان و شوکت انہیں مرعوب کر سکی۔پھر جب مسلمان اپنی اصل اور بنیاد سے دور ہٹتے گئے اور اپنی عادات و اخلاق میں غیروں کے پیرو کار اور نقال بن کر رہ گئے تو دنیا کی امامت اور حکومت کے عہدہ اور منصب سے بھی معزول کر دئے گئے،پھر ذہنی غلامی اور پسماندگی کا وہ وقت بھی آیا کہ کفار کی نقالی میں فخر محسوس کیا جانے لگا اور سنت ِ پاک کے مبارک طریقوں میں شرم اور عار محسوس ہونے لگی۔ زوال اور پستی کے اس دور میں مسلمانوں میں ایسے مفکرین اور دانشور بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ترقی کیلئے کفار کی نقال کو لازمی بتایا اور پوری مسلم قوم کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر دیا۔
جی ہاں! آج ہم ایسے ہی دور میں کھڑے ہیں جہاں سنت پاک کے ہر عمل پر تو ہر طرف سے سوال اُٹھتا ہے کہ اس میں کیا حکمت اور کیا فائدہ ہے؟ جہاں ہر ہر شرعی حکم کو کم سواد عقل کی کسوٹی پر پرکھنا لازمی سمجھا جاتا ہے اور جب اپنی ناقص عقل میں بات نہ سمائے تو گزشتہ چودہ سو سال کے اسلافِ امت کو غلط قرار دینا اور اُن کی باتوں میں کیڑے نکالنا فیشن بن چکا ہے لیکن دوسری طرف مغربی دنیا سے آئی ہوئی ہر بات کو کلمہ ٔ حق سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے اور اُن کے لایعنی‘ بے کار اور بے ہودہ طور طریقوں کو بھی اپنانے میں ذرا شرم و عار محسوس نہیں کی جاتی۔ گزشتہ چند سالوں سے تو کفار کی اپنی خالص مذہبی تقریبات میں بعض دین ناآشنا مسلمانوں کی شرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور یہ جنون ہر سال بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور یوں لگ رہا ہے کچھ لوگ مسلمانوں کو کفار کے رنگ میں ایسا رنگنا چاہتے ہیں کہ پھر شکل و لباس‘ تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت میں کہیں کوئی فرق باقی نہ رہ جائے۔
اگر یہی صورتِ حال برقرار رہتی ہے تو خدانخواستہ چند سالوں بعد نوبت یہاں تک آ پہنچے گی کہ ہماری نئی نسل کو یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ ملاقات کے وقت ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘کہنا چاہیے یا ’’نمستے‘‘۔اور مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں یا بھگوان کی پوجاکرتے ہیںاورمسلمان اپنی میت کو اعزازو اکرام سے دفناتے ہیںیا اُس کی چتا کو نذرِ آتش کرتے ہیں۔یہ صرف اندیشہ ہائے دور دراز نہیںبلکہ کئی ایسے گھرانوں کے معصوم بچوں میں جہاں صبح و شام صرف ٹی وی چلتا ہے کوئی دینی درس نہیں ہوتا، ایسے ناگفتہ بہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔
انہی خطرات کے پیشِ نظراسلام نے مسلمانوں کو کفار کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے سے روکا ہے ۔ یہ کام علمائے حق  بہت مشکل حالات میں انجام دیتے ہیں ۔ تشبّہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنی صورت وسیرت، اپنی ہیئت ووضع، مذہبی اور قومی امتیازات کو چھوڑ کر کسی دوسری غیر قوم کی صورت وسیرت، اس کی ہیئت ووضع اور اس کی مذہبی وتعلیمی امتیازات کو ایسے اختیار کرلے کہ دوسری قوم کے وجود میں گھل مل جائے اور اپنے آپ کو اسی میں فناء کر کے ر کھ دے۔
اسلام نے مسلمانوں کو دوسری قوموں کے علوم وفنون سے نہیں بلکہ تشخصات اور امتیازات کو اختیار کرنے سے منع کیا ہے، یہ ممانعت معاذ اللہ کسی تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایمانی غیرت وحمیت کی بناء پر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ کو غیروں کے ساتھ التباس واشتباہ کی تباہی سے محفوظ رکھا جائے کیونکہ جو قوم اپنی خصوصیات اور امتیازات کی حفاظت نہ کرے، وہ زندہ، آزاد اور مستقل قوم کہلانے کی مستحق نہیں رہتی، اس لئے شریعت حکم دیتی ہے کہ مسلم قوم دوسری قوموں سے ظاہری طور پر ممتاز اور جدا ہوکر رہے، لباس میں بھی وضع میں بھی، رہن سہن میں بھی، عادات وخصائل میں بھی، پسندو ناپسند میں بھی۔ بنا بریںایک تو جسم میں ختنہ اور داڑھی کو مسلمان کی ضروری علامت قرار دیا گیا ہے، دوسرے لباس کی علامت یعنی مسلمان اپنے اسلامی لباس کے ذریعے دوسری قوموں سے شناخت کئے جاسکیں۔
یاد رکھئے!غیروں کی مشابہت مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے۔ بعض مشابہتیںایسی ہیں جن کی وجہ سے آدمی اسلام ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور کفر کا اندیشہ ہوجاتا ہے اور کبھی حرام کے اندر مبتلا ہوجاتا ہے، چنانچہ فقہائے کرام نے لکھا ہے:’’اعتقادات اور عبادات میںاغیار کی مشابہت کفر ہے اور ان کے مذہبی رسومات میں مشابہت اختیار کرنا، مثلاً ہندوئوں کی طرح زنار لگانا، کلائی پر دھاگہ یا راکھی باندھنا، کڑا لگانا، یا پیشانی پر قشقہ لگانا یا سینے پر صلیب لٹکانا اور کھلم کھلا کفر کے شعائر کو اختیار کرنا دلی طور پر ان پر راضی ہونے کی علامت ہے، اس لئے یہ بلاشبہ حرام ہے اور اس میں کفر کا اندیشہ ہے۔ معاشرہ اور عادات اور قومی شعائر میں مشابہت اختیار کرنا، مثلاًکسی قوم کا مخصوص لباس استعمال کرنا جو خاص ان ہی کی طرف منسوب ہو اور اس کا استعمال کرنے والا اسی قوم کا فرد سمجھاجانے لگے جیسے سر پر عیسائی ٹوپی(ہیٹ) رکھنا، ہندوانہ دھوتی، جوگیانہ جوتی وغیرہ یہ سب مکروہ تحریمی اور ناجائز وممنوع ہیں اور فخر کی نیت سے استعمال کی جائیں تو اور بھی زیادہ گناہ ہے۔
اسی طرح غیر مسلموں کی زبان، ان کے لب ولہجے اور طرز کلام کو اس لئے اختیار کیا جائے کہ ہم بھی ان کے مشابہ بن جائیں اور ان کے زمرے میں داخل ہوجائیںیا اُن میں شمار سے ہوں تویہ مشابہت بھی ممنوع ہے۔ البتہ اگر ان لوگوں کی مشابہت مقصود نہ ہو، محض ضرورت اور دعوت وتبلیغ اور فہم علم کے لئے اُن کی زبانیں سیکھی جائیں تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچایا جاسکے ، ان کے اغراض ومقاصد اور مفید علوم سے واقفیت اور آگاہی حاصل ہو ،ان کے جذبات واحساسات کی کتاب پڑھ سکیں اور ان سے تجارتی اور دنیاوی امور میں خط وکتابت کرسکیں ۔ ان صورتوں میں غیروں کی زبان سیکھنے اور تمدن سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔غرض کسی بھی چیز کا استعمال غیروں کی مشابہت کی نیت سے اور دشمنان دین کی مشابہت کے ارادے سے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں ان کی طرف رغبت اور میلا ن ہے،۔اللہ تعالیٰ کویہ گوارانہیں کہ اس کے دوست اور نام لیوا(یعنی مسلمان) اس کے دشمنوں(یعنی کافروں)کی مذہبی اور تہذیبی وثقافتی مشابہت اختیار کرنے کی نیت وارادے سے کوئی کام کریں۔شیخ الاسلام علامہ ابن ِ تیمیہؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ میں اس مسئلے پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:
غیروں کی مشابہت اختیار کرنے یا کورانہ تقلید کر نے میں بہت سے نقصانات ہیں جنہیں ہم نہایت اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتے ہیں:
(۱)…کفر اور اسلام میں ظاہری طور پر کوئی امتیاز باقی نہ رہے گا اور حق مذہب یعنی اسلام دیگر مذاہب باطلہ کے ساتھ بالکل مل جائے گا۔
(۲)…غیروں کا معاشرہ اور تمدن اور لباس اختیار کرنا درحقیقت ان کی سیادت اور برتری تسلیم کرنے کے مترادف ہے، نیز اپنی کم تری اورکہتری اور تابع ہونے کا اقرار واعلان کا اظہار ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام پر برتری عطا فرمائی ہے اور پوری دنیا کا حکمران اور معلم بنایا ہے ، حاکم اپنے محکوم کی تقلید کیوں کردے سکتا ہے۔
(۳)…غیروں سے مشابہت اختیار کرنے سے ان کے عقائد وتوہمات کے ساتھ بھی رغبت پیداہوتی ہے، جب کہ اسلام میں مسلمانوں کو چھوڑ کر بے دینوں سے رشتہ ٔ قلب جوڑنا صراحۃً ممنوع ہے۔
(۴)…آہستہ آہستہ ایسا شخص اسلامی تمدن کا استہزاء اور تمسخر کرنے لگتا ہے، ظاہر ہے کہ اسلامی تمدن کو اگر اہمیت دیتا اور اسے حقیر نہ سمجھتا تو غیروں کی تمدن کو اختیار ہی نہ کرتا۔
(۵)…جب اسلامی وضع کو چھوڑ کر اغیار کی وضع اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی عزت باقی نہ رہے گی، ویسے بھی نقل اُتارنے والا خوشامدی کہلاتا ہے۔
 (۶)…دعویٰ اسلام کا، مگر لباس، کھاناپینا، معاشرت،تمدن، زبان اور طرز زندگی یہ سب کام اسلام کے دشمنوں جیسا اختیار کرنے کا معاذاللہ یہ مطلب نکلتا ہے کہ ہم غیر مسلموں کی شکل و صورت اختیار کر کے اپنے وجود اور عقائد سے غافل رہیں۔
(۷)…دوسری قوموں کا طرز زندگی اختیار کرنا اسلام اور اپنی مسلم قوم سے بے تعلقی کی دلیل ہے۔
(۸)…غیروں کی مشابہت اختیار کرنا ایمانی غیرت اور حمیت کے خلاف ہے۔
(۹)…غیروں کا مشابہت اختیار کرنے والوں کے لئے اسلامی احکام جاری کرنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں، مسلمان اس کی شکل وصورت دیکھ کرگمان کرتے ہیں کہ یہ کوئی یہودی یا عیسائی ہے۔سلام جیسی پیاری دعا سے محروم رہتا ہے، دنیا میں اس کی گواہی بھی تسلیم نہیں کی جاتی۔
(۱۰)…جو لوگ غیروں کے معاشرے کو اپنا محبوب معاشرہ بناتے ہیں وہ ہمیشہ ذلیل وخوار رہتے ہیں، کیوں کہ ایسے عشق ومحبت کی بنیاد تذلیل پر ہے یعنی عاشق کو ہمیشہ اپنے معشوق کے سامنے ذلیل وخوار بن کر رہنا پڑتا ہے۔
اس قدر مفاسد کے ہوتے ہوئے اپنے دشمنوں کے معاشرے کو پسند کرنا اور اسے عزت وشوکت کی چیز سمجھنا، انبیاء کرام ؑاور صلحائے عظام کی مشابہت سے انحراف کرکے اغیار کی مشابہت اختیار کرنا اور ان کے معاشرے میں رنگ جانا، یقینا ہماری ذلت ورسوائی، بے غیرتی اور انحطاط اور تنزلی کا سبب ہے، اس میں عزت ووقعت ہر گز نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دشمنان اسلام مسلمانوں سے خوش ہوں گے، تاوقتیکہ ان ہی کے مذہب کے پیروکار نہ بن جائیں، قرآن مجید نے صاف کہہ دیا ہے:’’اور یہود ونصاریٰ تم سے کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی اتباع نہ کرنے لگو‘‘۔(البقرۃ آیت۰۲۱)اسلام ایک نور اور کامل ومکمل مذہبِ حق وصداقت ہے اور تمام مذاہب کا ناسخ بن کر آیا ہے، وہ اپنے ماننے والوں کو کفر وشرک کی ظلمت اور تاریکی سے نکال کر نور کی طرف اور باطل سے ہٹاکر حق کی طرف اور ذلت سے ہٹا کر عزت کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ ایسے منسوخ مذاہب جو ناقص اور محرف ہوچکے ہیں، ان کے پیروؤٔں کی مشابہت اختیار کی جائے، غیروں کی مشابہت اختیار کرنا اسلامی غیرت وحمیت کے خلاف ہے۔
اسلام جس طرح اپنے اعتقادات وعبادات میں مستقل ہے کسی کا تابع دار اور مقلد نہیں، اسی طرح وہ اپنے معاشرے اور عادات میں بھی مستقل ہے، کسی دوسرے کا تابع ومقلد نہیں۔ اسلام کی نام لیوا حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت ہیں، ان کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اغیار کی ہیئت اختیار کریں جس سے دوسرے دیکھنے والوں کو اشتباہ پیدا ہو۔غالباًکسی حکومت میں ایسا نہیں ہے کہ اس سلطنت کی فوج دشمنوں کی فوج کی وردی استعمال کرے، جو سپاہی ایسا کرے گا وہ باغی قرار دیاجائے گا اور دشمن کی جماعت اپنا کوئی امتیازی لباس یا نشان اختیار کرے تو حکومت اپنے وفا داروں کو ہر گز ہرگز اس باغی جماعت کا نشان اختیار کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ اللہ کے رسول ﷺکو یہ حق حاصل نہ ہو کا فرمان مبارکہ ہے کہ جوکلمہ گو خدا کے دشمنوں کی مشابہت اختیار کرے گا اور ان ہی کی وردی اور ان ہی کا طور طریقہ اور معاشرت اختیار کرے گا تو وہ بلاشبہ انہی میں سے سمجھا جائے گا۔
قرانِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’کیا مسلمانوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور ان لوگوں کے مشابہ نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی(یعنی یہود ونصاریٰ) جن پر زمانہ دراز گزرا، پس ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے ان میں بدکار ہیں‘‘۔(حدیدآیت۶۱)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے دشمنوں کی بھونڈی نقالی اور پیروی سے ہماری حفاظت فرمائے (آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاندربل کشمیر 9469411580
e-mail:- khansajaddb@gmail.com

تازہ ترین